محکمہ زراعت کی دھان کی فصل کے آخری مراحل کے دوران بہترنگہداشت بارے سفارشات جاری

ملتان۔ 10 اکتوبر (اے پی پی):محکمہ زراعت پنجاب نے دھان کی فصل کے آخری مراحل کے دوران بہتر نگہداشت بارے سفارشات جاری کر دیں۔ترجمان محکمہ زراعت کے مطابق دھان کے کاشتکار زرعی زہروں کا محفوظ استعمال یقینی بنائیں۔ نقصان دہ کیڑوں اور بیماریوں کے تدارک کے لیے صرف سفارش کردہ اور محفوظ زہریں ہی استعمال کی جائیں جبکہ ممنوعہ زہریں ہرگز استعمال نہ کریں۔ زہروں کے استعمال اور فصل کی …

ملتان۔ 10 اکتوبر (اے پی پی):محکمہ زراعت پنجاب نے دھان کی فصل کے آخری مراحل کے دوران بہتر نگہداشت بارے سفارشات جاری کر دیں۔ترجمان محکمہ زراعت کے مطابق دھان کے کاشتکار زرعی زہروں کا محفوظ استعمال یقینی بنائیں۔ نقصان دہ کیڑوں اور بیماریوں کے تدارک کے لیے صرف سفارش کردہ اور محفوظ زہریں ہی استعمال کی جائیں جبکہ ممنوعہ زہریں ہرگز استعمال نہ کریں۔ زہروں کے استعمال اور فصل کی برداشت کے درمیان وقفہ لازمی مدنظر رکھا جائے ۔ زیادہ موزوں طور پربہتر نتائج کے لیے حیاتیاتی بنیاد پر تیار کردہ زہر یں استعمال کرنا زیادہ مؤثر اور محفوظ ہے۔

ترجمان محکمہ زراعت پنجاب نے مزید کہا ہے کہ دھان کی فصل کی برداشت اس وقت کریں جب بالائی دانے مکمل طور پر پک چکے ہوں اور نچلے دو تا تین دانے بھر چکے ہوں مگر ہلکے سبز ہوں۔ اس مرحلے پر دانوں میں نمی کا تناسب 20 تا 22 فیصد ہونا چاہیے۔ برداشت کے لیے ترجیحاً رائس ہارویسٹر(کیوٹا ٹائپ)مشین استعمال کریں، تاہم اگر دستیاب نہ ہو تو کمبائن ہارویسٹر میں مناسب ایڈجسٹمنٹ کر کے استعمال کریں تاکہ دانے ٹوٹنے سے بچ سکیں اور پیداوار و معیار متاثر نہ ہو۔

کٹائی کا عمل شبنم ختم ہونے کے بعد شروع کریں۔ برداشت کے بعد مونجی کو بڑے ڈھیروں میں جمع نہ کریں کیونکہ اس سے ایفل ٹاکسن لگنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے جو چاول کے معیار، قیمت اور قبولیت پر منفی اثر ڈالتا ہے۔ مونجی کو اچھی طرح سکھا کر محفوظ کریں اور ذخیرہ کرتے وقت نمی کا تناسب 12 تا 13 فیصد سے زیادہ نہ ہونے دیں۔ترجمان محکمہ زراعت پنجاب نے دھان کے کاشتکاروں کو متنبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت پنجاب کی اینٹی اسموگ مہم کے تحت فصل کی باقیات کو آگ لگانے پر مکمل پابندی عائد ہے۔

فصل کی باقیات کو جلانے سے زمین میں موجود نامیاتی مادہ اور مفید جاندار ختم ہو جاتے ہیں جبکہ اس کی باقیات سے اٹھنے والا دھواں فضائی آلودگی اور سموگ کا باعث بنتا ہے، جو انسانی صحت اور ٹریفک حادثات کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ اس ضمن میں قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔