اسلام آباد۔10اکتوبر (اے پی پی):وزارت قومی ورثہ کے تعاون سے تین روزہ بلوچستان گرینڈ ٹورازم فیسٹیول کا جمعہ کے روز لوک ورثہ اسلام آباد میں آغاز ہوگیا۔اس فیسٹیول میں بلوچستان کی تہذیب و ثقافت کے حوالے سے مختلف اسٹالز لگائے گئے ہیں جن میں بلوچستان کے روایتی پکوان،لباس اور دیگر ثقافت کے حوالے سے اشیاء رکھی گئی ہیں۔اس تین روزہ فیسٹیول کا مقصدبلوچستان کی ثقافت،ٹورازم اور آرکائیوز کو اجاگر کرنا …
لوک ورثہ میں بلوچستان گرینڈ ٹورازم فیسٹیول کا آغاز ، وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز خان بگٹی نے افتتاح کیا

مزید خبریں
اسلام آباد۔10اکتوبر (اے پی پی):وزارت قومی ورثہ کے تعاون سے تین روزہ بلوچستان گرینڈ ٹورازم فیسٹیول کا جمعہ کے روز لوک ورثہ اسلام آباد میں آغاز ہوگیا۔اس فیسٹیول میں بلوچستان کی تہذیب و ثقافت کے حوالے سے مختلف اسٹالز لگائے گئے ہیں جن میں بلوچستان کے روایتی پکوان،لباس اور دیگر ثقافت کے حوالے سے اشیاء رکھی گئی ہیں۔اس تین روزہ فیسٹیول کا مقصدبلوچستان کی ثقافت،ٹورازم اور آرکائیوز کو اجاگر کرنا ہے۔تقریب کے مہمان خصوصی وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز خان بگٹی تھے جنہوں نے اس تین روزہ فیسٹیول کا افتتاح کیا۔وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی نے مہمان خصوصی کا استقبال کیا۔
اس موقع پر وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ اس فیسٹیول سے بلوچستان کی ثقافت کو بہت پزیرائی مل رہی ہے۔بلوچستان مہمان نواز لوگوں کا خطہ ہے جس طرح سے وہاں کے لوگ مہمان نواز ہیں ویسے ہی وہاں کے سمندر،پہاڑ،میدان بھی کھلے دل سے آنے والے سیاحوں کو خوش آمدید کہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں بہت سی ایسی جگہیں ہیں جنہیں وزٹ کیا جا سکتا ہے،بلوچستان میں ٹورازم اور کلچر کے حوالے سے بہت پوٹینشل موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ ٹورازم کے حوالے سے جو شراکت دار بلوچستان آئیں گے انہیں ہم یقین دلاتے ہیں کہ ان کے تمام مسائل کا ون ونڈو آپریشن کے ذریعے حل نکالا جائے گا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پارلیمانی سیکرٹری برائے ثقافت،سیاحت و قانون میر زرین خان بگٹی نے کہا کہ بلوچستان میں دنیا کے خوبصورت ترین ساحل،پہاڑ اورمیدان موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم بین الاقوامی اور قومی ڈونر ایجنسیوں اور نجی فرموں کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ آئیں اور ہمارے ساتھ قدرتی وسائل کو تلاش کرنے میں مدد کریں اور ان وسائل سے فائدہ اٹھائیں۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں گڈانی،کنڈ ملیر،گولڈن بیچ گوادر،ہنگول کے جنگلات نمایاں ہیں۔انہوں نے کہا کہ صوبہ بلوچستان میں اقلیتوں کو بھی وہی مقام حاصل ہے جو وہاں کے رہنے والوں کو حاصل ہے اور اس کی سب سے بڑی مثال ہنگول ماتا کا مندر ہے۔انہوں نے کہا کہ زیارت میں جنوپر کے جنگلات دنیا بھر میں اپنی خوبصورتی کی وجہ سے مشہور ہیں اور سیاح اس جگہ سے لطف اندوز ہونے کیلئے وزٹ کرتے ہیں۔بلیو اکانومی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے گرین ٹورازم کے منیجنگ ڈائریکٹر لیفٹیننٹ جنرل(ر) حسن اظہر حیات خان کہا کہ ہمیں مقامی آبادی کو شامل کرنے کی ضرورت ہے جس سے ٹورازم کو فروغ ملے گا،بلوچستان میں ٹورازم پولیس کا قیام ناگزیر ہے تاکہ سیاحوں کو سکیورٹی فراہم کی جا سکے اور بلوچستان کا مثبت چہرہ دکھایا جا سکے۔
بلوچستان میں سیاحت کے فروغ کیلئے مختلف ایونٹس کا آغاز کرنا چاہیے۔ہمیں سیاحت کے فروغ کیلئے کروز اور فیریز کا آغاز کرنا پڑے گا کیونکہ دنیا میں زیادہ تر ٹورازم ساحلی علاقوں میں ہے۔بلوچستان میں حکومت بلوچستان اور دیگر ادارے ملکر ریزورٹس بنا رہے ہیں۔ہنگلاج ماتا مندر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مذہبی ٹورازم کو بہت فروغ دیا جا سکتا ہے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے کہا کہ میں حکومت بلوچستان کو سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے اسلام آباد میں اس فیسٹیول کا آغاز کیا ہے اور بلوچستان کے مثبت تشخص کو اجاگر کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں بلوچستان کا مثبت چہرہ دکھانے کیلئے اس طرح کے ایونٹس کا انعقاد کرنا ہو گا۔ہر پاکستانی اپنی فیملی کیساتھ اچھی جگہوں پر جانا چاہتے ہیں جس کے لیے بلوچستان ایک اچھی جگہ ہے۔انہوں نے کہا کہ جاپان میں اسی فیصد لوگوں کے پاس پاسپورٹ نہیں ہیں لیکن وہ اپنے ملک کی خوبصورت جگہوں کو وزٹ کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم اپنے ملک میں سرمایہ کاری کریں گے تو دنیا بھی سرمایہ کاری کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں سیاحت کو فروغ دینے کیلئے تمام اسٹیک ہولڈرز کو مل بیٹھ کے اپنی اپنی آراء دے کر بلوچستان کا مثبت چہرہ پوری دنیا کے سامنے لانا ہو گا۔سیکرٹری ثقافت،سیاحت سہیل رحمان بلوچ نے تقریب کے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح سے وزارت ثقافت اور لوک ورثہ نے بلوچستان کی ثقافت کو اجاگر کرنے میں اپنا کردار ادا کیا ہے اس کے لیے شکر گزار ہوں۔







