سرینگر ۔ 4 نومبر (اے پی پی) مقبوضہ کشمیر میں پیر کو مسلسل 92 ویں روز بھی وادی کشمیر اور جموں کے مسلم اکثریتی علاقوں میںبڑی تعداد میں بھارتی فوجیوںکی تعیناتی اور دفعہ144کے تحت عائد پابندیوںکی وجہ سے معمولات زندگی مفلوج رہے۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق اگرچہ پوسٹ پیڈ موبائل فون اور لینڈ لائن ٹیلیفون پر پابندی جزوی طورپر ہٹادی گئی ہے تاہم اس جدید دور میں بھی وادی …
مقبوضہ کشمیر میں مسلسل 92 روز بھی معمولات زندگی مفلوج
سرینگر ۔ 4 نومبر (اے پی پی) مقبوضہ کشمیر میں پیر کو مسلسل 92 ویں روز بھی وادی کشمیر اور جموں کے مسلم اکثریتی علاقوں میںبڑی تعداد میں بھارتی فوجیوںکی تعیناتی اور دفعہ144کے تحت عائد پابندیوںکی وجہ سے معمولات زندگی مفلوج رہے۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق اگرچہ پوسٹ پیڈ موبائل فون اور لینڈ لائن ٹیلیفون پر پابندی جزوی طورپر ہٹادی گئی ہے تاہم اس جدید دور میں بھی وادی کشمیرمیںانٹرنیٹ اور پری پیڈ موبائل فون سروسزمسلسل معطل ہیں۔ کشمیری عوام بھارتی تسلط اور مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کے 5اگست کے یکطرفہ اقدام کے خلاف جاری خاموش احتجاج کے طورپر اپنی دکانیں صبح اور شام کے وقت دو گھنٹے کھولنے کے سوا بندرکھتے ہیں،طلباء سکول نہیںجارہے ہیں اور سرکاری نجی دفاتر میں حاضری انتہائی کم ہے جبکہ سڑکوںپرپبلک ٹرانسپورٹ مسلسل معطل رہی۔ جموںوکشمیر پینتھرز پارٹی کے سربراہ بھیم سنگھ نے جموںمیں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بھارتی صدر پر زوردیا ہے کہ وہ جموںوکشمیر کے امور میں مداخلت کریںتاکہ مقبوضہ کشمیر کی تقسیم کے باعث پیدا ہونیوالی صورتحال مزید خراب نہ ہوجائے۔ انہوںنے کہاکہ سپریم کورٹ کی طرف سے دفعہ 370کی منسوخی کی آئینی حیثیت طے کئے جانے کے بعد نومبر کے وسط میں ایک ہنگامی اجلا س بلایا جانا چاہیے۔ مقبوضہ کشمیر کو دووفاقی علاقوںمیں تقسیم کرنے پر مختلف علاقوںمیں منعقد کی جانیوالی تقاریب کے دوران بی جے پی کے رہنمائوںکو کشمیریوںکی اراضی اور نوکریوںکے حق کے تحفظ میں ناکامی پر جموںکے عوام کے غم و غصے کا سامناکرنا پڑا ہے جس کا وعدہ 5اگست کے یکطرفہ اقدام کے بعد ان سے کیاگیا تھا ۔ تاہم بھارتی حکومت کی طرف سے جاری سرکلر میں اس بارے میں کوئی ذکر نہیں کیاگیا ہے









