اسلام آباد۔8ستمبر (اے پی پی):مسابقتی کمیشن آف پاکستان نے کارٹلز اور گمراہ کن کاروباری حربوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے اور عدالتوں میں زیر التواء مقدمات کی فعال پیروی اور فیصلوں کے نتیجے میں ایک ارب روپے سے زائد کے جرمانوں کی ریکوری کی ہے۔ پبلک اکائونٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی نے مسابقتی کمیشن کی اس کارکردگی کو سراہا اور بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی۔پیر کے روز مسابقتی کمیشن …
مسابقتی کمیشن کی ایک ارب روپے سے زائد وصولیاں، پبلک اکائونٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کی شاباش

مزید خبریں
اسلام آباد۔8ستمبر (اے پی پی):مسابقتی کمیشن آف پاکستان نے کارٹلز اور گمراہ کن کاروباری حربوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے اور عدالتوں میں زیر التواء مقدمات کی فعال پیروی اور فیصلوں کے نتیجے میں ایک ارب روپے سے زائد کے جرمانوں کی ریکوری کی ہے۔ پبلک اکائونٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی نے مسابقتی کمیشن کی اس کارکردگی کو سراہا اور بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی۔پیر کے روز مسابقتی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق سب کمیٹی کا اجلاس رکن قومی اسمبلی شاہدہ بیگم کی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس میں چیئرمین مسابقتی کمیشن ڈاکٹر کبیر احمد سدھو نے کمیشن کی حالیہ کارکردگی پر تفصیلی بریفنگ دی۔ڈاکٹر سدھو نے کمیٹی کو بتایا کہ کمیشن کی فعال پیروی کی بدولت عدالتوں میں زیر التواء مقدمات میں سے 50 فیصد سے زائد کے فیصلے ہو گئے ہیں اور مقدمات کی تعداد 567 سے کم ہو کر 280 رہ گئی ہے اور ان کے نتیجے میں ایک ارب روپے کی ریکوری عمل میں آئی۔
مزید بتایا گیا کہ کمیشن نے گزشتہ برس کارٹلز کے خلاف 14 فیصلے جاری کیے اور ایک ارب روپے سے زائد کے جرمانے عائد کیے گئے۔ اس کے علاوہ 20 انکوائریاں کارٹلز اور اجارہ داری کے غلط استعمال پر جبکہ 18 انکوائریاں گمراہ کن مارکیٹنگ پر مکمل کی گئیں۔ انہوں نے کمیٹی کو مزید بتایا کہ کمیشن نے حال ہی میں ایک خصوصی مارکیٹ انٹیلی جنس یونٹ (ایم آئی یو) قائم کیا ہے جس نے اب تک 190 سے زائد ممکنہ غیر مسابقتی کیسز کی نشاندہی کی ہے۔ اس کے علاوہ کمیشن نے تحقیق، استعداد کار میں اضافہ اور پالیسی سازی کے فروغ کے لیے کمپٹیشن لاء پر ایک "سینٹر آف ایکسیلنس” بھی قائم کیا ہے۔ڈاکٹر کبیر سدھو نے مزید کہا کہ کمیشن نے 117 مرجرز اور ایکوزیشن کی منظوری دی جس کے نتیجے میں ملک میں 29 ارب روپے کی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری آئی۔سب کمیٹی کے ارکان نے مسابقتی کمیشن کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات صارفین کے تحفظ، شفافیت اور پائیدار اقتصادی ترقی کے لیے نہایت اہم ہیں۔ کمیٹی نے یقین دلایا کہ وہ سی سی پی کے ساتھ کھڑی ہے اور اس کے مینڈیٹ کو بھرپور تعاون فراہم کرے گی۔








