ماہرین نے کہا ہے کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ وسیع تر علاقائی سکیورٹی نظام کی تشکیل کی جانب اہم ابتدائی قدم ثابت ہوسکتا ہے جبکہ مستقبل میں دیگر ممالک کی شمولیت کے امکانات خطے میں امن و استحکام کے فروغ کی امید پیدا کرتے ہیں۔
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ وسیع تر علاقائی سکیورٹی نظام کی راہ ہموار کرسکتا ہے، ماہرین

مزید خبریں
اسلام آباد۔19اگست (اے پی پی):ماہرین نے کہا ہے کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ وسیع تر علاقائی سکیورٹی نظام کی تشکیل کی جانب اہم ابتدائی قدم ثابت ہوسکتا ہے جبکہ مستقبل میں دیگر ممالک کی شمولیت کے امکانات خطے میں امن و استحکام کے فروغ کی امید پیدا کرتے ہیں۔ماہرین نے ان خیالات کا اظہار انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز اسلام آباد (آئی ایس ایس آئی) کے سینٹر فار افغانستان، مڈل ایسٹ اینڈ افریقہ کے زیر اہتمام ’’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ اور ابھرتا ہوا علاقائی سکیورٹی نظام‘‘ کے موضوع پر منعقدہ گول میز مباحثے میں کیا۔
بدھ کو یہاں جاری پریس ریلیز کے مطابق مباحثے میں سابق سفارتکاروں، معروف ماہرین تعلیم، سکیورٹی تجزیہ کاروں اور دیگر ماہرین نے شرکت کی۔شرکا نے حال ہی میں طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی اہمیت، خطے کی سکیورٹی صورتحال پر اس کے ممکنہ اثرات اور ابھرتے ہوئے علاقائی سکیورٹی نظام میں پاکستان کے کردار پر تبادلہ خیال کیا۔
شرکا نے کہاکہ یہ معاہدہ وسیع تر علاقائی سکیورٹی نظام کی جانب پہلا قدم سمجھا جاسکتا ہے۔ مستقبل میں دیگر ریاستوں کی ممکنہ شمولیت کے ساتھ یہ معاہدہ خطے میں امن اور استحکام کے فروغ میں کردار ادا کرسکتا ہے۔انہوں نے معاہدے کی دفاعی نوعیت پر زور دیتے ہوئے واضح کیا کہ یہ کسی بھی ملک کے خلاف نہیں ہے۔








