لیبیا کی مالی صورتحال غیر پائیدار، فوری اصلاحات کی ضرورت ہے ،آئی ایم ایف کا انتباہ

عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے لیبیا کی موجودہ مالی صورتحال کو غیر پائیدار قرار دیتے ہوئے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ فوری معاشی اصلاحات کرے۔

طرابلس۔11اپریل (اے پی پی):عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے لیبیا کی موجودہ مالی صورتحال کو غیر پائیدار قرار دیتے ہوئے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ فوری معاشی اصلاحات کرے۔شنہوا کے مطابق آئی ایم ایف کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ، جو لیبیا کے مرکزی بینک کے ساتھ مشاورت کے بعد شائع کی گئی، میں کہا گیا ہے کہ مسلسل بجٹ خسارے، زر مبادلہ کی شرح پر دباؤ، زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی اور بڑھتی ہوئی مہنگائی ملک کی معیشت کے لیے سنگین خطرات پیدا کر رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق تیل کی آمدنی پر زیادہ انحصار اور بلند حکومتی اخراجات مستقبل میں مزید مشکلات کا باعث بن سکتے ہیں، خصوصاً اگر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں معمول پر آ جاتی ہیں۔آئی ایم ایف نے خبردار کیا کہ مالیاتی توازن میں بگاڑ اور غیر ملکی زر مبادلہ کی قلت سے شہریوں کے معیار زندگی پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

مزید برآں، رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2025 میں لیبیا کا بجٹ خسارہ مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے تقریباً 30 فیصد تک پہنچ چکا ہے، جبکہ گزشتہ دو برسوں کے دوران سرکاری قرضہ تقریباً دوگنا ہو کر 146 فیصد تک جا پہنچا ہے۔رپورٹ میں سرکاری اور اوپن مارکیٹ میں زر مبادلہ کی شرح کے درمیان فرق کو بھی اجاگر کیا گیا، جو اگرچہ کم ہوا ہے لیکن اب بھی معیشت پر دباؤ ڈال رہا ہے، مہنگائی میں اضافہ کر رہا ہے اور عوام کی قوت خرید کو متاثر کر رہا ہے۔

آئی ایم ایف نے اس بات پر زور دیا کہ لیبیا کے پاس معاشی بہتری کے وسیع مواقع موجود ہیں، تاہم موجودہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے فوری اور مؤثر پالیسی اقدامات ناگزیر ہیں۔

مزید خبریں