میں نے نیٹو کو بکھرنے سے بچایا ،امریکی صدر کا دعویٰ

واشنگٹن۔21جنوری (اے پی پی):امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ مغربی دفاعی اتحاد ’’نیٹو‘‘ ان کے کردار اور قیادت کے بغیر قائم نہ رہ پاتا اور انہوں نے نیٹو کو وہ کچھ دیا جو کوئی سابق امریکی صدر فراہم نہیں کر سکا۔ العربیہ اردو کے مطابق انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے بیان میں کہا کہ اگر وہ منظر پر نہ آتے تو نیٹو کا …

واشنگٹن۔21جنوری (اے پی پی):امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ مغربی دفاعی اتحاد ’’نیٹو‘‘ ان کے کردار اور قیادت کے بغیر قائم نہ رہ پاتا اور انہوں نے نیٹو کو وہ کچھ دیا جو کوئی سابق امریکی صدر فراہم نہیں کر سکا۔ العربیہ اردو کے مطابق انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے بیان میں کہا کہ اگر وہ منظر پر نہ آتے تو نیٹو کا وجود ختم ہو جاتا ۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اتحاد کے برقرار رہنے میں ان کی مداخلت فیصلہ کن ثابت ہوئی اور اسے انہوں نے ایک افسوس ناک مگر سچی حقیقت قرار دیا۔

امریکی صدر کا کہنا ہے کہ ان کے دباؤ کے نتیجے میں نیٹو کے رکن ممالک نے دفاعی اخراجات میں اربوں ڈالر کا اضافہ کیا جو ان کی پالیسی کی کامیابی کا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے نیٹو کو بکھرنے سے بچایا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نیٹو کے درمیان کشیدگی کا آغاز ان کی پہلی صدارتی مدت 2017 سے 2021 کے دوران ہوا۔ اس عرصے میں ٹرمپ نے نیٹو پر بار بار تنقید کی اور کہا کہ امریکا اس کے فوجی اخراجات کا سب سےزیادہ بوجھ اٹھاتا ہے جبکہ کئی یورپی ممالک متفقہ دفاعی اخراجات کی شرح یعنی مجموعی قومی پیداوار کے 2 فیصد پر عمل درآمد نہیں کرتے۔

اسی مدت کے دوران امریکی صدر نے متعدد مرتبہ نیٹو کے حوالے سے امریکی وابستگی کم کرنے کا عندیہ دیا بلکہ یہ سوال بھی اٹھایا کہ امریکا کو ان ممالک کا دفاع کیوں کرنا چاہیے جو اپنا طے شدہ حصہ بھی ادا نہیں کرتے۔ اس طرزِ بیان کے باعث یورپ میں شدید تشویش پیدا ہوئی ۔امریکی صدر اب بھی اس مؤقف پر قائم ہیں کہ اتحاد کو نئی زندگی دینے اور رکن ممالک پر مالی ذمہ داریاں عائد کرنے میں ان کا کردار فیصلہ کن رہا۔