اسلام آباد۔27نومبر (اے پی پی):نگران وفاقی وزیر برائے اطلاعات ، نشریات و پارلیمانی امور مرتضیٰ سولنگی نے کہا ہے کہ ملک میں 72 لاکھ میٹرک ٹن سے زائد گندم کے ذخائر موجود ہیں ، گندم کی کوئی قلت نہیں ہے۔ پیر کو ایوان بالا کے اجلاس میں سینیٹر ثانیہ نشتر کی تحریک پر بحث سمیٹتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات و پارلیمانی امور مرتضی سولنگی نے کہا کہ ثانیہ نشتر اور دیگر سینیٹر نے بہت اہم نکات اٹھائے ہیں، پارلیمان کے اجتماعی دانش سے حکومت کو رہنمائی ملتی ہے، ایوان میں پیش کی جانے والی تجاویز بہت اچھی ہیں، کابینہ میں پیش کی جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت گندم کے ذخائر پنجاب میں 39 لاکھ 24 ہزار 367 میٹرک ٹن، سندھ کے پاس 8 لاکھ 17 ہزار 394 میٹرک ٹن، خیبرپختونخوا کے پاس دو لاکھ 15 ہزار 82 میٹرک ٹن، بلوچستان کے پاس 89 ہزار 354 میٹرک ٹن، پاسکو کے پاس 17 لاکھ 18 ہزار 177 میٹرک ٹن موجود ہے جو مجموعی طور پر 67 لاکھ 64 ہزار 374 میٹرک ٹن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گندم کے نجی ذخائر میں پنجاب کے پاس 3 لاکھ 37 ہزار 270 میٹرک ٹن، سندھ کے پاس 93 ہزار 165 میٹرک ٹن، خیبرپختونخوا کے پاس 14 ہزار 918 میٹرک ٹن، بلوچستان کے پاس 4 ہزار 157 میٹرک ٹن جو مجموعی طور پر 4 لاکھ 49 ہزار 510 میٹرک بنتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ درآمد شدہ پرائیویٹ سٹاک میں 10 لاکھ 33 ہزار 845 میٹرک ٹن ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں وافر گندم موجود ہے اور گندم کی کوئی قلت نہیں ہے، صوبوں میں امدادی قیمت مختلف ہے، پنجاب میں یہ 4600 اور سندھ میں 4700 روپے فی من ہے۔ قبل ازیں تحریک پر سینیٹر ثانیہ نشتر، سینیٹر دلاور خان، سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری، سینیٹر ڈاکٹر زرقا سہروردی تیمور، سینیٹر حاجی ہدایت اللہ اور سینیٹر رخسانہ زبیری نے بھی اظہار خیال کیا۔
Short Link: https://urdu.app.com.pk/urdu/?p=414580