قاہرہ ۔6اکتوبر (اے پی پی):مصر کے آثارِ قدیمہ کے حکام نے سقارہ کے آثارِ قدیمہ کے علاقے میں واقع خنتی کا مقبرہ، جو کئی برسوں سے مکمل طور پر بند تھا، وہاں سے ایک قدیم چونے کے پتھر کی تختی کے پراسرار طور پر غائب ہونے کے بعد اعلیٰ سطحی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔شنہوا کے مطابق آثارِ قدیمہ کی سپریم کونسل کے سیکریٹری جنرل محمد اسماعیل خالد نے …
مصر میں بند مقبرے سے قدیم نوادرات کے غائب ہونے پر اعلیٰ سطحی تحقیقات کا آغاز

مزید خبریں
قاہرہ ۔6اکتوبر (اے پی پی):مصر کے آثارِ قدیمہ کے حکام نے سقارہ کے آثارِ قدیمہ کے علاقے میں واقع خنتی کا مقبرہ، جو کئی برسوں سے مکمل طور پر بند تھا، وہاں سے ایک قدیم چونے کے پتھر کی تختی کے پراسرار طور پر غائب ہونے کے بعد اعلیٰ سطحی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔شنہوا کے مطابق آثارِ قدیمہ کی سپریم کونسل کے سیکریٹری جنرل محمد اسماعیل خالد نے اتوار کو جاری ایک بیان میں بتایا کہ واقعہ کو فوری طور پر پبلک پراسیکیوشن کے سپرد کر دیا گیا ہے اور تمام قانونی کارروائیاں عمل میں لائی جا رہی ہیں۔حکام کے مطابق یہ مقبرہ 1950 کی دہائی میں دریافت ہوا تھا اور 2019 کے بعد سے اسے مکمل طور پر سیل کر دیا گیا تھا۔
یہ جگہ نوادرات کے ذخیرے کے طور پر استعمال کی جا رہی تھی، جس کی وجہ سے اس واقعے کو مزید پراسرار قرار دیا جا رہا ہے۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ مصر کی وزارت سیاحت و نوادرات اس واقعے کی تحقیقات کو قریبی نگرانی میں رکھے ہوئے ہے اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطے میں ہے۔واضح رہے کہ ستمبر میں بھی ایک قدیم شاہی کنگن، جو مصر کے 21 ویں خاندان کے فرعون "آمین ایموپے” کا تھا، قاہرہ کے مصری عجائب گھر کی بحالی لیبارٹری سے غائب ہو گیا تھا۔ تحقیقات کے بعد انکشاف ہوا کہ یہ قیمتی کنگن ایک مرمت کرنے والے ماہر نے چوری کیا، جو بعد ازاں کئی ہاتھوں میں جانے کے بعد آخرکار پگھلا دیا گیا۔








