اسلام آباد۔29جون (اے پی پی):قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی (ایکنک) نے 19 منصوبوں کی منظوری دیدی۔ قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی (ایکنک ) کا اجلاس ہفتہ کو وزیراعظم ہاؤس میں منعقد ہوا ۔ وزیراعظم کی مصروفیات کے باعث اجلاس کی صدارت نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کی، اجلاس میں وزیر خزانہ، وزیر منصوبہ بندی، ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن، صوبائی حکومتوں کے نمائندوں کے علاوہ اعلیٰ افسران نے شرکت کی، اجلاس میں سنٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی ( سی ڈی ڈبلیو پی ) کے مختلف اجلاس میں تجویز کردہ اکیس ایجنڈا آئٹمز پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں 19منصوبوں کی منظوری دی گئی، بلوچستان میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی تعمیر نو اور بحالی کو تیز کرنے کے لیے تبادلہ خیال کیا گیا۔ فورم نے چار سو ملین ڈالر ورلڈ بینک کے فنڈ سے انٹیگریٹڈ فلڈ ریسیلینس اینڈ ایڈاپٹیشن پروگرام (IFRAP) کے چارذیلی اجزاء کی منظوری دی، اس میں ایک سو پچپن ملین ڈالر مکانات کی تعمیر نو اور بحالی کا ذیلی حصہ،پچاس ملین ڈالر سڑک کے بنیادی ڈھانچے کا ذیلی حصہ، چالیس ملین ڈالر کا ذریعہ معاش اور تیس ملین ڈالر آبپاشی کے بنیادی ڈھانچے کا حصہ شامل ہے۔پی ایس ڈی پی 2024-25 میں بلوچستان میں تعمیر نو کے منصوبوں کے لیے 11.2 بلین روپے مختص کیے گئے ہیں۔اجلاس نے ہدایت کی کہ اعلیٰ معیار کو یقینی بناتے ہوئے بلوچستان میں تعمیر نو کی سرگرمیاں تیز تر کی جائیں۔فورم کی جانب سے سندھ میں شروع کیے جانے والے متعدد منصوبوں کی بھی منظوری دی گئی۔ان منصوبوں میں 296 ارب روپے کی لاگت سے نظرثانی شدہ فلڈ ریسپانس ایمرجنسی ہاؤسنگ پروجیکٹ بھی شامل ہے۔اس میں وفاقی حکومت کی جانب سے 50 ارب روپے کا وعدہ کیا گیا ہے۔پی ایس ڈی پی 2024-25 میں سندھ میں مکانات کی تعمیر نو کے لیے وفاقی حصہ کے طور پر تیس ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔چیئر مین نے فورم کو بتایا کہ وفاقی حکومت سندھ میں مکانات کی تعمیر نو کی کوششوں میں اپنا حصہ فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔سندھ اے ڈی پی میں شامل دیگر منصوبوں میں جن کی منظوری دی گئی تھی ان میں کراچی واٹر اینڈ سیوریج سروسز امپروومنٹ پروجیکٹ فیز II اور کراچی کا مسابقتی اور رہنے کے قابل شہر شامل ہیں۔فورم نے کراچی میں 13.502 بلین روپے کی معقول لاگت سے گرین لائن بی آر ٹی ایس کے آپریشنل کرنے کے نظرثانی شدہ پی سی ۔ ون کی بھی منظوری دی ۔یہ مشاہدہ کیا کہ سندھ حکومت وفاقی حکومت کے ساتھ ساتھ این ایچ اے کی جانب سے ادا کی جانے والی سبسڈی کو کم کرنے کے لیے کرایہ میں اضافے پر غور کر رہی ہے ۔اس میں مورو اور رانی پور کے درمیان قومی شاہراہ ( این ۔ فائیو ) کا 86 کلومیٹر طویل حصہ شامل ہے۔چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور (سی پیک) کے تحت آنے والے منصوبوں میں سے، فورم نے تھاکوٹ اور رائے کوٹ کے درمیان کے کے ایچ کی ری الائنمنٹ کو 13.067 بلین آر ایم بی کی معقول لاگت کے ساتھ ساتھ نیو گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے نظرثانی شدہ پی سی ۔ ون کی منظوری دی۔گوادر کا نیا ہوائی اڈہ کیلنڈر سال میں آپریشنل ہو جائے گا۔ فورم نے ریلوے مین لائن-1 (ایم ایل ۔ ون ) کی اپ گریڈیشن کے لیے دوبارہ ترمیم شدہ پی سی ۔ ون کو کلیئر نہیں کیا اور پاکستان ریلویز کو مشورہ دیا کہ وہ چھوٹے منصوبوں اور پیکجوں کی تیاری پر غور کرے جو فنانسنگ اور عمل درآمد کے لیے مخصوص ہوں۔فورم کی طرف سے منظور کردہ دیگر منصوبوں لواری ٹنل تک رسائی کی سڑکیں 33.257 بلین روپے اور 13.995 بلین روپے کی لاگت سے 48 میگاواٹ جاگراں ہائیڈرو پاور سٹیشن شامل ہیں۔ فورم نے صحت سہولت پروگرام کو دسمبر 2024 کے آخر تک بڑھا دیا۔ اس میں وزارت قومی صحت کی خدمات کو 15 ستمبر تک اس پروگرام کو موجودہ بجٹ میں منتقل کرنے، اس کی مالیاتی استحکام کو بہتر بنانے اور ریگولیٹری اور مانیٹرنگ فریم ورک میں اصلاحات کے حوالے سے اپنی سفارشات پیش کرنے کی ہدایت کی گئی۔وفاقی حکومت اور صوبوں کے درمیان یکساں طور پر شیئر کرنے کے لیے 68.25 ارب روپے کی لاگت سے ہیپاٹائٹس سی کے انفیکشن کے خاتمے کے لیے وزیراعظم کے پروگرام کی بھی منظوری دی گئی۔وزارت قومی صحت خدمات کو تین ماہ کے اندر اچھی طرح سے طے شدہ اہداف اور قابل پیمائش اشاریوں کے ساتھ عمل درآمد کا منصوبہ تیار کرنے کا کام سونپا گیا تھا۔فورم نے پلاننگ کمیشن کو وفاقی حکومت کے پاس دستیاب سکڑتی ہوئی مالی گنجائش اور جاری منصوبوں کی بروقت تکمیل کے پیش نظر پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کا جائزہ لینے کے لیے ایک مشق کرنے کی بھی ہدایت کی۔یہ منظوری پاکستان بھر میں معاشی ترقی ، بحالی ار شہریوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے کے لیے حکومت کے عزم کو ظاہر کرتی ہے ۔
Short Link: https://urdu.app.com.pk/urdu/?p=480044