اسلام آباد۔4جون (اے پی پی):وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اصلاحات احسن اقبال نے کہا ہے کہ نئے مالی سال کیلئے سرکاری شعبہ کے سالانہ ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی) کا حجم 800 ارب روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے، 100 ارب روپے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت خرچ ہوں گے، پی ایس ڈی پی کے بجٹ کو دانشمندانہ اور ملکی مفاد میں ترتیب دیا گیا ہے، جاری منصوبوں کی تکمیل پر ہماری زیادہ توجہ ہے، بلوچستان ہمارے ترقیاتی بجٹ کا اہم ہدف ہے، بلوچستان کو دیگر صوبوں کے مقابلہ میں زیادہ ترقیاتی فنڈز دیئے جا رہے ہیں تاکہ وہاں پر جاری منصوبوں کو مکمل کیا جا سکے اور نئے منصوبے بھی شروع ہوں۔
ہفتہ کو یہاں پلان کوآرڈینیشن کمیٹی سالانہ کے اجلاس کے بعد سیکرٹری منصوبہ بندی سیّد ظفر علی شاہ کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ آج کے اجلاس میں وفاقی وزارتوں اور ڈویژنوں کے نمائندوں کے علاوہ خیبرپختونخوا، سندھ اور بلوچستان کے وزراء اور ترقیاتی شعبہ کے افسران نے شرکت کی۔
اجلاس میں بجٹ کیلئے سالانہ ترقیاتی پروگرام سے متعلق سفارشات کوقومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں پیش کرنے کیلئے مختلف وزارتوں، ڈویژنوں اور صوبوں کی سفارشات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا اور ان سے حاصل کردہ فیڈ بیک کے مطابق سفارشات کو حتمی شکل دیدی گئی جسے 8 جون کو قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ اس سال پی ایس ڈی پی کا حجم 800 ارب روپے ہو گا جس میں سے 100 ارب روپے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت خرچ ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ نئے مالی سال کیلئے پی ایس ڈی پی کی تشکیل و ترتیب خطرناک اور جان جوکھوں والا کام تھا کیونکہ گذشتہ 74 سالوں میں پہلی بار مالی سال کی چوتھی سہ ماہی میں ترقیاتی منصوبوں کیلئے کوئی قسط ریلیز نہیں ہوئی۔
احسن اقبال نے کہا کہ نئے مالی سال کیلئے وزارت خزانہ نے پی ایس ڈی پی کیلئے 700 ارب روپے کے فنڈز مختص کرنے کی نشاندہی کی، 2018ء میں جب ہم حکومت چھوڑ رہے تھے تو اس وقت ہمارا ترقیاتی بجٹ تقریباً ایک ہزار ارب روپے تھا، چار برسوں میں اس بجٹ کو 2 ہزار ارب روپے تک بڑھنا چاہئے تھا لیکن گذشتہ سال اس کا حجم کم ہو کر 500 ارب روپے ہو گیا جو 2018ء کے مقابلہ میں 50 فیصد کم ہے، عوام کی ترقیاتی ضروریات میں اضافہ ہوا لیکن بدقسمتی سے بجٹ کم ہوا، یہ ایک چیلنج اور المیہ ہے۔
احسن اقبال نے کہا کہ مشکلات کے باوجود ہم نے کوشش کی ہے کہ پی ایس ڈی پی کے بجٹ کو دانشمندانہ اور ملکی مفاد میں ترتیب دیا جائے، جاری منصوبوں کی تکمیل پر ہماری زیادہ توجہ ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ چار برسوں میں پی ایس ڈی پی میں 44 فیصد کے قریب صوبائی نوعیت کے منصوبوں کو شامل کیا گیا، جن منصوبوں میں وفاق کو شامل ہونا چاہئے تھا وہاں پر صوبائی منصوبے شامل کئے گئے جس سے وفاقی وزارتوں جیسے مواصلات اور پورٹ اینڈ شپنگ کی کارکردگی متاثر ہوئی۔
وفاقی وزیر نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ گوادر میں چار سال کیلئے گریجنگ کیلئے پیسے درکار تھے کیونکہ گوادر کی بندرگاہ پر 11 فٹ کی سیلٹنگ ہوئی ہے لیکن اس کیلئے کوئی فنڈز مختص نہیں کئے گئے، گوادر میں عوام کو پانی اور بجلی کے مسائل کو حل کرنے کیلئے فنڈز دستیاب نہیں تھے، اس کی بنیادی وجہ یہی تھی کہ 45 فیصد بجٹ کو سیاسی بنیادوں پر گلیوں کی تعمیر پر خرچ کیا گیا، ہماری کوشش ہے کہ اس کو جلد از جلد کم کیا جائے۔
وفاقی وزیر نے پی ایس ڈی پی کے حوالہ سے حکومتی ترجیحات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کے وژن کی روشنی میں ترقی کی بنیادی ضرورتوں جیسے پانی کے وسائل کو ترقی دینا ہماری پہلی ترجیح ہے، دیامیر بھاشا ڈیم کی اراضی کی خریداری کیلئے ہماری حکومت نے 120 ارب روپے سے زیادہ خرچ کئے تھے، ہم اس منصوبہ کو جلد از جلد مکمل کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے علاوہ دیگر آبی وسائل کی ترقی کو یقینی بنانے کیلئے فنڈز مختص کرنا ہماری ترجیحات میں شامل ہے، اعلیٰ تعلیم کا شعبہ بھی پی ایس ڈی پی کا ترجیحی حصہ ہے، اس کے تحت نوجوانوں کیلئے فنڈز اور وظائف میں اضافہ کیا جائے گا، فزیکل انفراسٹرکچر جیسے روڈز، شاہراہیں اور بندرگاہوں کی تعمیر ہماری تیسری اہم ترجیح ہے، ان شعبوں میں اہم اور کلیدی سرمایہ کاری کو یقینی بنایا جائے گا۔
وزیر منصوبہ بندی نے کہا کہ انفارمیشن اور سائنس و ٹیکنالوجی کا فروغ ہماری چوتھی اہم ترجیح ہے، نئے مالی سال میں اختراعی فنڈ کے قیام کے حوالہ سے منصوبہ بندی کی گئی ہے، اسی طرح ای۔گورنمنٹ کیلئے فنڈ مختص کئے جائیں گے جس سے حکومتی اداروں اور وزارتوں کی ڈیجیٹائزیشن کے عمل کو مکمل کیا جائے گا، سائبر سکیورٹی اور مصنوعی ذہانت میں نوجوانوں کی تربیت اور مہارتوں میں اضافہ کیا جائے گا جبکہ سرٹیفکیٹ پروگرام بھی شروع کئے جائیں گے۔
احسن اقبال نے کہا کہ نئے مالی سال کے پی ایس ڈی پی میں بلوچستان اور نوجوانوں کیلئے کئی سکیمیں شروع کی جا رہی ہیں، ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے منصوبوں کے علاوہ وزیراعظم میرٹ بیسڈ لیپ ٹاپ سکیم کے تحت ہونہار طالب علموں کو لیپ ٹاپ فراہم کئے جائیں گے۔ اس کے علاوہ ایک اور سکیم بھی متعارف کرائی جا رہی ہے جس کے تحت اعلیٰ تعلیمی اداروں کے طالب علم آسان قسطوں پر لیپ ٹاپ خرید سکیں گے، ہماری خواہش ہے کہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے نوجوانوں کے پاس لیپ ٹاپ موجود ہوں تاکہ وہ ملکی ترقی اور خوشحالی میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔
احسن اقبال نے کہا کہ صوبوں کے تعاون سے پیشہ وارانہ تربیت کے 250 انسٹی ٹیوٹ قائم کئے جائیں گے۔ اس کے علاوہ صوبوں کے اشتراک کار سے 250 منی سپورٹس سٹیڈیم بھی تعمیر کئے جائیں گے، چین۔پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت مختلف منصوبوں کو فاسٹ ٹریک بنیادوں پر مکمل کرنے کیلئے وسائل اور فنڈز مختص کرنے کو یقینی بنایا جائے گا، اسی طرح پرانے گوادر شہر میں بجلی اور پانی کے مسائل کے حل کیلئے فنڈز مختص کئے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان ہمارے ترقیاتی بجٹ کا اہم ہدف ہے، بلوچستان کو دیگر صوبوں کے مقابلہ میں زیادہ ترقیاتی فنڈز دیئے جا رہے ہیں تاکہ وہاں پر جاری منصوبوں کو مکمل کیا جا سکے اور نئے منصوبے بھی شروع ہوں۔ انہوں نے کہا کہ سابق فاٹا کے ضم شدہ اضلاع میں ترقیاتی منصوبوں کیلئے 50 ارب روپے کے فنڈز مختص کرنے کی تجویز ہے۔
اسی طرح گلگت بلتستان کیلئے بھی فنڈز مختص ہوں گے۔ احسن اقبال نے کہا کہ نئےمالی سال کےلئے گروتھ کی شرح 5 فیصد کے قریب ہے جو گذشتہ سال 4.8 فیصد تھی۔ انہوں نے کہا کہ جاری مالی سال کے اہداف پرانی بیس (base) پر رکھے گئے ہیں، 6 ماہ قبل سابق حکومت نے ری بیسنگ کی ہے جس کے تحت اب اہداف نئی بیس پر ہوں گے۔
Short Link: https://urdu.app.com.pk/urdu/?p=310554