روس میں ایران کے سفیر کاظم جلالی نے کہا ہے کہ ایران میں رشت-آستارا ریلوے کی تعمیر، جو انٹرنیشنل نارتھ۔ ساؤتھ ٹرانسپورٹ کوریڈورکا اہم حصہ ہے، مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث مؤخر کر دی گئی ہے۔
مشرق وسطی کشیدگی کے باعث ایران۔روس ریلوے منصوبہ موخر

مزید خبریں
ماسکو۔21اپریل (اے پی پی):روس میں ایران کے سفیر کاظم جلالی نے کہا ہے کہ ایران میں رشت-آستارا ریلوے کی تعمیر، جو انٹرنیشنل نارتھ۔ ساؤتھ ٹرانسپورٹ کوریڈورکا اہم حصہ ہے، مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث مؤخر کر دی گئی ہے۔شنہوا کے مطابق انہوں نے روسی اخبار کو انٹرویو میں بتایا کہ اس منصوبے کا ایگزیکٹو معاہدہ، جس پر یکم اپریل کو دستخط ہونا تھے، اب بعد میں زیرِ غور لایا جائے گا۔
کاظم جلالی کے مطابق موجودہ جغرافیائی و سیاسی صورتحال کے باعث عارضی رکاوٹیں پیدا ہوئی ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ لاجسٹکس کے بنیادی ڈھانچے اور راستوں کو بہتر بنانا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ راہداری دونوں ممالک کے درمیان تجارت کو پہلے سے زیادہ فعال بنا سکتی ہے۔
اس سے قبل اپریل کے اوائل میں روس کے نائب وزیرِ اعظم الیکسی اوور چک نے کہا تھا کہ اس ریلوے کی تعمیر جاری ہے، جو روس اور ایران کے سڑکوں کے نیٹ ورک کو ایک مربوط نظام میں جوڑے گی۔یہ راہداری تقریباً 7,200 کلومیٹر طویل ملٹی موڈل ٹرانسپورٹ نیٹ ورک ہے، جو روس کے شہر سینٹ پیٹرز برگ سے بھارت کی بندرگاہ ممبئی تک پھیلا ہوا ہے۔
اس میں تین اہم راستے شامل ہیں جن میں ٹرانس-کاسپین روٹ (جس میں ریل اور بندرگاہیں شامل ہیں) اور مغربی و مشرقی زمینی راستے شامل ہیں۔روس اور ایران نے مئی 2023 میں اس راہداری کے مغربی روٹ کے آخری حصے، یعنی رشت-آستارا ریلوے لائن کی تکمیل کے لیے دستاویزات پر دستخط کیے تھے۔








