لاہور۔11فروری (اے پی پی):پاکستان مسلم لیگ(ن)کی حکومت جب بھی برسر اقتدار آئی تو نہ صرف ملکی معیشت میں بہتری آئی بلکہ عالمی اور سفارتی سطح پر پاکستان کے وقار میں اضافہ ہوا۔یہ پاکستان مسلم لیگ(ن)کی مدبرانہ قیادت کا ہی طرہ امتیاز ہے کہ اپنی سیاست کی پرواہ کئے بغیر ہمیشہ ملک کو مسائل کے گرداب سے نکالنے کے لئے میدان عمل میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔جس کی ایک مثال ہمیں حالیہ ادوار میں ملتی ہے کہ جب مسلم لیگ (ن) نے حکومت سنبھالی تو ملک دیوالیہ ہونے کے قریب اور عالمی سطح پر تنہائی کا شکار تھا،
مخالفین کہتے تھے کہ یہ حکومت زیادہ دیر نہ چل سکے گی اور خدانخواستہ ملک دیوالیہ ہو جائے گالیکن پھر وزیراعظم محمد شہباز شریف کی مدبرانہ قیادت میں حکومت نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا،مشکل حالات،سیاسی انتشار اور ان گنت رکاوٹوں کے باوجود نہ صرف ڈیفالٹ کے دہانے پر کھڑی معیشت کو ایک سال میں ترقی کی راہ پر گامزن کیا بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کو تنہائی سے نکال کر اس کی عزت اور وقار میں اضافہ کیا۔شہبا ز سپیڈ کے ایک سال میں بہتر معاشی پالیسیوں کے تسلسل سے عام آدمی کے حالات زندگی بہتر ہوئے،آٹے ،گندم اور دیگر اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں کمی،شہروں اور دیہاتوں میں غذائی کمی کو پورا کرنے کے لیے ہنگامی اقدامات اٹھائے گئے۔
دستیاب اعداد وشمار کے مطابق قومی معیشت سے لے کر بنیادی ڈھانچے،تعلیم،صحت اور سماجی بہبود تک ہر شعبے میں واضح پیش رفت ہوئی،مہنگائی کی شرح کم ہو کر سنگل ڈیجٹ پر آچکی ہے،مہنگائی ساڑھے 6 سال کی کم ترین سطح پر آچکی ہے،شرح سود اور کرنٹ اکائونٹ خسارے میں کمی ہوئی،کرنٹ خسارہ 1.39 ارب ڈالر سے محدود ہو کر 1.20 ارب ڈالر تک رہا،سٹیٹ بنک کی جانب سے شرح سود میں مسلسل چھٹی بار کمی کی گئی،ڈالرکے مقابلے میں روپے کو استحکام ملا ،سٹاک مارکیٹ تاریخ کی بلندیوں پر رہی اور خطے کی سب سے تیز بڑھنے والی مارکیٹ بن گئی،2023 کے مقابلے میںسال 2024 میں سٹاک مارکیٹ میں 8 ارب روپے اضافہ ہوا اور 100 انڈیکس ایک لاکھ 9 ہزار کی نفسیاتی حد عبور کر گیا،پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری ہوئی،بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے کریڈٹ ریٹنگ سی اے اے تھری سے سی اے اے ٹو قرار دیا جبکہ فچ نے ٹرپل سی مائنس سے ٹرپل سی کر دی۔
حکومت کے اقدامات سے غیر ملکی سرمایہ کاری میں بھی ریکارڈ اضافہ ہوا ہے،چین ،ہانگ کانگ،انگلینڈ ،امریکا اور جاپان نے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی،توانائی،صنعت،الیکٹرونکس ،پورٹس اور ہائی وے جیسے شعبوں میں ٹیکس میں خصوصی رعایت کی وجہ س سرمایہ کاروں کا رجحان بڑھا ہے۔سال 2023 میں غیر ملکی سرمایہ کاری 600.7 ملین ڈالر تھی جو اس سال بڑھ کر 1962.3 ملین ڈالر تک پہنچ گئی۔اوورسیز پاکستانیوں کا موجودہ حکومت پر اعتماد سے ترسیلات زر میں بھی ریکارڈ اضافہ ہوا ہے،سال 2023 کے مقابلے میں ترسیلات زر میں 33.6 فیصد اضافہ ہوا، غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر 9.2 ارب ڈالر سے بڑھ کر 14.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں،اوورسیز پاکستانیوں کی روشن ڈیجیٹل اکائونٹ میں 1.53 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سے ترسیلات بڑھ کر 8.74 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں۔ایک سال میں برآمدات 27.72 ارب ڈالر سے بڑھ کر 30.64 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں
جبکہ تجارتی خسارے میں 12.3 فیصد کمی واقع ہوئی ہے،5آئی پی پیز سے معاہدے معطل کر کے قومی خزانے کو 238 ارب روپے کی بچت کی۔عوامی اور بین الاقوامی سطح کے میگا پراجیکٹس کی بات کریں تو پاک چین دوستی کا شاہکار نیو گوادر ایئر پورٹ کا افتتاح کیا جو پاکستان کیلئے سرمایہ کاری کے نئے دروازے کھولے گا،مستحق افراد کی مالی معاونت کیلئے یونیورسل ہیلتھ کوریج ایکٹ کا اجرا کیا گیا،بلوچستان میں ٹیوب ویل سولرائزیشن کا انقلابی پروگرام شروع کیا جس کے تحت 27 ہزار ٹیوب ویلز کو سولر پر منتقل کیا جائے گا،بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت مستحقین کیلئے مالی امداد میں اضافہ کیا،پاکستان کو شنگھائی تعاون تنظیم سربراہان اجلاس کی میزبانی ملی۔
وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے بھی اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ حکومت پہلے سال کے تمام اہداف حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہے،عزم استحکام،ایس آئی ایف سی اور اڑان پاکستان جیسے منصوبے شروع کئے جو آنے والے وقتوں میں پاکستان کو خطے کا تیز ترین ترقی یافتہ ملک بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔پاک فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر بھی اس عزم کا اظہار کر چکے ہیں کہ پاکستان کا مستقبل روشن اور مستحکم ہے، مایوسی کے بادل چھٹ چکے ہیں،آج معیشت کے تمام اشاریہ مثبت اوراگلے برس تک انشا اللہ مزید بہتر ہوں گے۔دوسری طرف صوبائی حکومت بھی وزیراعلی مریم نوا ز شریف کی قیادت میں نہ صرف صوبے کی تعمیر و ترقی کے لئے مصروف عمل ہیں بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے مثبت امیج کو اجاگر کرنے کے لئے اپنا بھرپور کردا ر ادا کر رہی ہیں ۔پنجاب اسمبلی نے ہمیشہ تاریخی کام کئے ہیں،خواہ قیام پاکستان کی تکمیل ہو یا پھر پنجاب کی تعمیر، ہر حوالے سے پنجاب اسمبلی کا کردار مثالی رہا ہے،
اس بار وزیر اعلی مریم نواز شریف کی خصوصی ہدایات پر سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان اسمبلی نے بھی ایک نئی تاریخ رقم کرڈالی،ان کی مدبرانہ قیادت میں پنجاب اسمبلی میں تاریخ میں پہلی بار کامن ویلتھ پارلیمنٹری ایسوسی ایشن (CPA) ایشیا اور سائوتھ ایسٹ ایشیا ریجنز کی مشترکہ پارلیمانی کانفرنس کا انعقاد ہوا۔6 سے8 فروری 2025 کو منعقد ہونے والی اس کانفرنس کے مہمان خصوصی سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق تھے،سی پی اے کانفرنس میں سری لنکا، مالدیپ، برطانیہ، زیمبیا، ملائیشیا اور پاکستان سمیت20 اسمبلیوں کے100 سے زائد نمائندوں نے شرکت کی،شرکا میں 13 سپیکرز،4 ڈپٹی سپیکرز اور ایک چیئرمین شامل تھے، سی پی اے کانفرنس کا ایجنڈا پارلیمانی جمہوریت،شفاف قانون سازی اور احتساب پر مبنی تھا۔اس منفرد اور تاریخی نوعیت کی کانفرنس نے ایشیا اور سائوتھ ایسٹ ایشیا کے پارلیمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے اور خطے کو درپیش چیلنجز اور پائیدار ترقی کے حوالے سے پارلیمانی حکمت عملیوں پر تبادلہ خیال کرنے کا مواقع فراہم کیا ، آنے والے وقتوں میں یہ بین الاقوامی کانفرنس خطے میں پارلیمانی تعاون کو فروغ دینے اور مختلف چیلنجز کے حل کے لئے اجتماعی حکمت عملی طے کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔
کانفرنس سے نہ صرف پاکستان کا عالمی تشخص اجاگر ہوا بلکہ پارلیمانی سفارتکاری میں پاکستان کے کلیدی کردار کو بھی نمایاں کیا،باالخصوص لاہور جو اپنے تاریخی اور ثقافتی ورثے کے لئے مشہور ہے عالمی سطح پر ایک بین الاقوامی سفارتی مرکز کے طور پر سامنے آیا۔اللہ اللہ کر کے ایک عرصہ بعد پاکستانی عوام کو خوشی کی خبریں ملنا شروع ہوئیں،ضرروت اس امر کہ ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کو ماضی کے اختلافات کو پس پشت ڈالتے ہوئے اجتماعی طور پر اپنا بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے،پاکستان اڑان بھرنے کے قریب ہے،ان حالات میں ملک اب کسی بھی انتشارکی سیاست کا متحمل نہیں ہو سکتا،اگر ہم نے اس بار بھی ملک کو معاشی قوت بنانے کا موقع کھو دیا تو تاریخ ہمیں معاف نہیں کر ے گی۔
Short Link: https://urdu.app.com.pk/urdu/?p=559746