22.6 C
Islamabad
پیر, ستمبر 1, 2025
ہومقومی خبریںمصنوعی ذہانت کے بڑھتے استعمال سے بجلی کی عالمی طلب میں ریکارڈ...

مصنوعی ذہانت کے بڑھتے استعمال سے بجلی کی عالمی طلب میں ریکارڈ اضافہ متوقع

- Advertisement -

اسلام آباد۔26اگست (اے پی پی):بین الاقوامی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف) نے کہاہے کہ مصنوعی ذہانت سے عالمی اقتصادی ترقی کی شرح میں نمایاں اضافہ ہورہاہے تاہم اسکے لیے درکار ڈیٹا سینٹرز کی وجہ سے بجلی کی طلب پر میں بھی مسلسل اضافہ ہورہاہے۔ یہ بات بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی رپورٹ میں کہی گئی ہے۔

رپورٹ میں اوپیک کی جانب سے جاری اعدادوشمارکے حوالہ سے بتایاگیاہے کہ دنیا بھر کے ڈیٹا سینٹرز نے 2023 میں 500 ٹیرا واٹ آور بجلی استعمال کی جو 2015 تا 2019 کی اوسط سطح سے دوگنازیادہ ہے، اگر موجودہ رجحان برقرار رہا تو یہ کھپت 2030 تک تین گنا بڑھ کر 1,500 ٹیرا واٹ آور تک پہنچ سکتی ہے جو جرمنی یا فرانس جتنی بجلی کے مساوی ہے۔

- Advertisement -

رپورٹ کے مطابق، ڈیٹا سینٹرز کی بجلی کھپت اس وقت تک برقی گاڑیوں کی بجلی کی طلب سے بھی 1.5 گنا زیادہ ہو جائے گی۔ ڈیٹا سینٹرز کی توانائی کھپت سب سے تیزی سے امریکا میں بڑھ رہی ہے، جہاں دنیا کے سب سے زیادہ سرور فارم موجود ہیں۔ میک کنزی اینڈ کمپنی کی پیشنگوئی کے مطابق امریکا میں ان مراکز کی بجلی کی طلب 2030 تک تین گنا بڑھ کر 600 ٹیرا واٹ آور سے زیادہ ہو سکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق کلائوڈ ڈیٹا اسٹوریج اور اے آئی کوئریز کے لیے بڑھتے ہوئے ڈیٹا ویئرہائوسز کی تعمیر توانائی کی پالیسیوں کے لیے ایک بڑا امتحان ہے۔ماہرین کے مطابق اگر توانائی کی فراہمی تیزی سے بڑھتی ہوئی طلب کے مطابق نہ بڑھی تو بجلی کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ہو سکتا ہے جس سے صارفین اور کاروبار متاثر ہوں گے اور ممکنہ طور پر اے آئی انڈسٹری کی ترقی بھی سست پڑ سکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق موجودہ توانائی پالیسیوں کے تحت مصنوعی زہانت سے بڑھتی بجلی کی طلب 2025 سے 2030 کے دوران عالمی گرین ہائوس گیسز کے اخراج میں 1.7 گیگا ٹن اضافہ کر سکتی ہے۔رپورٹ میں پالیسی سازوں اور کاروباری اداروں کو مل کر توانائی کے متنوع ذرائع کو فروغ دینے کی سفارش کی گئی ہے تاکہ بجلی کی فراہمی بہتر ہو، قیمتوں میں اچانک اضافے کو روکا جا سکے اور ماحولیاتی اخراج کو قابو میں رکھا جا سکے۔

- Advertisement -
متعلقہ خبریں
- Advertisment -

مقبول خبریں