اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ مغربی کنارے میں 2023 سے اب تک 6,500 سے زیادہ فلسطینی شہری اسرائیلی آبادکاروں کے حملوں اور رسائی پر پابندیوں کے باعث بے گھر ہو چکے ہیں۔ شنہوا کے مطابق یہ بات گزشتہ روز اقوام متحدہ کے شعبہ برائے انسانی امور (او سی ایچ اے)نے ایک بیان میں کہی۔
مغربی کنارے میں 2023 سے اب تک 6,500 فلسطینی یہودی آبادکاروں کے حملوں و رسائی پر پابندیوں کے باعث بے گھر ہو چکے ہیں،اقوام متحدہ

مزید خبریں
اقوام متحدہ۔25ستمبر (اے پی پی):اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ مغربی کنارے میں 2023 سے اب تک 6,500 سے زیادہ فلسطینی شہری اسرائیلی آبادکاروں کے حملوں اور رسائی پر پابندیوں کے باعث بے گھر ہو چکے ہیں۔ شنہوا کے مطابق یہ بات گزشتہ روز اقوام متحدہ کے شعبہ برائے انسانی امور (او سی ایچ اے)نے ایک بیان میں کہی۔ اوچا نےبتایا کہ ایک تازہ ترین نقشے میں ان آبادیوں کے مقامات دکھائے گئے جہاں سے لوگ بے گھر ہوئے جن میں 2023 سے اب تک آبادکاروں کے 6,000 سے زیادہ حملوں کے مقامات بھی شامل ہیں، ان حملوں کے نتیجے میں فلسطینیوں کی جانوں اور املاک کو نقصان ہوا۔
ادارے کا کہنا ہے کہ 49 آبادیاں مکمل طور پر جبکہ 83 آبادیاں جزوی طور پر بے گھر ہوئیں، اس کے علاوہ تقریباً 88,000 درخت و پودے جو بہت سے لوگوں کے معاش کا اہم ذریعہ ہیں اور 3,100 سے زیادہ گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا ۔ اوچا نے کہا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقے کے تمام فلسطینیوں کو تحفظ فراہم کیا جانا چاہیے اور انہیں اپنے گھروں، زیتون کے باغات، کام کی جگہوں، سکولوں اور بنیادی خدمات تک محفوظ اور باوقار انداز میں رسائی حاصل ہونی چاہیے۔ادارے نے زور دیا کہ حملوں کے ذمہ دار افراد کو جوابدہ ٹھہرایا جائے۔
دریں اثنا، اقوام متحدہ کے آبادی فنڈ (یواین ایف پی اے )نے مغربی کنارے و غزہ میں خواتین اور لڑکیوں کے خلاف صنفی بنیاد پر بڑھتے تشدد بارے بھی آگاہ کیا ہے۔ او چا نے کہا کہ رواں سال کی دوسری سہ ماہی میں رپورٹ کیے گئے واقعات گزشتہ سہ ماہی کے مقابلے میں 30 فیصد سے زیادہ بڑھ چکے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خواتین اور لڑکیوں کو وسائل، مواقع اور خدمات سے محرومی کے ساتھ ساتھ جذباتی، جسمانی اور جنسی تشدد کا سامنا ہے جس میں جبری یا کم عمری کی شادی بھی شامل ہے۔







