نائب وزیراعظم سینیٹر محمد اسحاق ڈار کا شنگھائی تعاون تنظیم کی وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس سے خطاب، شنگھائی تعاون تنظیم کے منشور کے مقاصد سے پاکستان کی مکمل وابستگی کا اعادہ

نائب وزیراعظم سینیٹر محمد اسحاق ڈار کا شنگھائی تعاون تنظیم کی وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس سے خطاب، شنگھائی تعاون تنظیم کے منشور کے مقاصد سے پاکستان کی مکمل وابستگی کا اعادہ

 

اسلام آباد۔24جولائی (اے پی پی):نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے شنگھائی تعاون تنظیم کے منشور کے مقاصد سے پاکستان کی مکمل وابستگی کا ایک بار پھر اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں شنگھائی تعاون تنظیم کی صلاحیتوں پر مکمل یقین ہے اور پاکستان ایک قابل اعتماد اور مخلص شراکت دار کی حیثیت سے اپنے خطے کو پائیدار امن اور مشترکہ خوشحالی کا گہوارہ بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کرغزستان کے شہر چولپون آتا میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کی وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کرغز جمہوریہ کے وزیر خارجہ کو شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے کامیاب انعقاد پر دلی مبارکباد پیش کی۔ نائب وزیراعظم نے کہا کہ میں کرغزستان کے صدر جپاروف کے وژن کو بھی خراج تحسین پیش کرتا ہوں جن کی وسطی ایشیا میں تعاون کے فروغ کے لیے ثابت قدم قیادت شنگھائی تعاون تنظیم کی ترقی اور پیش رفت میں نمایاں کردار کی حامل رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’’شنگھائی فائیو‘‘ اور بعد ازاں شنگھائی تعاون تنظیم کے بانی رکن کی حیثیت سے کرغزستان نے ’’شنگھائی سپرٹ‘‘ کو وسطی ایشیا اور وسیع تر شنگھائی تعاون تنظیم کے خاندان میں مضبوط بنیاد فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے، کرغزستان کا قائدانہ کردار ہماری مشترکہ سلامتی کے نظام کا ایک بنیادی ستون ہے۔ انہوں نے کہا کہ2001ء میں قیام کے بعد سے شنگھائی تعاون تنظیم علاقائی تعاون کا ایک مضبوط ستون بن چکی ہے جس نے امن، سلامتی، استحکام، اقتصادی روابط اور رکن ممالک کے درمیان ثقافتی تبادلوں کے فروغ میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپنی 25ویں سالگرہ کے موقع پر ہم ’’شنگھائی سپرٹ‘‘ کی پائیدار قوت کا اعادہ کرتے ہیں جو باہمی اعتماد، مساوات، ثقافتی احترام، مشترکہ ترقی اور تعمیری سفارت کاری کے ذریعے ہماری اجتماعی کوششوں کی رہنمائی کرتی ہے۔

نائب وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ پچیس برسوں کے دوران شنگھائی تعاون تنظیم کی کامیابیاں واقعی قابل ذکر ہیں، یہ تنظیم سلامتی پر مرکوز ’’شنگھائی فائیو‘‘ سے ترقی کرتے ہوئے ایک جامع ادارہ بن چکی ہے جو سلامتی، معیشت، ترقی، ثقافت اور امن سمیت متعدد شعبوں پر محیط ہے، اقتصادی میدان میں رکن ممالک کے درمیان تجارت میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی جیسے ’’تین خطرات‘‘ کے خلاف ہماری مشترکہ کوششیں انتہائی موثر رہی ہیں، ہم بین الاقوامی قانون کے احترام اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ خوشگوار تعلقات کے فروغ میں شنگھائی تعاون تنظیم کے کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ پچیس برسوں میں شنگھائی تعاون تنظیم کو نئے اور ابھرتے ہوئے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مزید ارتقاء کی ضرورت ہوگی، 2035ء کی ترقیاتی حکمت عملی کے تحت ہمیں ڈیجیٹل شمولیت، ٹیکنالوجی کے فرق کو کم کرنے اور تاپی گیس پائپ لائن اور کاسا 1000 جیسے منصوبوں کے ذریعے توانائی کے تحفظ کو یقینی بنانا ہوگا، اسی طرح قومی کرنسیوں میں باہمی ادائیگیوں سمیت مالیاتی انضمام کو فروغ دے کر بیرونی جھٹکوں سے محفوظ علاقائی معیشت کی بنیاد رکھنا ہوگی۔

محمد اسحاق ڈار نے کہا کہ ہمارا خطہ ایک اہم دور سے گزر رہا ہے، پاکستان ہمیشہ سے ایک پرامن، مستحکم، علاقائی طور پر مربوط اور خوشحال افغانستان کا خواہاں رہا ہے جو اپنے اندر اور اپنے ہمسایوں کے ساتھ امن میں ہو، یہی شنگھائی تعاون تنظیم کے تمام رکن ممالک اور پورے خطے کے مفاد میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت افغانستان سے جنم لینے والی دہشت گردی ہمارے لیے سب سے سنگین سلامتی کے خطرات میں سے ایک ہے۔ ٹی ٹی پی، بی ایل اے، ای ٹی آئی ایم اور دیگر دہشت گرد تنظیمیں افغان طالبان حکومت کی نگرانی اور سہولت کاری میں افغان سرزمین سے بھرتی، تربیت اور کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغان طالبان حکومت کی جانب سے دہشت گرد تنظیموں کو فراہم کردہ سازگار ماحول کو اقوام متحدہ کی تجزیاتی معاونت اور پابندیوں کی نگرانی کرنے والی ٹیم نے بھی تفصیل سے دستاویزی شکل دی ہے۔

نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اس دہشت گردی کے خطرے کا سب سے زیادہ سامنا کرنے والا ملک ہے، ٹی ٹی پی کے دہشت گرد افغان سرزمین کو اپنی کارروائیوں کا مرکز بنا کر پاکستانی سکیورٹی فورسز اور شہریوں پر حملے کر رہے ہیں، صرف رواں سال کے دوران دو ہزار سے زائد دہشت گرد حملوں میں 560 سے زیادہ بے گناہ پاکستانی شہید ہوچکے ہیں، یہ بھی انتہائی تشویش ناک امر ہے کہ ان حملوں میں افغان شہریوں کی شمولیت بھی سامنے آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پائیدار امن، استحکام اور اقتصادی ترقی صرف اسی صورت ممکن ہے جب افغان سرزمین سے جنم لینے والی دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کیا جائے، ہمیں امید ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم افغان طالبان حکومت پر زور دے گی کہ وہ دہشت گردی کے خلاف اپنے بین الاقوامی وعدوں کی پاسداری کرے اور عالمی امن و سلامتی کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔

سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان کا پختہ یقین ہے کہ تنازعات کے حل اور دیرپا امن و سلامتی کے حصول کا واحد پائیدار راستہ بات چیت، سفارت کاری اور باہمی احترام ہے، اسی یقین کی بنیاد پر پاکستان نے اس سال 10 اور 11 اپریل کو اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کی میزبانی اور سہولیتی کردار ادا کیا جس کے نتیجے میں 47 برس بعد دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح کے براہ راست سفارتی روابط بحال ہوئے، اس سفارتی عمل کا اختتام جون 2026ء میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی صورت میں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تاریخی پیش رفت پاکستان کی ایران اور امریکہ دونوں کے ساتھ قریبی روابط اور علاقائی و عالمی شراکت داروں کے ساتھ بھرپور سفارتی کوششوں کے نتیجے میں ممکن ہوئی، پاکستان ایران اور امریکہ دونوں کی جانب سے اس مشکل مگر اہم ذمہ داری کے لیے اپنے اوپر کیے گئے اعتماد کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا پختہ موقف ہے کہ تمام حل طلب مسائل صرف مسلسل بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے ہی حل ہو سکتے ہیں۔ نائب وزیراعظم نے کہا کہ عالمی برادری کو اسلام آباد مفاہمتی یادداشت اور جاری تکنیکی مذاکرات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس تنازعہ کے مستقل، پرامن اور دیرپا حل کے لیے کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ ساتھ ہمیں ان عناصر سے بھی ہوشیار رہنا ہوگا جو علاقائی استحکام کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں، ایسے عناصر امن عمل کو سبوتاژ کرنے اور حاصل شدہ پیش رفت کو ناکام بنانے کے لیے ہر موقع سے فائدہ اٹھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ صرف باہمی تعاون ہی ہمیں خطے اور اس سے باہر دیرپا امن، استحکام اور خوشحالی کے مشترکہ مقصد تک پہنچا سکتا ہے۔ محمد اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان شنگھائی تعاون تنظیم کے مقاصد اور اصولوں سے اپنی غیر متزلزل وابستگی کا اعادہ کرتا ہے، 2005ء میں مبصر رکن سے 2017ء میں مکمل رکنیت تک پاکستان کا سفر کثیرالجہتی تعاون سے ہماری مضبوط وابستگی کا مظہر ہے، ہمارا وژن شنگھائی تعاون تنظیم کے خطے کو امن اور پائیدار ترقی کا گہوارہ بنانا ہے جہاں حق ترقی کو ایک بنیادی انسانی حق تصور کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ہم اپنی رکنیت کو علاقائی تبدیلی کے لیے ایک سٹریٹجک شراکت داری سمجھتے ہیں جس کی ایک نمایاں مثال اکتوبر 2024ء میں اسلام آباد میں شنگھائی تعاون تنظیم کی کونسل آف ہیڈز آف گورنمنٹ کے 23 ویں اجلاس کی کامیاب میزبانی ہے۔ نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اس وقت 2025-2026 کے لیے شنگھائی تعاون تنظیم کے علاقائی انسداد دہشت گردی ڈھانچے کی صدارت کر رہا ہے اور ڈیجیٹل و زمینی سرحدوں کے تحفظ کے لیے مشترکہ کوششوں کی قیادت کر رہا ہے، ہمیں امید ہے کہ رواں سال ستمبر میں ہم شنگھائی تعاون تنظیم کی کونسل آف ہیڈز آف سٹیٹ کی صدارت سنبھالیں گے اور 2027ء میں پاکستان میں سربراہی اجلاس کی میزبانی کریں گے، یہ پاکستان کے علاقائی اور عالمی کردار پر آپ کے اعتماد کا مظہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اقتصادی تعاون، علاقائی روابط اور عوامی سطح پر باہمی روابط کے فروغ کے لیے عملی اور مستقبل پر مبنی ایجنڈے کو آگے بڑھاتا رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ ہماری جغرافیائی اہمیت وسطی ایشیا کو بحیرہ عرب کے گرم پانیوں تک قدرتی رسائی فراہم کرتی ہے، چین-پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) بین العلاقائی روابط کی ایک کامیاب مثال ہے جو وسطی ایشیا کے خشکی میں گھرے ممالک کو گوادر بندرگاہ کے ذریعے عالمی منڈیوں تک موثر رسائی فراہم کرتی ہے اور وسیع تر علاقائی انضمام کا ذریعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدارت سنبھالنے کی تیاری کے ساتھ پاکستان اس یقین کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم کو اپنے عوام کے لیے عملی فوائد فراہم کرنا ہوں گے، ہم روابط اور تجارت میں سہولت، زرعی تعاون، نوجوانوں کی ترقی اور عوامی روابط کو ترجیح دیں گے۔

سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا کہ ہم آئندہ سال کونسل آف ہیڈز آف سٹیٹ کے سربراہی اجلاس کے لیے شنگھائی تعاون تنظیم کے تمام رکن ممالک کا پاکستان میں خیرمقدم کرنے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے چین کے وزیر خارجہ وانگ یی اور دیگر ہم منصبوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے خطے اور اس سے باہر امن و استحکام کے لیے پاکستان کی مخلصانہ کوششوں کو سراہا ہے۔

 

 

مزید خبریں