سیالکوٹ۔14مارچ (اے پی پی):محکمہ زراعت سیالکوٹ نے کاشتکاروں کورواں ایام میں گندم کی فصل کی خصوصی نگہداشت کی ہدایت کی ہے اور کہاہے کہ اب جبکہ گندم تیاری کے آخری مراحل میں ہے لہٰذا کاشتکار گندم کی فصل کی نگہداشت پر خصوصی توجہ دیں اور اس ضمن میں کسی غفلت کا مظاہرہ نہ کیاجائے تاکہ گندم کی بمپر کراپ حاصل کرنے میں مدد مل سکے۔ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ زراعت (توسیع) سیالکوٹ ڈاکٹر رانا قربان علی خان نے اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ کاشتکار گندم کو دوسراپانی گو بھ کے وقت ضرور لگائیں کیونکہ اس وقت سٹہ پودے سے باہر نکلنے کے مراحل میں ہے لہٰذا اگر اس موقع پر پانی نہ دیاجائے یا آبپاشی میں تاخیر کی جائے تو سٹوں میں دانوں کی تعداد کم ہو اور دانے چھوٹے رہ جانے کا خدشہ ہوتاہے۔
انہوں نے کہاکہ اگر فصل دیر سے کاشت کی گئی ہو اور اس میں سفارش کردہ یوریا کی مقدار نہ ڈالی گئی ہو اور فصل کا رنگ پیلا ہو تو دوکلوگرام یوریا 100لیٹر پانی میں ملا کر اس کا فوری سپرے کر دینا چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ بارانی علاقوں میں 2کلوگرام یوریاکے ساتھ 2کلوگرام سلفیٹ آف پوٹاش یا میوریٹ آف پوٹاش بھی شامل کرناضروری ہے۔انہوں نے بتایا کہ جدید تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اگر نائٹروجن کھاد کو فاسفورس کھاد کے ساتھ 1:1یا کیلشیم امونیم نائٹریٹ کھاد کے ساتھ 1:1.5 کی شرح کے ساتھ مکس کر کے استعمال کیا جائے تو اس کے بہترین نتائج کے حصول سمیت گندم کی 10فیصد بلکہ اس سے بھی زیادہ اضافی پیداوار کا حصول ممکن ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ زرعی ماہرین نے انتہائی کامیابی کے ساتھ مذکورہ طریقہ دریافت کیا ہے جس کے استعمال سے زیادہ پیداوار حاصل کر کے عام حالات کے باوجود قومی معیشت میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ شو ر زدہ زمین میں این ایچ 4 اور این او 3 کو ملا کر استعمال کرنے سے گندم کی پیداوار میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہاہے کہ مختلف فصلوں کی کاشت اور ان کی فی ایکڑ بھر پور پیداوار کے حصول سمیت اراضی کی ذرخیزی کیلئے استعمال کی جانے والی نائٹروجن یوریا کھاد کی 30فیصد مقدار بخاراتی شکل میں ضائع اور گیس کی صورت میں ہوا میں تحلیل ہو جاتی ہے جس کے باعث نائٹروجن کی صلاحیت میں بھی خاطر خواہ کمی و اقع ہوتی ہے اور نتیجتاً توقعات کے مطابق فصل حاصل نہیں ہوتی۔
انہوں نے بتایاکہ یوریا پاکستان میں نائٹروجن کھاد بہت اہم ہے اور مختلف فصلات کی کاشت سمیت زمین کو زرخیز اور زیادہ پیداوار کی فراہمی کے قابل بنانے کیلئے اس کا استعمال عام ہے لیکن جب یہ کھاد کھیتوں کھلیانوں میں استعمال کی جاتی ہے تو اس کی 30 فیصد مقدار گیس کی صورت میں بخارات بن کر تحلیل ہو جاتی ہے اور اس سے اس کے مطلوبہ نتائج میں بھی کمی واقع ہوتی ہے۔انہوں نے کہاکہ کاشتکار مزید رہنمائی کیلئے ماہرین زراعت یا محکمہ زراعت کے فیلڈسٹاف سے بھی رابطہ کرسکتے ہیں۔
Short Link: https://urdu.app.com.pk/urdu/?p=572461