متنازع ٹویٹس کیس ،ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستوں اور این سی سی آئی اے کی متفرق درخواست کے قابل سماعت ہونے پرفیصلہ محفوظ

اسلام آباد ہائی کورٹ نے متنازع ٹویٹس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستوں اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی جانب سے دائر متفرق درخواست کے قابل سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔

اسلام آباد۔24جولائی (اے پی پی):اسلام آباد ہائی کورٹ نے متنازع ٹویٹس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستوں اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی جانب سے دائر متفرق درخواست کے قابل سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محمد اعظم خان نے کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران این سی سی آئی اے کی جانب سے سزا معطلی کی درخواستوں کے قابل سماعت ہونے پر اعتراض اٹھایا گیا۔این سی سی آئی اے کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سزا معطلی کی درخواستیں قبل از وقت دائر کی گئی ہیں، اس لیے پہلے ادارے کی متفرق درخواست پر سماعت کی جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر دوسری متفرق درخواست پہلے سنی گئی تو این سی سی آئی اے کی درخواست غیر موثر ہو جائے گی۔اس موقع پر ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ عدالت این سی سی آئی اے کی متفرق درخواست پر دلائل سن لے، وہ اس کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر این سی سی آئی اے سزا معطلی کی درخواستیں مسترد کرانے کی استدعا کر رہا ہے تو دونوں درخواستوں کو ایک ساتھ سنا جا سکتا ہے۔

جسٹس محمد اعظم خان نے فیصل صدیقی سے کہا کہ وہ پہلے تیاری کر لیں، یہ ان کے موکلوں کے حقوق کے لیے بہتر ہوگا۔ اس پر فیصل صدیقی نے کہا کہ وہ اپنے اس حق سے دستبردار ہوتے ہیں اور دلائل دینے کے لیے تیار ہیں۔فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے سزا معطلی کی درخواستوں اور این سی سی آئی اے کی متفرق درخواست کے قابل سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔سماعت کے اختتام پر جسٹس محمد اعظم خان نے ریمارکس دیئے کہ عدالت پہلے قابل سماعت ہونے سے متعلق پراسیکیوشن کی درخواست پر حکم جاری کرے گی۔

مزید خبریں