21.6 C
Islamabad
جمعرات, اپریل 3, 2025
ہومخصوصی فیچرزمعاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لئے" سی پیک" منصوبہ میں وسیع تر...

معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لئے” سی پیک” منصوبہ میں وسیع تر شمولیت

- Advertisement -

چین۔14مارچ (اے پی پی):پاکستان چین اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبے پر خوش اسلوبی سے پیش رفت کے باعث آنے والے دنوں میں پاکستان وسیع پیمانے پر معاشی سرگرمیوں کی توقع رکھتا ہے ۔

چین کی حکومت کے شاندار بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (بی آر آئی) کی بدولت پاکستان علاقائی اقتصادی سرگرمیوں میں اہم فریق بن گیا ہے۔ اس منصوبے سے نہ صرف تجارت کے ذریعے اربوں ڈالر کی آمدن ہوگی بلکہ انفراسٹرکچر کی ترقی، بجلی کی پیداوار، نقل و حمل، ریلویز، زراعت، سائنس و ٹیکنالوجی اور سیاحت کے شعبوں میں منصوبوں کے علاوہ ہزاروں مقامی افراد کو روزگار کے مواقع میسر آئیں گے۔

- Advertisement -

سی پیک کے تحت پاکستان اور چین کے مشترکہ منصوبہ کے ذریعے ملک بھر میں خصوصی اقتصادی زونز کا قیام کلیدی حیثیت کا حامل ہے۔ اس منصوبے کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے کئی دیگر ممالک نے بھی اس میں سرمایہ کاری کیلئے دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے دوسرے مرحلے کے آغاز کے بعد اقتصادی سرگرمی زور وشورسے جاری ہے جو زیادہ تر اقتصادی تعاون پر مشتمل ہے۔ اگرچہ خصوصی اقتصادی زونز چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کے تحت تعمیر کیے جارہے ہیں جن کا بنیادی مقصد چینی صنعت اور سرمایہ کاری کو راغب کرنا ہےلیکن دونوں ممالک پہلے ہی میگا پروجیکٹ میں تیسرے فریق کی شرکت کی پیش کش کر چکے ہیں۔

سعودی عرب ، قطر ، ایران ، مشرق وسطی کے ممالک اور کچھ یورپی ممالک سمیت کئی ممالک نے پہلے ہی صنعتی زونز میں خصوصی طور پر سرمایہ کاری کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ سی پیک میں تیسرے فریق کی شمولیت تمام فریقین کے لیے یکساں طور پر مفید ہےکیونکہ اس سے غیر ملکی کمپنیوں کو حکومت پاکستان کی پیش کردہ منافع بخش سہولیات سے فائدہ اٹھانے کے ساتھ ساتھ اپنے کاروبار کو فروغ دینے میں مدد ملے گی اور اس کے ساتھ ہی پاکستان کو ممکنہ عالمی منڈی میں اپنی برآمدات کو بڑھانے میں مدد ملے گی۔

چینی حکام نے بھی سی پیک اور خصوصی اقتصادی زونز میں وسیع تر شرکت کی اہمیت کو تسلیم کیا ہے۔ گوادر فری زون کے علاوہ سی پیک کے تحت کل 9 خصوصی اقتصادی زون کی منصوبہ بندی کی گئی ہے جن میں سندھ ، پنجاب اور خیبر پختونخوا کے چار ترجیحی زون بشمول دھابیجی ، علامہ اقبال انڈسٹریل سٹی ، رشکئ اکنامک زون اور بلوچستان میں بوستان اکنامک زون شامل ہیں۔ سی پیک کا مقصد معاشی اور تجارتی محاذوں پر پاکستان کی بین الاقوامی حیثیت کو مستحکم کرنے کے علاوہ ملک کو دنیا کی اعلی معیشتوں میں شامل کرنا ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لئے وفاقی اور صوبائی دونوں سرکاری محکمے وزیر اعظم عمران خان کی متحرک قیادت میں مصروف عمل ہیں۔ 60 بلین ڈالر کے سی پیک پروجیکٹ کے تحت 53 ارب ڈالر مالیت کے مختلف منصوبوں کی نشاندہی کی جا چکی ہے اور راہداری کے تحت 25 ارب ڈالر مالیت کے 17 منصوبے مکمل ہوچکے ہیں جبکہ 19 منصوبے زیر تعمیر ہیں اور تاریخی ایم ایل ون ریلوے پروجیکٹ سمیت مزید 28 منصوبے منصوبہ بندی اور منظوری کے مختلف مراحل میں ہیں۔

ان منصوبوں میں تین۔ چوتھائی رقم چینی سرمایہ کاری پر مشتمل ہے جو چینی قرضوں کے جال کے بین الاقوامی پروپیگنڈے کی نفی کرتی ہے۔ پارلیمانی سیکرٹری برائے منصوبہ بندی ترقی واصلاحات وخصوصی اقدامات کنول شوزب نے اے پی پی کو بتایا کہ ملک کے مختلف علاقوں میں سی پیک کے تحت9میں سے4اکنامک زون پر کام جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان زونز میں شروع کی گئی خصوصی معاشی سرگرمیاں ملک میں معیشت کی مجموعی صورتحال کو مستحکم کرنے کے علاوہ لاکھوں بلا واسطہ اور بالواسطہ روزگار کے مواقع میں اضافہ کرنے میں مددگار ثابت ہوں گی ۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے چینی ہم منصب صنعتی ترقی میں ہماری بہت مدد کر رہے ہیں لیکن مقامی لوگ بھی سی پیک کے تحت ملک کی ترقی کے لئے شانہ بشانہ کام کر رہے ہیں۔ پارلیمانی سیکریٹری نے سی پیک کے تحت پانچ شعبوں کی نشاندہی کی جس سے لوگوں کی زندگی پر براہ راست یا بالواسطہ مثبت اثرات مرتب ہوں گے جن میں رابطے ، توانائی کے منصوبے ، وزیر اعظم کے صاف ستھرے اور سبز منصوبے ،سماجی و اقتصادی ترقی شامل ہیں۔

انہوں نے تیسرے فریق کی سی پیک میں شمولیت کاخیرمقدم کرتے ہوئےکہا کہ اگر سعودی عرب ، امریکہ اور دیگر مغربی ممالک خصوصی اقتصادی زونز میں سرمایہ کاری کرتے ہیں تو یہ پورے خطے اور اس سے آگے کے علاقوں میں گیم چینجر ثابت ہوگا۔انہوں نے بتایا کہ قطر کو بھی مدعو کیا گیا ہے اور یہ ملک لمبا راستہ اختیار کرنے کے بجائے مختلف ممالک کو مائع قدرتی گیس کی فراہمی کے لئے سی پیک کے مختصر راستے کا انتخاب کرسکتا ہے۔

چیئرمین فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری، کیپیٹل آفس قربان علی نے کہا کہ سی پیک پاکستان کے لئے گیم چینجر ہے۔ مزید ممالک کی شراکت کے ساتھ ایس ای زیز میں وسیع تر سرگرمی سے ان زونز میں معاشی سرگرمی کو مزید فروغ ملے گا۔ انہوں نے کہا اگر سعودی عرب ، امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کی کمپنیاں پاکستان کے خصوصی اقتصادی زون میں سرمایہ کاری کرتی ہیں تو سی پیک کو مزید تقویت ملے گی اور یہ سب کے لیے یکساں مفید ثابت ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ گوادر بندرگاہ شہر بین الاقوامی بندرگاہ شہروں جیسے دبئی کو پیچھے چھوڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے کیونکہ اسے ایک طرف ایران ، ترکی اور مشرق وسطیٰ ممالک سمیت پورے خطے اور دوسری طرف افغانستان ، چین ، وسطی ایشیائی ریاستوں اور اس کے علاوہ یورپ سے جوڑا جاسکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ سی پیک کو واخان راہداری سے بھی منسلک کیا جاسکتا ہے جو 76 کلو میٹر طویل سرحد ہے اور نہ صرف افغانستان بلکہ وسط ایشیائی ریاستوں تک بھی رسائی کے لئے راہداری ہے۔ وسطی ایشیائی ریاستوں تک پہنچنے کے لیے ہمیں اس مختصر راستے سے پوری طرح فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے مزید کہا حکومت کی طرف سے سی پیک کے تحت خصوصی زونز میں سرمایہ کاری کرنے والے صنعت کاروں کے لئے پیش کی جانے والی سہولیات نہایت منافع بخش ہیں اور اب نہ صرف مقامی بلکہ غیر ملکی صنعت کار بھی علامہ اقبال انڈسٹریل پارک فیصل آباد ، رشکئی اور دیگر اقتصادی زونز میں سرمایہ کاری کرنے پر آمادگی کا اظہار کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سی پیک کے گیٹ وے ہونے کے ناطے گلگت بلتستان (جی بی) انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور صنعتی ترقی اور لوگوں کی فلاح و بہبود کے لئے سس خطہ پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔حکومت نے جی پی میں مقفنداس زون کے لئے اراضی مختص کی ہے اور اس جگہ پر اکنامک زون کو ترجیحی طور پرترقی دینے کی ضرورت ہےتاکہ اس علاقے کے لوگ بھی ملک میں مجموعی ترقیاتی عمل سے مستفید ہوسکیں چونکہ سی پیک کے ذریعے متعدد منصوبوں پر کام جاری ہے ، اب وقت آگیا ہے کہ ترقیاتی کاموں کو مزید تیز کیا جائے تاکہ عوام جلد سے جلد اس میگا پروجیکٹ کے ثمرات سے فائدہ اٹھاسکیں۔ کووڈ۔ 19 کے باعث قیمتوں میں اضافے اور عالمی معاشی کساد بازاری کے پیش نظر بھی سی پیک منصوبوں کی اہمیت میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔

سی پیک منصوبہ جات پر تیزی سے عمل درآمد سے کایا پلٹے گی اور سستی اشیاءو اجناس اور روزگار کی فراہمی کے لحاظ سے عوام کی زندگیوں میں سہولت اور نمایاں تبدیلی رونما ہو گی۔

Short Link: https://urdu.app.com.pk/urdu/?p=243725

- Advertisement -
متعلقہ خبریں
- Advertisment -

مقبول خبریں