صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ معیاری تعلیم اور نوجوانوں کے لیے مواقع میں اضافے کے لیے شعبہ تدریس کو مضبوط بنانا ناگزیر ہے۔ عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق اساتذہ کی تعلیم، پیشہ ورانہ ترقی اور معاون تدریسی ماحول میں مسلسل سرمایہ کاری جاری رکھنا ہوگی ، استاد اور طالب علم کے درمیان بنیادی تعلق کو برقرار رکھتے ہوئے اساتذہ کو نئی ٹیکنالوجیز کے استعمال کے …
معیاری تعلیم اور نوجوانوں کے لیے مواقع میں اضافے کے لیے شعبہ تدریس کو مضبوط بنانا ناگزیر ہے ۔ صدر آصف زرداری کا عالمی یوم اساتذہ پر پیغام

مزید خبریں
اسلام آباد۔5اکتوبر (اے پی پی):صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ معیاری تعلیم اور نوجوانوں کے لیے مواقع میں اضافے کے لیے شعبہ تدریس کو مضبوط بنانا ناگزیر ہے۔ عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق اساتذہ کی تعلیم، پیشہ ورانہ ترقی اور معاون تدریسی ماحول میں مسلسل سرمایہ کاری جاری رکھنا ہوگی ، استاد اور طالب علم کے درمیان بنیادی تعلق کو برقرار رکھتے ہوئے اساتذہ کو نئی ٹیکنالوجیز کے استعمال کے لیے معاونت فراہم کی جانی چاہیے۔انہوں نے یہ بات عالمی یوم اساتذہ کے موقع پر اپنے پیغام میں کہی جو 5 اکتوبر کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں منایا جارہا ہے۔صدر آصف علی زرداری نے اس دن کے موقع پر پاکستان سمیت دنیا بھر کے اساتذہ کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے تعلیم، انسانی ترقی اور قومی تعمیر میں ان کی گراں قدر خدمات کو خراج تحسین پیش کیا ۔
انہوں نے کہا کہ اساتذہ ہر تعلیمی نظام کا مرکز و محور ہوتے ہیں جو علم کی فراہمی کے ساتھ ساتھ طالب علموں میں تحقیق و جستجو کو پروان چڑھانے، کردار سازی اور نوجوانوں کو معاشرے کے ذمہ دار اور مفید ارکان بننے کے لیے درکار مہارتوں اور اقدار سے روشناس کراتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اساتذہ کا اثر و کردار کلاس روم سے کہیں آگے تک پھیلا ہوا ہے اور اس کے اثرات خاندانوں اور معاشروں کی زندگیوں میں نمایاں ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس سال عالمی یوم اساتذہ کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کہ یہ "اساتذہ کے مقام ” سے متعلق 1966ء کی آئی ایل او/یونیسکو سفارشات کی 60ویں سالگرہ کے موقع پر منایا جا رہا ہے۔ اس سال کا موضوع "اساتذہ کے ساتھ کھڑا ہونا : 60 سال تک پیشے کا تحفظ، ان کے مرتبے کو اگے بڑھانا اور ہمارے مستقبل کی تشکیل” اساتذہ کی اہمیت کو تسلیم کرنے اور انہیں درکار پیشہ ورانہ معاونت اور مواقع فراہم کرنے کی ضرورت اجاگر کرتا ہے۔
صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان میں تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے اور بچوں و نوجوانوں کے لیے مواقع میں اضافے کے لیے شعبہ تدریس کو مضبوط بنانا ناگزیر ہے۔ ہمیں اساتذہ کی تعلیم، پیشہ ورانہ ترقی اور معاون تدریسی ماحول میں مسلسل سرمایہ کاری جاری رکھنا ہوگی تاکہ وہ اپنے طالب علموں کی بدلتی ہوئی تعلیمی ضروریات پوری کرنے کے لیے بہتر طور پر تیار ہوں۔انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت سمیت ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی بھی تعلیم کی فراہمی کے طریقہ کار کو تبدیل کر رہی ہے۔ ٹیکنالوجی تدریس اور سیکھنے کے عمل میں معاون ثابت ہو سکتی ہے تاہم یہ ان انسانی خصوصیات کا متبادل نہیں بن سکتی جو اساتذہ کلاس روم میں لے کر آتے ہیں جن میں ہمدردی، رہنمائی، اخلاقی تربیت اور طلبہ کو سمجھنے اور متاثر کرنے کی صلاحیت شامل ہے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ استاد اور طالب علم کے درمیان انسانی تعلق کو تعلیمی محور کی حیثیت سے برقرار رکھتے ہوئے اساتذہ کو نئی ٹیکنالوجیز کے استعمال کے لیے معاونت فراہم کی جانی چاہیے۔ صدر مملکت نے دور دراز، پسماندہ اور مشکل حالات سے دوچار علاقوں میں خدمات انجام دینے والے اساتذہ کی خصوصی طور پر تعریف کرتے ہوئے کہا کہ بہت سے بچوں کے لیے معیاری تعلیم کا انحصار براہ راست ان کے اسکول کے استاد کی محنت اور عزم پر ہوتا ہے۔ ایسے اساتذہ کے لئے ضروری تربیت، وسائل اور سازگار حالات کار کی فراہمی کو یقینی بنانا ہر بچے کو سیکھنے اور آگے بڑھنے کا منصفانہ موقع دینے کے لیے ضروری ہے۔ صدر مملکت نے اس موقع پر حکومتوں، تعلیمی اداروں، والدین، کمیونیٹیز، سول سوسائٹی اور نجی شعبے پر زور دیا کہ وہ تدریسی پیشے کو مضبوط بنانے اور اس قدر و منزلت میں اضافہ کے لیے مل کر کام کریں۔
انہوں نے کہا کہ اساتذہ کی معاونت پاکستان کی تعلیم اور مستقبل میں سرمایہ کاری ہے۔صدر مملکت نے تمام پاکستانی اساتذہ کو ان کی لگن، صبر واستقامت اور خدمات پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی محنت ان نسلوں کے علم، کردار اور امنگوں کو وضع کرتی ہے جو ہمارے ملک کا مستقبل سنواریں گی۔







