متبادل تنازعاتی حل کے فروغ سے عدالتوں پر مقدمات کا بوجھ کم ہوگا، بیرسٹر عقیل ملک
متبادل تنازعاتی حل کے فروغ سے عدالتوں پر مقدمات کا بوجھ کم ہوگا، بیرسٹر عقیل ملک
اسلام آباد۔3جولائی (اے پی پی):وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے کہا ہے کہ متبادل تنازعاتی حل کے فروغ سے عدالتوں پر مقدمات کا بوجھ کم ہوگا، سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا اور انصاف تک رسائی مزید مؤثر بنائی جا سکے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت قانونی اصلاحات کے ایجنڈے پر عمل درآمد کرتے ہوئے ثالثی اور مصالحت کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے تاکہ پاکستان کو خطے میں ثالثی کا ایک مؤثر مرکز بنایا جا سکے۔
وہ جمعہ کو کومسٹیک سیکرٹریٹ اسلام آباد میں پاکستان کے پہلے بین الاقوامی سطح پر منظور شدہ ثالثی تربیتی پروگرام کے پہلے ماڈیول کی اختتامی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ یہ پروگرام وزارت قانون و انصاف کے متبادل تنازعاتی حل کو فروغ دینے اور نظام انصاف کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے پروگرام کامیابی سے مکمل کرنے والے تمام شرکاء کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اس تربیت کے ذریعے 17 شرکاء کو ثالثی کے پورے عمل، ثالثی معاہدوں سے لے کر فیصلوں پر عمل درآمد تک جامع تربیت فراہم کی گئی، جبکہ عملی مشقوں، فرضی کارروائیوں اور ثالثی فیصلے تحریر کرنے کی مہارت بھی سکھائی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ شرکاء کو پاکستان کے ثالثی قوانین کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ کے UNCITRAL Model Law اور عالمی سطح پر تسلیم شدہ ثالثی اصولوں سے بھی روشناس کرایا گیا، جبکہ یہ پروگرام پاکستان کے ایڈوانسڈ آربیٹریٹر ٹریننگ پروگرام کے پہلے ماڈیول کا کامیاب آغاز ہے۔وزیر مملکت نے کہا کہ اس اقدام سے پاکستان کی بین الاقوامی ثالثی ذمہ داریوں پر عمل درآمد مزید مضبوط ہوگا، سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوگا، عدالتوں پر مقدمات کا بوجھ کم ہوگا اور کاروبار کرنے میں آسانی پیدا ہوگی، جو ملکی معیشت اور قانونی نظام دونوں کے لیے سودمند ثابت ہوگا۔
انہوں نے انٹرنیشنل میڈی ایشن اینڈ آربیٹریشن سینٹر (IMAC) کو وزارت قانون و انصاف کے تحت اس اہم پروگرام کے کامیاب انعقاد پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان کو خطے میں ثالثی اور مصالحت کا مرکز بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔بیرسٹر عقیل ملک نے تربیت دینے والے بین الاقوامی و قومی ماہرین، جن میں کارلوس ڈیویلا، ڈاکٹر ندرت پراچہ اور بیرسٹر فاروق قریشی شامل ہیں،
کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ شرکاء کو چاہیے کہ وہ حاصل کردہ علم اور مہارت کو اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں استعمال کرتے ہوئے ملک میں متبادل تنازعاتی حل کے فروغ اور قانونی و تجارتی نظام کو مزید مضبوط بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ وزارت قانون و انصاف آئندہ بھی آئی میک کی معاونت اور ملک بھر میں کی پیشہ ورانہ تربیت کے فروغ کے لیے بھرپور تعاون جاری رکھے گی۔









