22.6 C
Islamabad
پیر, ستمبر 1, 2025
ہومتازہ ترینملک بھر میں سیلاب کے باعث تقریباً 20 لاکھ افراد بے گھر...

ملک بھر میں سیلاب کے باعث تقریباً 20 لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ،متاثرہ علاقوں میں خوراک اور ادویات سمیت دیگر ضروری اشیا کی فراہمی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے،ڈاکٹر مصدق ملک

- Advertisement -

اسلام آباد۔31اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ ملک بھر میں تباہ کن سیلاب کے باعث تقریباً 20 لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں ، اس بحران کا سب سے زیادہ اثر ملک کے غریب ترین طبقات پر پڑ رہا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کو چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدرملک کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتےہوئے کیا۔

وفاقی وزیرنےکہا کہ ہماری پہلی دوسری اور تیسری ترجیح وہ 40 فیصد غریب افراد تقریباً 8 لاکھ لوگ ہیں جن کے پاس سہارا دینے والےان کے امیر رشتہ دار موجود نہیں اور جو انتہائی مدد کے محتاج ہیں ۔ وفاقی وزیر نے قوم سے اپیل کی کہ وہ غریبوں کے ساتھ کھڑے ہوں،اگر آپ کے علاقے میں کوئی این جی او کام کر رہی ہے یا آپ خود کسی بے گھر خاندان کی مدد کر سکتے ہیں تو ضرور کریں۔انہوں نے کہا کہ حکومت فوری امدادی اقدامات کو ترجیح دے رہی ہے جن میں خوراک، ادویات، مچھر دانیاں، صاف پینے کا پانی، پانی کے ٹینک اور عارضی بجلی کی فراہمی شامل ہیں تاکہ متاثرہ علاقوں میں ریلیف پہنچایا جا سکے۔حکام نے خبردار کیا ہے کہ عارضی کیمپوں میں گنجان آبادی کی وجہ سے وبائی امراض پھیلنے کا خدشہ ہے اس لیے نگرانی سخت کر دی گئی ہے۔

- Advertisement -

مصدق ملک نے کہا کہ وزیرِ اعظم شہباز شریف اگرچہ ملک سے باہر ہیں لیکن وہ روزانہ امدادی سرگرمیوں پر بریفنگ لے رہے ہیں اور ہدایات جاری کر رہے ہیں۔ یہی رپورٹس ملک کی عسکری قیادت فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کو بھی فراہم کی جاتی ہیں جو زمینی صورتحال کی خود نگرانی کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت صوبوں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی ہے، فوج، رینجرز، این ڈی ایم اے، پی ڈی ایم اے اور ریسکیو 1122 سب مل کر کام کر رہے ہیں۔کوئی قدرتی آفت کو روک نہیں سکتا، لیکن ہم نقصان کم سے کم کرنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران کی گئی ابتدائی مشقوں اور انخلا کی تیاریوں کی بدولت انسانی جانوں کے ضیاع کو گزشتہ آفات کے مقابلے میں کم کیا جا سکا ہے۔اگرچہ جائیداد، فصلیں اور روزگار تباہ ہو چکے ہیں۔سیلابی پانی اب بھی ہیڈ تریموں، ہیڈ پنجند اور کوٹ مٹھن میں ایک بڑا خطرہ بنا ہوا ہے جہاں کئی دریاؤں کا ملاپ ہوتا ہے۔ حکام پانی کے بہاؤ کو دس لاکھ کیوسک سے کم رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں،زیادہ آبادی والے علاقوں کو بچانے کے لیے غیر آباد علاقوں میں کنٹرولڈ شگاف ڈالنے کا منصوبہ ہے۔مصدق ملک نے پنجاب کے جغرافیہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ جہاں پانچ دریا آپس میں ملتے ہیں وہاں بڑا چیلنج ہے اگر حالات مزید خراب ہوئے تو پنجند نظام میں پانی کا بہاؤ 30 لاکھ کیوسک تک جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ درجہ حرارت کے بڑھنے سے گلیشیئر پگھل رہے ہیں اور یہ پگھلاؤ فلیش فلڈز اور بندشوں جیسی آفات کا سبب بن رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا بھر کے کاربن اخراج میں ایک فیصد سے بھی کم حصہ ڈالتا ہے مگر اس کے باوجود نتائج کا سب سے زیادہ سامنا اسی کو کرنا پڑ رہا ہے۔ دنیا کے 8 سے 10 بڑے ممالک 70 فیصد اخراج کے ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے کہاکہ نارووال، سیالکوٹ اور خیبر پختونخوا کے سیلاب زدہ علاقوں میں صوبائی حکومتوں اور سیکیورٹی فورسز کی کوششوں کو سراہتے ہیں۔ انہوں نے اس موقع پر قومی اتحاد اور یکجہتی پر زور دیا۔

اس موقع پرچیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدرملک نے کہا کہ آئندہ مون سون کی صورتحال سے نمٹنے کیلئے اقدامات کئے جائیں گے، آئندہ دس روز تک ارلی وارننگ الرٹ کا سلسلہ جاری ہے۔ این ڈی ایم اے اضلاع کی انتظامیہ سے مکمل رابطہ میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب کے پہلے مرحلہ میں زیادہ سے زیادہ انسانی جانیں بچائی ہیں، بارشوں اورسیلاب سے 850 جانوں کا نقصان ہواہے۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ علاقوں سے شہریوں کومحفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔

متاثرہ علاقوں میں انفراسٹرکچر کی بحالی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام دریائوں کی مسلسل مانیٹرنگ کی جارہی ہے۔آئندہ تین سے چار روز میں مزید بارشیں متوقع ہیں۔ بارشوں اور سیلابی صورتحال کے حوالے سے الرٹ جاری کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تمام ادارے مربوط انداز میں کام کر رہے ہیں۔

 

- Advertisement -
متعلقہ خبریں
- Advertisment -

مقبول خبریں