ہائبرڈ دہشت گردی، بی ایل اے کی کارروائی، بی وائی سی کا ہمدردانہ بیانیہ اور آئی ایس کے پی کا کھیل، مستونگ میں جج کی شہادت کے پس پردہ عزائم بے نقاب

ہائبرڈ دہشت گردی، بی ایل اے کی کارروائی، بی وائی سی کا ہمدردانہ بیانیہ اور آئی ایس کے پی کا کھیل، مستونگ میں جج کی شہادت کے پس پردہ عزائم بے نقاب

اسلام آباد۔24جولائی (اے پی پی):مستونگ میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی ٹارگٹڈ شہادت کی ملک گیر سطح پر سخت مذمت کی جا رہی ہے، سکیورٹی ماہرین اور تجزیہ کاروں نے دہلی اور کابل میں موجود ہینڈلرز کے زیر اثر متحرک بی ایل اے اور بی وائی سی کے گٹھ جوڑ پر مبنی بیرون ملک سے معاونت یافتہ ہائبرڈ وارفیئر سٹریٹجی کو بے نقاب کر دیا ہے۔یہ ٹارگٹڈ حملہ اس وقت کیا گیاجب عدالتی حکام کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے ۔ ولی خان بائی پاس کے قریب ان کی گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ اس حملے میں سیشن جج کاکڑ اور ان کے محافظ شہید ہو گئے جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری شدید زخمی ہوئے۔سکیورٹی تجزیہ کار اس ٹارگٹڈ کلنگ کو عدلیہ کو ہراساں کرنے، قانون کی حکمرانی کو سبوتاژ کرنے اور بلوچستان میں ریاستی اقتدار کو مفلوج کرنے کی ایک مذموم کوشش قرار دے رہے ہیں۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں کے عزم و حوصلے کو توڑنے میں ناکامی کے بعد کالعدم دہشت گرد تنظیموں نے اب عدالتی حکام، پراسیکیوٹرز اور شہری اداروں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔انٹیلی جنس ماہرین نے اس خطے میں جڑ پکڑنے والی ایک ملٹی لیئرڈ (کثیر سطحی) حکمت عملی کی نشاندہی کی ہے جس کے تحت بی ایل اے مسلح حملے، ٹارگٹڈ کلنگ اور بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنے کی کارروائیاں کرتی ہے۔ دوسری جانب بلوچستان یکجہتی کمیٹی ایک اربن پروکسی (شہری سیاسی بازو) کے طور پر کام کرتے ہوئے نظریاتی بیانیہ تیار کرتی ہے اور عوامی ہمدردی حاصل کر کے ان مسلح جنگجوئوں کو قانونی و اخلاقی احتساب سے بچانے کے لیے سیاسی تحفظ فراہم کرتی ہے۔حملے کے چند ہی گھنٹوں بعد آئی ایس کے پی جیسی بین الاقوامی دہشت گرد تنظیمیں فوری طور پر ذمہ داری قبول کر لیتی ہیں تاکہ عوام کے شدید ردعمل کو موڑ کر اصل کارروائی کرنے والے ہاتھوں کی پردہ پوشی کی جا سکے۔

مستونگ میں بی ایل اے کی مضبوط موجودگی اور جیوگرافیکل نیٹ ورک کو مدنظر رکھتے ہوئے انٹیلی جنس تجزیہ کار آئی ایس کے پی کے ان فوری دعوئوں کو ایک طے شدہ باہمی گٹھ جوڑ کا حصہ قرار دیتے ہیں جس کا مقصد اہم عدالتی یا شہری شخصیات پر حملوں کے بعد پیدا ہونے والے عوامی ردعمل کا رخ موڑنا ہے۔سکیورٹی اسیسمنٹ رپورٹس کے مطابق دہلی اور کابل میں بیٹھے بیرونی ہینڈلرز پاکستان میں اس پروکسی وار کو جاری رکھنے کے لیے لاجسٹکس، محفوظ مواصلاتی ذرائع اور مالی معاونت فراہم کر رہے ہیں۔قوم پرست جنگجو گروہوں اور بین الاقوامی دہشت گرد تنظیموں کے اس گٹھ جوڑ کے پیش نظر سکیورٹی تجزیہ کاروں نے عالمی انسداد دہشت گردی کے اداروں سے فوری اقدام کا مطالبہ کیا ہے۔ماہرین نے بین الاقوامی شراکت داروں پر زور دیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل قراردادوں کے تحت ان آپریشنل اور مالیاتی نیٹ ورکس کی تحقیقات کریں۔

مزید برآں خطے کو مزید عدم استحکام سے بچانے کے لیے ان کالعدم تنظیموں اور ان کے بیرونی مالیاتی سرپرستوں پر عالمی پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ بھی شدت اختیار کر رہا ہے۔صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے الگ الگ بیانات میں اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ریاست دہشت گردوں کے آگے ہرگز نہیں جھکے گی۔ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے شہید جج اور وکلاء برادری کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے قومی جوڈیشل ویلبینگ کانفرنس ملتوی کر دی ہے۔سکیورٹی فورسز نے مستونگ اور اس کے گردونواح میں انٹیلی جنس پر مبنی آپریشنز تیز کر دیئے ہیں جن میں متعدد دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا گیا ہے۔دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی بائیکاٹ اور تین روزہ سوگ کا اعلان کرتے ہوئے جوڈیشل افسران کے لیے سکیورٹی کے فول پروف انتظامات کا مطالبہ کیا ہے۔