معرکہ حق کی عظیم فتح کے بعد سیاسی و عسکری قیادت کی فعال سفارتکاری نےپاکستان کو عالمی سطح پر ایک ممتاز اور باوقار مقام دلایا ہے ،میاں کاشف اشفاق

پاکستان فرنیچر کونسل کے سی ای او ،معروف کاروباری و سماجی رہنما میاں کاشف اشفاق نے کہا ہے کہ معرکہ حق کی عظیم فتح کے بعد پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کی بصیرت، موثر حکمتِ عملی اور فعال سفارتکاری نے ملک کو عالمی سطح پر ایک ممتاز اور باوقار مقام دلایا ہے۔

اسلام آباد۔25اپریل (اے پی پی):پاکستان فرنیچر کونسل کے سی ای او ،معروف کاروباری و سماجی رہنما میاں کاشف اشفاق نے کہا ہے کہ معرکہ حق کی عظیم فتح کے بعد پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کی بصیرت، موثر حکمتِ عملی اور فعال سفارتکاری نے ملک کو عالمی سطح پر ایک ممتاز اور باوقار مقام دلایا ہے۔ہفتہ کو جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ معرکہ حق دراصل 2025 میں ہونے والے پاک۔بھارت تنازع کے دوران پاکستان کی کامیاب عسکری کارروائیوں کی علامت ہے، جسے بعد ازاں قومی سطح پر بھی تسلیم کیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی نہ صرف عسکری میدان میں بلکہ سفارتی محاذ پر بھی پاکستان کی مضبوط پوزیشن کو ظاہر کرتی ہے۔

میاں کاشف اشفاق نے کہا کہ پاکستان کی قیادت نے بدلتی ہوئی علاقائی اور عالمی صورتحال میں انتہائی دانشمندانہ فیصلے کیے۔ انہوں نے خاص طور پر حالیہ سفارتی سرگرمیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے بین الاقوامی سطح پر ایک ذمہ دار اور موثر ثالث کا کردار ادا کیا، جس کی مثال اسلام آباد میں ہونے والے اہم مذاکرات ہیں جہاں عالمی قوتوں کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوشش کی گئی۔انہوں نے کہا کہ موثر سفارتکاری کے نتیجے میں پاکستان نہ صرف خطے میں امن کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے بلکہ عالمی برادری میں بھی اس کی ساکھ مضبوط ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں توازن، خودمختاری اور قومی مفادات کا تحفظ واضح طور پر نظر آتا ہے۔

میاں کاشف اشفاق نے اس بات پر زور دیا کہ ملک کی ترقی اور استحکام کے لیے سیاسی اور عسکری قیادت کے درمیان ہم آہنگی انتہائی ضروری ہے، اور حالیہ کامیابیاں اسی مشترکہ وژن کا نتیجہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہی تسلسل برقرار رکھا جائے تو پاکستان مستقبل میں مزید معاشی، سفارتی اور دفاعی کامیابیاں حاصل کر سکتا ہے۔انہوں نے قوم کو تلقین کی کہ وہ اتحاد، محنت اور قومی یکجہتی کو فروغ دے تاکہ ملک کو درپیش چیلنجز کا موثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے اور پاکستان عالمی سطح پر مزید مضبوط اور مستحکم ہو سکے۔

مزید خبریں