وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ مستقل نوعیت کے فرائض انجام دینے والے ملازمین کو برسوں تک کنٹریکٹ بنیادوں پر برقرار رکھنا معاشی استحصال اور انتظامی من مانی کے مترادف ہےجبکہ ایسے ملازمین کی ریگولرائزیشن کا معاملہ صرف سروس قوانین تک محدود نہیں بلکہ آئین کے تحت حاصل بنیادی حقوق
مستقل نوعیت کے فرائض انجام دینے والے ملازمین کو برسوں تک کنٹریکٹ بنیادوں پر برقرار رکھنا معاشی استحصال اور انتظامی من مانی کے مترادف ہے،وفاقی آئینی عدالت

مزید خبریں
اسلام آباد۔16جون (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ مستقل نوعیت کے فرائض انجام دینے والے ملازمین کو برسوں تک کنٹریکٹ بنیادوں پر برقرار رکھنا معاشی استحصال اور انتظامی من مانی کے مترادف ہےجبکہ ایسے ملازمین کی ریگولرائزیشن کا معاملہ صرف سروس قوانین تک محدود نہیں بلکہ آئین کے تحت حاصل بنیادی حقوق، بالخصوص آرٹیکل 9 (حقِ زندگی) اور آرٹیکل 25 (مساوات) سے بھی جڑا ہوا ہے۔رپورٹنگ کے لئے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق جسٹس عامر فاروق اور جسٹس سید ارشد حسین شاہ پر مشتمل دو رکنی بنچ نے خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے دائر سی پی ایل اے نمبر 632-پی/2018 مسترد کرتے ہوئے سابق فاٹا کے دو ڈسپنسرز کی بحالی اور ریگولرائزیشن کے حوالے سے پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ آرٹیکل 9 کے تحت حقِ زندگی کی تشریح وسیع ہے اور اس میں روزگار اور ذریعہ معاش کا حق بھی شامل ہے۔ فیصلے کے مطابق مستقل نوعیت کی آسامیوں پر طویل عرصے تک کنٹریکٹ ملازمین سے کام لینا اور انہیں ملازمت کے تحفظ سے محروم رکھنا آئینی تقاضوں کے منافی ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ جواب دہندگان تنویر احمد اور دوسرے ملازم 2002 اور 2007 میں سابق فاٹا میں کنٹریکٹ بنیادوں پر بطور ڈسپنسر بھرتی ہوئے تھے اور وہ وفاقی حکومت کے 2008 کے اس فیصلے کے دائرہ کار میں آتے تھے جس کے تحت 4 جون 2008 سے قبل بی ایس-1 سے بی ایس-15 تک کے کنٹریکٹ ملازمین کو ریگولر کیا جانا تھا۔فیصلے میں کہا گیا کہ نہ اشتہار اور نہ ہی تقرر ناموں میں یہ درج تھا کہ ملازمین کو کسی مخصوص منصوبے کے لئے بھرتی کیا گیا ہے، لہٰذا منصوبے کے خاتمے کی بنیاد پر ان کی ملازمتوں کا خاتمہ قانونی جواز نہیں رکھتا تھا۔عدالت نے مزید قرار دیا کہ یکساں حالات کے حامل ملازمین کے ساتھ مختلف سلوک آرٹیکل 25 میں دی گئی مساوات کی ضمانت کے خلاف ہے۔ فیصلے میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ سرکاری اداروں کی جانب سے ملازمین کو طویل عرصے تک عارضی یا کنٹریکٹ بنیادوں پر رکھ کر ریگولرائزیشن کے فوائد سے محروم کرنا ایک قابل مذمت عمل ہے جس کی اعلیٰ عدلیہ متعدد فیصلوں میں نشاندہی کر چکی ہے۔
وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا کہ ریگولرائزیشن کا اصول انصاف، مساوات اور آئینی بنیادی حقوق کے تحفظ پر مبنی ہے، اس لئے خیبرپختونخوا حکومت کی درخواست میں کوئی وزن نہیں، چنانچہ اپیل کی اجازت دینے کی استدعا مسترد کی جاتی ہے۔








