ملتان۔29اگست (اے پی پی):ڈائریکٹر سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (سی سی آر آئی )ملتان ڈاکٹر زاہد محمود نے کہا ہے کہ کاشتکار پھٹی کی اچھی قیمت حاصل کرنے کے لئے چنائی پر خصوصی توجہ دیں۔ کاشتکاروں کے نام اپنےپیغام میں انہوں نے کہا کہ یہ بات عام مشاہدہ میں آئی ہے کہ کپاس کی چنائی کے دوران بے احتیاطی اور اسے صاف جگہ پر نہ رکھنے کی وجہ سے اس میں نمی، کچے ٹینڈے، سانگلی، انسانی بال ، سگریٹ کے ٹکڑے، ٹافی کے ریپرز، مٹی، رسیاں، پولی تھین بیگ کے ٹکڑے، پلاسٹک کی اشیاءکے ٹکڑے اور سوتلی وغیرہ شامل ہوجاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نمی والی کپاس سٹور کرنے سے اس کا رنگ تبدیل ہو جاتا ہے جس سے نہ صرف روئی کی کوالٹی خراب ہوتی ہے بلکہ دھاگہ اور کپڑے کا معیار بھی گر جاتا ہے،اس کے ساتھ بنولے میں موجود تیل کا تناسب بھی کم ہوجاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ کاشتکار اعلیٰ معیار کی روئی حاصل کرنے کیلئے چنائی تقریباً دن کے 10بجے کے بعد شروع کریں تاکہ فصل پر پڑی شبنم خشک ہوجائے، چنائی پودے کے نیچے والے حصہ سے اوپر کی طرف کی جائے، ایک چنائی سے دوسری چنائی کا درمیانی وقفہ 20دن سے کم نہیں ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ چنی ہوئی پھٹی کو ترپال یا سوتی کپڑے کی چادرپرصاف اور خشک جگہ پر بچھا ئیں، پھٹی کےزیادہ بڑے ڈھیرنہ لگائیں بلکہ مخروطی شکل میں تھوڑے تھوڑے فاصلہ پر رکھیں تاکہ ان میں ہوا کا گزر آسانی سے ہو سکے۔انہوں نے کہا کہ آخری چنائی کو پہلی اور دوسری چنائی سے الگ رکھنا چاہیے ، کپاس کو ایسے سٹورز میں رکھیں جو ہوادار اور خشک ہوں، اگر کھلے میدان میں رکھنا مقصود ہو تواونچی جگہ پر رکھیں اور بارش سے بچاؤ کےلئے ترپالوں کا بندوبست کریں ۔انہوں نے کہا کہ دوران ذخیرہ یا باربرداری کپڑے کی چادریں یا سوتی بوریاں استعمال کریں ، پٹ سن ، پولی تھین کے تھیلے یا ٹاٹ وغیرہ استعمال نہ کریں ۔
Short Link: https://urdu.app.com.pk/urdu/?p=324355