خواتین پارلیمانی کاکس کے ارکان نے قومی کمیشن برائے وقار نسواں (این سی ایس ڈبلیو) کی چیئرپرسن نورین بانو لہڑی سے ملاقات کی جس میں ملک بھر بالخصوص گزشتہ دس روز کے دوران راولپنڈی اور اسلام آباد میں خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ملاقات میں حنا جاوید کے افسوسناک قتل کے واقعے پر خصوصی طور پر تفصیلی غور کیا گیا۔
قومی کمیشن برائے وقار نسواں کی چیئرپرسن نورین بانو لہڑی سے خواتین پارلیمانی کاکس کے ارکان کی ملاقات
اسلام آباد۔24اگست (اے پی پی):خواتین پارلیمانی کاکس کے ارکان نے قومی کمیشن برائے وقار نسواں (این سی ایس ڈبلیو) کی چیئرپرسن نورین بانو لہڑی سے ملاقات کی جس میں ملک بھر بالخصوص گزشتہ دس روز کے دوران راولپنڈی اور اسلام آباد میں خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ملاقات میں حنا جاوید کے افسوسناک قتل کے واقعے پر خصوصی طور پر تفصیلی غور کیا گیا۔
چیئرپرسن قومی کمیشن برائے وقار نسواں ، خواتین پارلیمانی کاکس کی ممبران اوررکن قومی اسمبلی شاہدہ رحمانی نے اس واقعے پر سخت اور دوٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ حنا جاوید کیس سمیت راولپنڈی، اسلام آباد، بلوچستان اور ملک کے دیگر حصوں میں خواتین کے خلاف حالیہ جرائم کی فوری، شفاف، غیرجانبدارانہ اور مکمل تحقیقات یقینی بنائی جائیں جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہر ممکن تعاون اور وسائل فراہم کیے جائیں تاکہ حقائق سامنے لائے جا سکیں اور ذمہ دار عناصر کو قرارواقعی سزا دلائی جا سکے۔خواتین پارلیمانی کاکس نے عزم ظاہر کیا کہ حنا جاوید کیس اور خواتین کے خلاف حالیہ تشدد کے دیگر واقعات کو پارلیمان کے ایوانوں میں بھرپور انداز میں اٹھایا جائے گا اور حکومت و متعلقہ اداروں سے جوابدہی کے ساتھ ساتھ موثر قانونی کارروائی اور خواتین کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کا مطالبہ کیا جائے گا۔
ملاقات میں این سی ایس ڈبلیو کے کمپلینٹ منیجمنٹ سسٹم کو مزید موثر، قابل رسائی اور ملک گیر سطح پر مضبوط بنانے، خواتین کو فوری شکایتی، قانونی و حفاظتی معاونت فراہم کرنے اور کمیشن کی ادارہ جاتی و تکنیکی استعداد کار بڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ پارلیمانی کاکس کے ارکان نے این سی ایس ڈبلیو کی استعداد کار اور ادارہ جاتی استحکام کے لیے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی۔خواتین پارلیمنٹیرینز کو این سی ایس ڈبلیو کے 2026–2029 سٹریٹیجک پلان کے اہم اہداف اور ترجیحات پر بھی بریفنگ دی گئی۔ پارلیمانی کاکس کے ارکان نے یقین دلایا کہ خواتین کے حقوق، تحفظ، انصاف اور بااختیار بنانے سے متعلق پالیسیوں کے موثر نفاذ کے لیے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے فورمز سے ہر ممکن سیاسی و پارلیمانی تعاون جاری رکھا جائے گا۔
رکن قومی اسمبلی شاہدہ رحمانی نے چیئرپرسن این سی ایس ڈبلیو نورین بانو لہڑی کی خواتین کے حقوق کے تحفظ، فوری انصاف اور تشدد کا شکار خواتین کے لیے موثر اقدامات کے حوالے سے جاری انتھک کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ اور خواتین پارلیمانی کاکس کی ارکان پاکستان کی خواتین کو مضبوط، محفوظ اور بااختیار بنانے کی ان کوششوں کی بھرپور حمایت جاری رکھیں گی۔ملاقات میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ خواتین کو تشدد، امتیازی رویوں، پدرانہ سوچ، ناانصافی اور دیگر غیر انسانی حالات سے تحفظ فراہم کرنا ریاست، پارلیمان اور تمام متعلقہ اداروں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ خصوصاً جیلوں میں موجود خواتین اور زندگی کے مختلف شعبوں میں ناانصافی کا سامنا کرنے والی خواتین کے مسائل کے حل کے لیے موثر نگرانی، قانونی معاونت اور فوری انصاف کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔
نورین بانو لہڑی نے واضح کیا کہ خواتین کے خلاف تشدد کے کسی بھی واقعے پر خاموشی اختیار نہیں کی جا سکتی۔ این سی ایس ڈبلیو ہر متاثرہ خاتون کے ساتھ کھڑا ہے اور خواتین کے تحفظ، انصاف اور وقار کے لیے متعلقہ اداروں، پارلیمان اور سول سوسائٹی کے ساتھ مل کر ہر ممکن اقدام جاری رکھے گا۔ملاقات میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ خواتین کے خلاف تشدد کے ہر واقعے کی موثر تحقیقات، مجرموں کا احتساب، متاثرہ خواتین کو انصاف اور تحفظ کی فراہمی اور ایک محفوظ و باوقار پاکستان کی تشکیل کے لیے مشترکہ کوششیں مزید تیز کی جائیں گی۔









