21.6 C
Islamabad
جمعرات, اپریل 3, 2025
ہومقومی خبریںمسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں حل ہونا چاہئے،...

مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں حل ہونا چاہئے، اقوام متحدہ تنازعہ کشمیر کے حل کیلئے کردار ادا کرے، مشعال حسین ملک

- Advertisement -

اسلام آباد۔29نومبر (اے پی پی):وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے انسانی حقوق مشعال حسین ملک نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں حل ہونا چاہئے، اقوام متحدہ تنازعہ کشمیر کے حل کیلئے کردار ادا کرے۔ وہ بدھ کو فرینڈز آف کشمیر انٹرنیشنل اور کے ایم ایس کے زیر اہتمام کشمیر ہاؤس میں منعقد ہ سیمینار سے خطاب کر رہی تھیں۔ سیمینار سے نگران وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مرتضیٰ سولنگی ، سینیٹر مشاہد حسین سید ، سینیٹر دنیش کمار ، نگران وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق خلیل جارج ، سابق صدر آزاد کشمیر سردار یعقوب خان، چیئرپرسن فرینڈز آف کشمیر غزالہ حبیب، حریت رہنما فاروق رحمانی، الطاف وانی، عبدالحمید لون ، جے سالک، فیض نقشبندی ، وقار حسن، حسن ابراہیم، فاور دیگر نے خطاب کیا۔

مشعال حسین ملک نے کہا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق ہر ایک کو مذہب اور اپنے خیالات کےا ظہار کی آزادی حاصل ہے، یہ قوانین ہر مذہب کے پیروکاروں کو تحفظ فراہم کرتے ہیں، یہاں تک کہ بھارتی آئین میں بھی اس کا ذکر موجود ہے اور اس نے اقلیتوں کے تحفظ کے چارٹر پر دستخط بھی کر رکھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے 2014 کے بعد جب مودی کی سربراہی میں حکومت بنی تب سے بھارت میں ہندو توا سیاست پروان چڑھی ہے، اس کے بعد کا وقت ہمارے لئے بھی انتہائی مشکل ہے، میرے شوہر سمیت تمام حریت قیادت کو جیلوں میں بند رکھا گیا ہے، انہیں جیلوں میں زہر بھی دیا جا رہا ہے، اشرف صحرائی اور سید علی گیلانی حراست میں زندگی کی بازی ہا رگئے۔

- Advertisement -

انہو ں نے کہا کہ اس کے علاوہ بھار ت میں اقلیتوں کے ساتھ مظالم عام ہیں، ان کی ٹارگٹ کلنگ اور ان کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیاں معمول ہیں، کینیڈا میں سکھ رہنما کی ٹارگٹ کلنگ ہوئی، اسی طرح پاکستان میں بھی سکھ رہنماء پرم جیت، لندن میں اتارسنگھ، ہردیپ سنگھ کو کینیڈامیں نشانہ بنایا گیا جبکہ اس کے ساتھ ساتھ امریکہ میں کلیدی سکھ قیادت کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی سامنے آئی۔ اس کے علاوہ پاکستان میں موجود کشمیریوں کو نشانہ بنایا گیا ۔

انہوں نے کہا کہ مسلمانوں ، سکھوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف 2021 میں 294 نفرت انگیز جرائم کا بھارت مرتکب ہوا، ہزاروں چرچز کو نشانہ بنایا گیا، مسیحیوں کو زبردستی مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے، آر ایس ایس دہشت گردی کی مختلف کارروائیوں میں ملوث ہے، آر ایس ایس بھارت میں ہندو بالادستی کے قیام کیلئے نفرت انگیز اقدامات اٹھا رہی ہے ، آر ایس ایس نے متوازی فوج بنا رکھی ہے جو نہ صرف بھارت بلکہ اس خطے اور پوری دنیا کیلئے خطرہ ہے کیونکہ دنیا نیتن یاہو اور مودی جیسے فاشسٹ لیڈروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کر رہی، عالمی قوانین ، جنیوا کنونشن اور انسانیت کے حوالے سے قوانین پر عملدرآمد نہ ہونے کی وجہ سے بھارت ایک ایسی سرزمین بن چکا ہےجہاں پر کسی بھی مذہب اور ذات سے تعلق رکھنا والا انسان محفوظ نہیں ہے، اس سب کیلئے ریاستی سرپرستی کی جا رہی ہے۔

نگران وزیر انسانی حقوق خلیل جارج نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت میں اقلیتوں پر جو ظلم ہو رہا ہے اور جو منی پور کا واقعہ ہوا ہے وہ شرمناک اور افسوسناک ہیں، اسی طرح مقبوضہ کشمیر میں بھی ماؤں ،بہنوں کے ساتھ افسوسناک ظلم و ستم روا رکھا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ ہونے والے مظالم میں ریاست براہ راست ملوث ہے، بھارت کشمیریوں کو ان کے حق خود ارادیت سے پیچھے نہیں ہٹا سکتا ، پاکستان میں اقلیتوں کے حوالے سے حالات بھارت سے سوگنا بہتر ہیں، بھارت اقلیتوں کے حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث ہے یہ خلاف ورزیاں بند ہونی چاہئیں۔

انہوں نے کہا کہ بھارت سمیت او آئی سی اور دیگر انسانی حقوق کی تنظیمیں کشمیر میں ہونے والے ظلم و ستم کا نوٹس لیں ۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کا میڈیا جھوٹا پروپیگنڈا کرتا ہے ، منی پور واقعہ کے بعد بھارت جڑانوالہ میں واقعہ میں ملوث ہوا ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے دشمن کو پہچاننا ہے ،کشمیر ہماری شہ رگ ہی نہیں بلکہ ہمارا دل ہے ۔

حریت رہنما ءالطاف وانی نے کہا کہ بھارت میں بی جے پی اور آر ایس ایس مذہبی منافرت پھیلا رہے ہیں، بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ ظلم و جبر پر عالمی سطح پر رپورٹس منظر عام پر آئی ہیں ، اقلیتوں کے تحفظ کی بین الاقوامی تنظیموں ، او آئی سی اور دیگر تنظیموں نے آر ایس ایس اور بی جے پی کو شدت پسند قرار دینے اور پابندی لگانے کا مطالبہ بھی کیا ، بھارت کی موجودہ بی جے پی کی حکومت مقبوضہ کشمیر میں 5اگست کے اقدام سے بے نقاب ہوئی ہے ، بھارت مقبوضہ کشمیر کے اندر مسلمانوں کی اکثریت اور آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کی کوشش کررہا ہے ۔

سینیٹر دنیش کمار نے کہا کہ پاکستان میں مکمل مذہبی آزادی ہے، بھارت جیسے مظالم پاکستان میں حکومت برداشت نہیں کرتی ، جڑانوالہ واقعہ کے بعد حکومتی نمائندے خود وہاں پہنچے ، کشمیری پاکستان کا کیس لڑ رہے ہیں ، ہم کشمیریوں کی عزت کرتے ہیں، کشمیری پاکستان کے لئے قربانیاں دے رہے ہیں۔

Short Link: https://urdu.app.com.pk/urdu/?p=415068

- Advertisement -
متعلقہ خبریں
- Advertisment -

مقبول خبریں