وفاقی وزیر احد چیمہ کی سول سروس کی تربیت اور این ایس پی پی کے نصاب کو تحقیق کی بنیاد پر ازسرنو تشکیل دینے کی ہدایت

وفاقی وزیر اقتصادی امور و اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سینیٹر احد چیمہ نے سول سروس کی تربیت اور این ایس پی پی کے نصاب کو تحقیق کی بنیاد پر ازسرنو تشکیل دینے کی ہدایت کی ہے۔انہوں نے یہ ہدایات پیرکویہاں نیشنل سکول آف پبلک پالیسی (این ایس پی پی)کی تربیتی ضروریات کے تجزیے سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جاری کیں ۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد باصلاحیت، …

اسلام آباد۔24اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر اقتصادی امور و اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سینیٹر احد چیمہ نے سول سروس کی تربیت اور این ایس پی پی کے نصاب کو تحقیق کی بنیاد پر ازسرنو تشکیل دینے کی ہدایت کی ہے۔انہوں نے یہ ہدایات پیرکویہاں نیشنل سکول آف پبلک پالیسی (این ایس پی پی)کی تربیتی ضروریات کے تجزیے سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جاری کیں ۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد باصلاحیت، ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ اور نتائج پر مبنی سول سروس کی تشکیل ہے۔

اجلاس میں سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور این ایس پی پی و اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے سینئر حکام نے شرکت کی۔سینیٹر احد چیمہ نے کہا کہ حکومت این ایس پی پی کے مینجمنٹ کورسز کے ڈھانچے اور نصاب میں مستند تحقیق کی بنیاد پر اصلاحات کرے گی، ہم ایک ایسی باصلاحیت، اہلیت پر مبنی سول سروس چاہتے ہیں جو قابل پیمائش نتائج دے اور شہریوں کو بہتر خدمات فراہم کرے۔سینئر حکام اور کنسلٹنٹ نے وفاقی وزیر کو شواہد پر مبنی مجوزہ جائزے کے بارے میں بریفنگ دی۔ اس جائزے کے ذریعے قابلیت اور مہارت کے اہم خلا کی نشاندہی کی جائے گی اور یہ تعین کیا جائے گا کہ موجودہ تربیت افسران کی عملی کارکردگی، اداروں کی مضبوطی اور عوامی خدمات کے بہتر نتائج میں کس حد تک معاون ثابت ہو رہی ہے۔

بریفنگ کے بعد سینیٹر احد چیمہ نے ہدایت کی کہ اس مشق کے دائر کار کو ازسرنو مرتب کیا جائے تاکہ یہ جامع نصابی اصلاحات اور جدید، نتائج پر مبنی سول سروس تربیتی نظام کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کر سکے۔وفاقی وزیر نے زور دیا کہ اس تجزیے کے ذریعے سول افسران کے پیشہ ورانہ سفر کے مختلف مراحل پر ان کی حقیقی تربیتی ضروریات کی نشاندہی کی جائے، ہر پروگرام کے لیے مطلوبہ مہارتوں کا واضح تعین کیا جائے، موزوں قابلیت و اہلیت کا فریم ورک تشکیل دیا جائے اور موثر نظام حکومت کے لیے درکار ڈیجیٹل، ڈیٹا اور ٹیکنالوجی سے متعلق صلاحیتوں کا تعین کیا جائے۔انہوں نے ہدایت کی کہ جائزے کے دوران یہ دیکھا جائے کہ تربیتی پروگرام افسران کی عملی ذمہ داریوں اور قومی ترجیحات سے کس حد تک ہم آہنگ ہیں۔

جائزے میں پالیسیوں اور اصلاحات پر عمل درآمد، قیادت، اخلاقیات، احتساب، ادارہ جاتی رابطہ کاری، تربیتی گروپس کی تشکیل اور باہمی سیکھنے کے عمل کا بھی احاطہ کیا جائے۔ اس کے علاوہ تربیت سے قبل جائزے، مہارتوں کی بنیاد پر درجہ بندی اور ضروریات کے مطابق مخصوص تربیتی طریقہ کار کا بھی تعین کیا جائے۔سینیٹر احد چیمہ نے کہا کہ سول افسران کی استعداد کار میں اضافہ صرف موجودہ لازمی تربیتی پروگراموں تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ انہوں نے ڈیجیٹل گورننس، مصنوعی ذہانت، ڈیٹا کی بنیاد پر فیصلہ سازی، پبلک پالیسی کی تشکیل، منصوبہ جاتی و مالیاتی انتظام، ریگولیٹری گورننس، بحرانی انتظام اور موثر عوامی ابلاغ کے شعبوں میں اضافی خصوصی اور مختصر دورانیے کے کورسز متعارف کرانے پر زور دیا۔انہوں نے مزید ہدایت کی کہ تربیتی فریم ورک میں کیس سٹڈیز، عملی مشقوں، مسائل کے حل پر مبنی سرگرمیوں، فیلڈ اسائنمنٹس اور ٹیکنالوجی سے معاونت یافتہ تدریس سمیت جدید طریق تدریس شامل کیے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ تربیت کی افادیت کو محض شرکت یا کورس کی تکمیل کے بجائے ملازمت کی کارکردگی، پالیسیوں پر عمل درآمد، ادارہ جاتی رابطہ کاری اور عوامی خدمات کی فراہمی میں نمایاں بہتری کی بنیاد پر جانچا جانا چاہیے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ یہ جائزہ مستند تحقیق اور تسلیم شدہ قومی و بین الاقوامی فریم ورکس کی بنیاد پر تیار کیا گیا ہے۔ اس کے طریق کار میں این ایس پی پی کے کورسز کے نصاب اور لیڈرشپ اسکلز فریم ورک، ادارے کی انتظامیہ سے مشاورت، قیادت سے متعلق بین الاقوامی تحقیق، اور تربیتی ضروریات و نتائج کے جائزے کے مستند ماڈلز سے استفادہ کیا گیا ہے۔

اس مشق میں تربیتی کورسز کے شرکا، فیکلٹی اراکین اور متعلقہ شراکت داروں کے 385 سے زائد منظم سرویز، این ایس پی پی کی اعلی انتظامیہ کے انٹرویوز اور تین سے چار فوکس گروپ مباحثے شامل ہوں گے۔ مختلف ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات اور نتائج کی باہمی توثیق کی جائے گی تاکہ قابل اعتماد، عملی اور قابلِ نفاذ سفارشات مرتب کی جا سکیں۔

بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ کرک پیٹرک تربیتی جائزہ ماڈل کے تحت یہ تجزیہ محض شرکا کے اطمینان کی جانچ تک محدود نہیں رہے گا بلکہ افسران کے عملی طرز عمل، ملازمت کی کارکردگی اور عوامی خدمات کے نتائج میں آنے والی تبدیلیوں کا بھی جائزہ لے گا۔ این ایس پی پی کے پروگراموں کا دنیا کے چار سے پانچ نمایاں سرکاری تربیتی اداروں کے ساتھ تقابلی جائزہ بھی لیا جائے گا۔

کنسلٹنٹ نے وفاقی وزیر کو یقین دہانی کرائی کہ اس مشق کے ذریعے قابلیت و مہارت کے موجودہ خلا اور ادارہ جاتی چیلنجز کی نشاندہی کرکے اصلاحات کے لیے شواہد پر مبنی واضح لائح عمل پیش کیا جائے گا۔سینیٹر احد چیمہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایک پیشہ ور، ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ اور عوام دوست سول سروس کی تشکیل حکومتِ پاکستان کی اہم ترجیح ہے۔ انہوں نے تمام متعلقہ فریقوں کو نصاب کو جدید بنانے، تربیتی مواقع میں اضافہ ، ادارے کی مضبوطی اور پاکستان کے عوام کو بہتر خدمات فراہم کرنے کیلئے قریبی رابطے سے کام کرنے کی ہدایت کی ۔