29.4 C
Islamabad
جمعہ, اپریل 4, 2025
ہومقومی خبریںلاہور ہائیکورٹ نے ای بسوں، موٹرسائیکلوں اور رکشوں کو الیکٹرک ٹیکنالوجی پر...

لاہور ہائیکورٹ نے ای بسوں، موٹرسائیکلوں اور رکشوں کو الیکٹرک ٹیکنالوجی پر منتقل کرنے کی رپورٹ طلب کر لی

- Advertisement -

لاہور۔31جنوری (اے پی پی):لاہور ہائیکورٹ نے سموگ اور ماحولیاتی آلودگی کے تدارک کے حوالے سے دائر درخواستوں پر جمعہ کو سماعت کی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے ہارون فاروق ، اظہر صدیق سمیت دیگر کی ایک ہی نوعیت کی دائر درخواستوں پرسماعت کی ۔

وفاقی حکومت کی جانب سے اسد باجوہ ،واسا کی طرف سے میاں عرفان اکرم اور دیگر متعلقہ محکموں کے افسران پیش ہوئے اور عدالتی حکم پر اپنی اپنی رپورٹ پیش کیں۔ دوران سماعت عدالت نے ای بسوں، موٹرسائیکلوں اور رکشوں کو الیکٹرک ٹیکنالوجی پر منتقل کرنے کی رپورٹ طلب کر لی۔ عدالت نے پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی ناقص کارکردگی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسی کارکردگی پر اس ادارے کو ختم ہو جانا چاہیے۔

- Advertisement -

سرکاری وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ عدالتی حکم پر خشک سالی کی رپورٹ وزیرِاعلی پنجاب کو بھجوا دی گئی ہے، جس پر وزیرِاعلی نے چیف سیکرٹری کو فوری طور پر تمام متعلقہ محکموں کا اجلاس بلانے کا حکم دے دیا ہے۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر اجلاس کی کارروائی کی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ حکومت کو پانی کے تحفظ کے لئے ایک اتھارٹی بنانی چاہیے جو تمام محکموں کو مانیٹر کرے۔

واٹر میٹرز کی تنصیب ضروری ہے تاکہ لوگ پانی کے استعمال میں احتیاط کریں۔جسٹس شاہد کریم نے سکولوں میں بسوں کی فراہمی سے متعلق اہم ہدایات جاری کیں،عدالت نے حکم دیا کہ ہر مالی سال میں سکولز کے لئے بسیں خریدنے کے قواعد بنائے جائیں اور سکولز اپنی سالانہ رپورٹ پیش کریں کہ انہوں نے کتنی بسیں خریدی ہیں۔ عدالت میں روڈا کو محکمہ جنگلات سے چھ ہزار ایکڑ زمین کی منتقلی کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ ممبر واٹر کمیشن نے عدالت کو آگاہ کیا کہ 2022 سے اب تک صرف 192 ایکڑ پر ترقیاتی کام ہوا ہے اور وہ بھی پی ایچ اے کے ذریعے کرایا گیا۔

عدالت نے استفسار کیا کہ پنجاب حکومت نے روڈا کو اتنی بڑی زمین کیوں دے دی، جب ان کے پاس کوئی سہولت ہی نہیں۔ عدالت نے کہا کہ یہ زمین واپس کر کے محکمہ جنگلات خود اس پر ترقیاتی کام کرے۔ عدالت نے بورڈ آف ریونیو اور روڈا کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر وضاحت طلب کر لی۔

عدا لت نے ٹولنٹن مارکیٹ پر جاری ترقیاتی کاموں کا بھی جائزہ لیا عدالت نے ہدایت دی کہ جانوروں کے لیے ایک الگ مارکیٹ بنائی جائے، جو لیز پر دی جا سکے۔عدالت نے پی ایچ اے کو حکم دیا کہ 32میں سے 4 پارک ٹھیک کئےگئے ہیں، باقی بھی کئے جائیں۔جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دیے کہ حکومت ہر چیز خود نہیں کر سکتی، نجی اداروں اور مخیر حضرات کو ان منصوبوں میں شامل کیا جائے۔عدالت نے مزید تجویز دی کہ بینکوں کو دو دو پارکس دیے جائیں، تاکہ وہ انہیں ترقی دیں اور دیکھ بھال کریں۔

عدالت نے حکم دیا کہ شجرکاری کرنے والوں کو انسینٹو (مراعات) دینے کے لیے ایک ایپلی کیشن بنائی جائے اور اس پر حکومت پنجاب سے مشاورت کی جائے۔عدالت نے مزید سماعت سات فروری تک ملتوی کرتے ہوئے تمام محکموں سے عمل درآمد رپورٹ طلب کرلی ۔

Short Link: https://urdu.app.com.pk/urdu/?p=554217

- Advertisement -
متعلقہ خبریں
- Advertisment -

مقبول خبریں