نادرا کی شہریوں کو شناختی کارڈز کی فوری تجدید کی ہدایت، جون کے بعد جرمانے کا امکان
نادرا کی شہریوں کو شناختی کارڈز کی فوری تجدید کی ہدایت، جون کے بعد جرمانے کا امکان

مزید خبریں
اسلام آباد۔9اپریل (اے پی پی):نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے ملک بھر کے شہریوں کے لیے اہم ہدایات جاری کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ وہ اپنے زائد المیعاد (ایکسپائرڈ) شناختی کارڈز کی فوری تجدید کروائیں۔ نادرا حکام کے مطابق پاکستانی قوانین کے تحت ہر بالغ شہری پر لازم ہے کہ وہ شناختی دستاویزات کی میعاد ختم ہونے سے قبل انہیں اپ ڈیٹ کروائے تاکہ بینک اکائونٹس، موبائل سمز اور دیگر ضروری خدمات کی معطلی سے بچا جا سکے۔
نادرا کے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق اس وقت مجموعی 2 کروڑ 74 لاکھ سے زائد قومی شناختی کارڈز، 23 لاکھ اوورسیز کارڈز، 1 کروڑ 16 لاکھ بچوں کے برتھ سرٹیفکیٹس اور 2 لاکھ سے زائد جووینائل کارڈز کی مدت ختم ہو چکی ہے لیکن شہریوں نے اب تک ان کی تجدید نہیں کروائی۔ نادرا نے خبردار کیا ہے کہ اگر تجدید کے رجحان میں بہتری نہ آئی تو اگلے مالی سال (جون کے بعد) سے تاخیر کی صورت میں بھاری جرمانے اور اضافی فیسیں عائد کی جا سکتی ہیں۔
خبردار کیا گیا ہے کہ ایکسپائرڈ شناختی کارڈ رکھنے والے افراد نہ صرف جائیداد اور گاڑیوں کی منتقلی جیسے قانونی معاملات میں دشواری کا سامنا کریں گے، بلکہ وہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام اور حکومت کی حالیہ فیول سبسڈی جیسی فلاحی سکیموں سے بھی مستفید نہیں ہو سکیں گے۔ نادرا نے ایسے والدین کو بھی متنبہ کیا ہے جن کے بچے 18 سال کے ہو چکے ہیں مگر انہوں نے ابھی تک اپنا پہلا شناختی کارڈ نہیں بنوایا۔
موبائل فون صارفین کے حوالے سے پی ٹی اے کی ہدایات کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ فعال شناختی کارڈ کے بغیر موبائل سروسز بند کی جا سکتی ہیں۔ اس وقت تقریباً 45 لاکھ ایسے شناختی کارڈز پر 81 لاکھ سمیں چل رہی ہیں جن کی میعاد ختم ہو چکی ہے جبکہ 15 لاکھ سمیں تاحال انتقال کر جانے والے افراد کے نام پر رجسٹرڈ ہیں۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ موبائل سمیں اپنے نام منتقل کروائیں اور کسی بھی قسم کی بندش سے بچنے کے لیے نادرا مراکز، پاک آئی ڈی ایپ یا ای سہولت فرنچائز سے فوری رجوع کریں۔








