اسلام آباد۔13فروری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی نے پاکستان کی مادری زبانوں کے ادبی میلے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہےکہ ہم وفاقی ثقافتی اداروں کا دائرہ کار تمام صوبوں تک پھیلانے کے لیے پرعزم ہیں تاکہ مختلف زبانوں کے درمیان مکالمے اور تعاون کو فروغ دیا جا سکے۔ میلے کا انعقاد پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس کے تعاون سے انڈس کلچرل …
مختلف زبانوں کے درمیان مکالمے اور تعاون کے فروغ کے لئے وفاقی ثقافتی اداروں کا دائرہ کار تمام صوبوں تک پھیلانے کے لیے پرعزم ہیں ،وفاقی وزیر اورنگزیب خان کھچی

مزید خبریں
اسلام آباد۔13فروری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی نے پاکستان کی مادری زبانوں کے ادبی میلے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہےکہ ہم وفاقی ثقافتی اداروں کا دائرہ کار تمام صوبوں تک پھیلانے کے لیے پرعزم ہیں تاکہ مختلف زبانوں کے درمیان مکالمے اور تعاون کو فروغ دیا جا سکے۔ میلے کا انعقاد پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس کے تعاون سے انڈس کلچرل فورم کے زیر اہتمام کیا گیا جس میں ملک بھر سے 140 سے زائد ادیبوں، فنکاروں، شاعروں، اسکالرز اور زبان کے حقوق کے کارکنوں کو اکٹھا کیا گیا ہے۔ اورنگزیب کھچی نے کہا کہ تمام زبانوں کے ساتھ یکساں سلوک کیا جانا چاہئے چاہے وہ کتنے بھی لوگ بولتے ہوں۔ انہوں نے کہا کہ یہ میلہ پاکستان کی اصل شناخت کی نمائندگی کرتا ہے۔
تقریب سے خطاب میں بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے صدر ڈاکٹر احمد سعد ناصر الاحمد نے کہا کہ اس فیسٹیول کے ساتھ ہماری شراکت اس لسانی تنوع کو تقویت دیتی ہے جس کی ہماری یونیورسٹی نمائندگی کرتی ہے،ہمارا ماننا ہے کہ زبانوں اور تعلیم کا ثقافت سے گہرا تعلق ہے۔ زبانیں صدیوں پرانی تہذیب سے جڑی بھرپور روایت اور ثقافت رکھتی ہیں۔اکادمی ادبیات پاکستان کی چیئرپرسن ڈاکٹر نجیبہ عارف نے کہا کہ یہ میلہ ملک بھر سے پاکستان میں موسم بہار کے حقیقی رنگ لاتا ہے اور اسلام آباد کے ثقافتی منظر نامے کو نیا رنگ دیتا ہے۔ گلوبلائزیشن نے زبانوں کو طبقاتی نظام میں تقسیم کر کے کچھ زبانوں کو دوسروں سے زیادہ طاقتور بنا دیا ہے اور انہیں چھوٹی اور بڑی زبانوں میں تقسیم کر دیا ہے۔
زبانوں کا یہ جبر ہمیں اپنی مقامی سوچ اور بیان کرنے کے طریقوں سے دن بدن محروم کر رہا ہے۔ زبان درحقیقت انسانیت کی تاریخ ہے کیونکہ یہ لوگوں میں حکمت اور علم کی پرورش کی ذمہ دار ہے۔یونیسکو کی بین الاقوامی ماہر برائے ثقافت اور ورثہ ڈاکٹر کرسٹینا مینیگازی نے اپنے خطاب میں کہا کہ میلہ لوگوں کو جوڑنے کے لیے زبانوں کی طاقت کا ثبوت ہے۔ ڈیجیٹل تبدیلی کے دور میں زبانوں کا تحفظ ضروری ہے۔ ڈیجیٹل اختراع سے زبانوں کو کمزور نہیں بلکہ مضبوط ہونا چاہیے۔ مقامی زبانوں کا فروغ یونیسکو کے مرکزی دائرہ کار کا حصہ ہے۔ زبانوں کا پائیدار ترقی کے ساتھ مضبوط تعلق ہے کیونکہ زبانیں مقامی زبانوں میں علم کا اہم ذریعہ ہیں۔انڈس کلچرل فورم کے چیئرمین نصیر میمن نے کہا کہ ہم سب زبانوں کو درپیش چیلنجز سے آگاہ ہیں لیکن ان کی بقاء کا انحصار صرف حکومت پر نہیں ہے بلکہ زبانیں بولنے والوں کو ذمہ داری اور ملکیت کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
تقریب میں مختلف پاکستانی زبانوں کے 12 لیجنڈز کو زبان، فن اور ثقافت کے لیے ان کی شاندار خدمات پر لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے نوازا گیا۔ وفاقی وزیر اورنگزیب خان کھچی اور دیگر مہمانوں نے لیجنڈز کو ایوارڈز سے نوازا۔ جن میں رائے محمد خان ناصر (پنجابی)، ڈاکٹر عبدالصبور بلوچ (بلوچی)، ایاز گل (سندھی)، علی محمد فرشی (اردو)، طاہرہ احساس جتک (براہوئی)، ممتاز غزنی (پہاڑی)، مخلص وجدانی (گوجری)، ڈاکٹر ہمایون ہما (پشتو)، عاشق خان بزدار (سرائیکی)، محمد حنیف (ہندکو)، یاسر کیانی (پوٹھوہاری) اور حاجی ملا ادینہ شاہ (گورباتی) شامل ہیں۔
اگلے دو دن کتابوں کی رونمائی، کثیر لسانی مشاعرہ، تھیٹر پرفارمنس اور موسیقی کی محفلوں کے ساتھ ساتھ رقص سمیت مختلف ادبی اور ثقافتی پروگراموں کا انعقاد کیا جائے گا۔میلہ میں داخلہ مفت ہے ،منتظمین اسلام آباد، راولپنڈی اور گردونواح کے رہائشیوں، خاص طور پر نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ وہ اپنے ثقافتی لباس میں خاندانوں اور دوستوں کے ساتھ آئیں اور پاکستان کے لسانی تنوع کے منفرد رنگوں کا تجربہ کریں۔ مزید معلومات کے لیے انڈس کلچرل فورم کا فیس بک پیج دیکھیں۔








