مصنوعی ذہانت کو اخلاقی اصولوں کے تحت ادارہ جاتی نظام کا حصہ بنایا جائے، قومی ترقی کیلئے مصنوعی ذہانت کا ذمہ دارانہ استعمال ناگزیرہے،حکومت، جامعات اور صنعتیں اے آئی کو اخلاقی گورننس کے ساتھ اپنائیں، ماہرین

ماہرین نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کو محض انفرادی سہولت یا پیداواری صلاحیت بڑھانے والے آلے کے طور پر نہیں بلکہ واضح اخلاقی اصولوں، مضبوط گورننس اور ادارہ جاتی تیاری کے ساتھ قومی ترقی کے نظام میں شامل کیا جانا چاہئے، حکومتیں، جامعات، صنعتیں اور کاروباری ادارے اگر اے آئی کو ذمہ دارانہ انداز میں اپنے انتظامی اور فیصلہ سازی کے نظام کا حصہ بنائیں تو یہ …

اسلام آباد۔13جولائی (اے پی پی):ماہرین نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کو محض انفرادی سہولت یا پیداواری صلاحیت بڑھانے والے آلے کے طور پر نہیں بلکہ واضح اخلاقی اصولوں، مضبوط گورننس اور ادارہ جاتی تیاری کے ساتھ قومی ترقی کے نظام میں شامل کیا جانا چاہئے، حکومتیں، جامعات، صنعتیں اور کاروباری ادارے اگر اے آئی کو ذمہ دارانہ انداز میں اپنے انتظامی اور فیصلہ سازی کے نظام کا حصہ بنائیں تو یہ معاشی ترقی، بہتر طرزِ حکمرانی، اعلیٰ تعلیم اور تحقیق میں نمایاں تبدیلی لا سکتی ہے۔ انہوں نے یہ بات پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) کے زیرِ اہتمام مصنوعی ذہانت اور ٹیکنالوجی گورننس پر مبنی تین کتابوں کی تقریبِ رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے کہیں۔ مقررین نے مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے کردار، اس کے موثر اور ذمہ دارانہ استعمال، تعلیمی اداروں کی تیاری اور ادارہ جاتی تبدیلی کے مختلف پہلوئوں پر تفصیلی اظہارِ خیال کیا۔ تقریب میں ماہرین، اساتذہ، محققین اور طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

اپنے استقبالیہ کلمات میں ایس ڈی پی آئی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر عابد قیوم سلہری نے کہا کہ اظہر ضیاءالرحمٰن عالمی سطح پرممتاز محقق، مشیر اور مینجمنٹ سسٹمز کے ماہر کے طور پر ایک مستند آواز بن چکے ہیں۔ انہوں نے اس اہم موضوع پر اعلیٰ معیار کی کتابیں تصنیف کی ہیں اور دنیا بھر میں حکومتوں اور اداروں کو چوتھے صنعتی انقلاب اور مصنوعی ذہانت کو موثر انداز میں اپنانے کے لئے رہنمائی فراہم کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ تھنک ٹینکس اور تحقیقی اداروں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت کا استعمال پوری ذمہ داری اور اخلاقی اصولوں کے مطابق کریں۔تقریب کا آغاز کرتے ہوئے ایس ڈی پی آئی کے ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر (ریسرچ) ڈاکٹر ساجد امین جاوید نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کی حقیقی صلاحیت اسی وقت سامنے آئے گی جب حکومتیں، صنعتیں، کاروباری ادارے اور سرکاری تنظیمیں اپنی استعداد میں اضافہ کرتے ہوئے اے آئی کو اپنے انتظامی اور عملی نظام میں شامل کریں گی تاہم اس کا انحصار اس کے اخلاقی اور ذمہ دارانہ استعمال پر ہوگا۔

ڈاکٹر ساجد امین جاوید نے کہا کہ جامعات اور نوجوان پیشہ ور افراد کو مصنوعی ذہانت کے ذمہ دارانہ استعمال کے بارے میں فوری رہنمائی کی ضرورت ہے۔ اپنی کتابوں کا تعارف پیش کرتے ہوئے اظہر ضیاءالرحمٰن نے بتایا کہ ٹیکنالوجی گورننس کے شعبے میں ان کا سفر تقریباً دس برس قبل اس تصور پر دنیا کی پہلی کتاب تحریر کرنے سے شروع ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ اس کتاب نے نظریاتی بنیاد فراہم کی لیکن اس میں عملی نفاذ کا طریقہ کار موجود نہیں تھا۔انہوں نے کہا کہ ان کی نئی کتاب اداروں کو تمام ٹیکنالوجیز کی منظم اور آسان انداز میں نگرانی اور نظم و نسق کے لئے عملی رہنمائی فراہم کرتی ہے۔مصنوعی ذہانت کی گورننس پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یورپی یونین کے اے آئی ایکٹ نے واضح کر دیا ہے کہ اس تیزی سے بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی کےلئے اخلاقی اصولوں کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ کسی بھی ادارے میں اے آئی کو موثر انداز میں نافذ کرنے کی ابتدا موجودہ نظام اور طریقہ کار کو مکمل طور پر سمجھنے سے ہونی چاہئے۔ سولوڈ انجینئرنگ ٹیکنالوجیز (ایس ایم سی پرائیویٹ) لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹو اور ڈائریکٹر ڈاکٹر ظفر اللہ قریشی نے کہا کہ مصنوعی ذہانت بڑی عمر کی نسل کےلئے ایک بالکل نیا تجربہ ہے جبکہ آج کے نوجوان ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ساتھ پروان چڑھے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مصنف نے اپنی کتاب میں صنعتی انقلابات اور مصنوعی ذہانت کے ارتقا کو نہایت جامع انداز میں بیان کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ آج جامعات کے سامنے اصل سوال یہ نہیں کہ مصنوعی ذہانت استعمال کی جائے یا نہیں بلکہ یہ ہے کہ اس کا نظم و نسق کس طرح کیا جائے کیونکہ اب معلومات اور اے آئی سے تیار کردہ مواد کی فراوانی ایک حقیقت بن چکی ہے۔

انہوں نے کتاب میں یونیورسٹی گورننس، تدریسی نظام اور ادارہ جاتی انتظام کے حوالے سے پیش کئے گئے نکات کو نہایت مفید قرار دیا۔انہوں نے خبردار کیا کہ مصنوعی ذہانت کی کامیابی کا انحصار معیاری ڈیٹا اور موثر ڈیٹا گورننس پر ہے۔ انہوں نے اعلیٰ تعلیم کی بڑھتی ہوئی تجارتی سوچ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بعض نجی جامعات میں منافع کو ضرورت سے زیادہ اہمیت دینے کے باعث تعلیم کا معیار اور اس کی بنیادی اقدار متاثر ہوئی ہیں۔سوال و جواب کے سیشن میں اظہر ضیاءالرحمٰن نے کہا کہ مصنوعی ذہانت ایک نئے دور کی بنیاد رکھ رہی ہے جو طلبہ، جامعات، حکومتوں اور صنعتوں سے وابستہ توقعات کو بنیادی طور پر بدل دے گی۔

تقریب کے اختتام پر ایس ڈی پی آئی میں ماحولیاتی پائیداری اور سرکلر اکانومی کی سربراہ زینب نعیم نے مصنف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے مصنوعی ذہانت کی گورننس پر نہایت بروقت اور ضروری بحث کا آغاز کیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مصنوعی ذہانت کی قیادت ہمیشہ انسان کے ہاتھ میں رہنی چاہئے ۔