جمہوری جمہوریہ کانگو (ڈی آر کانگو) کے مشرقی صوبے شمالی کیوو میں ایبولا وائرس کا پھیلاؤ قابو سے باہر ہونے لگا ہے۔
مشرقی ڈی آر کانگو میں ایبولا کی صورتحال قابو سے باہر ہونے لگی، ڈاکٹرز وِد آؤٹ بارڈرز
نیروبی ۔8اکتوبر (اے پی پی):جمہوری جمہوریہ کانگو (ڈی آر کانگو) کے مشرقی صوبے شمالی کیوو میں ایبولا وائرس کا پھیلاؤ قابو سے باہر ہونے لگا ہے۔ بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیم ’ڈاکٹرز وِد آؤٹ بارڈرز‘ (ایم ایس ایف) نے خبردار کیا ہے کہ صوبہ شمالی کیوو میں ملک کے نئے تصدیق شدہ ایبولا کیسز میں تقریباً 40 فیصد رپورٹ ہورہے ہیں۔افریقی نیوز نے ایم ایس ایف کے حوالے سے بتایا کہ بوٹیمبو میں ایبولا ٹریٹمنٹ سینٹر کی کوآرڈینیٹر اسٹیفنی ہوفمین کے مطابق زیادہ تر نئے کیسز پہلے سے شناخت شدہ منتقلی کے سلسلوں سے منسلک نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایبولا سے ہونے والی تقریباً 75 فیصد اموات کمیونٹی میں ہوتی ہیں، یعنی ایسے مریض علاج یا منتقلی کے مراکز تک نہیں پہنچ پاتے۔ ایبولا کے خوف اور خصوصی علاج مراکز سے متعلق خدشات کے باعث بعض افراد ممکنہ بیماری تسلیم کرنے اور طبی امداد حاصل کرنے سے گریز کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں متعدد مریض گھروں میں رہتے ہیں جہاں ان کے رشتہ دار ان کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور وائرس کے مزید پھیلاؤ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ایم ایس ایف کے مطابق ابتدائی طور پر وبا بوٹیمبو شہر کے گردونواح تک محدود تھی، تاہم اب تمام ملحقہ صحت کے اضلاع سے کیسز رپورٹ ہورہے ہیں۔ تنظیم نے ہر ہفتے نئے وبائی پھیلاؤ کے خدشے اور مریضوں کے علاج کی محدود صلاحیت پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔موجودہ ایبولا وبا کا آغاز صوبہ اتوری سے ہوا تھا اور مئی میں باضابطہ طور پر اس کی شناخت ہونے سے قبل کئی ماہ تک پھیلتی رہی۔ افریقی نیوز کے مطابق یہ وبا وائرس کی بنڈی بوگیو قسم کے باعث پھیلی ہے اور اسے ڈی آر کانگو کی تاریخ کی سب سے مہلک ایبولا وبا قرار دیا جا رہا ہے۔تازہ ترین رپورٹس کے مطابق ملک میں ایبولا کے 8 ہزار 600 سے زائد کیسز سامنے آچکے ہیں جبکہ 4 ہزار 100 سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔








