24.2 C
Islamabad
اتوار, اگست 31, 2025
ہومقومی خبریںنگران وزیراعظم کا بین الاقوامی برادری پر مسئلہ فلسطین کے حل پر...

نگران وزیراعظم کا بین الاقوامی برادری پر مسئلہ فلسطین کے حل پر عملدرآمد کیلئے کردار ادا کرنے پر زور

- Advertisement -

اسلام آباد۔12نومبر (اے پی پی):نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے ہفتہ کو سعودی دارالحکومت ریاض میں مشترکہ عرب اسلامی غیر معمولی سربراہی اجلاس میں شرکت کے دوران عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ فوری مداخلت کرکے فلسطین کے مسئلہ کے پائیدار حل پر عمل درآمد کرائے، انہوں نے فوری اور غیر مشروط جنگ بندی کے ساتھ اسرائیل کی جارحیت اور بربریت کو ختم کرنے، غزہ کا محاصرہ ختم کرنے، تیز رفتار اور بلا روک ٹوک انسانی ہمدردی کی بنیادوں پرامداد کی ضرورت پر زور دیا، مسئلہ فلسطین کے حوالے سے پانچ ہفتوں تک جاری رہنے والی اسرائیلی فوجی جارحیت نسل کشی کا باعث بنی اور خطے کو وسیع تر تنازعات کی لپیٹ میں لے جانے کے خدشات کو جنم دیا۔

پاکستان کے وزیر اعظم مسلم دنیا کے ان سرکردہ رہنمائوں میں شامل تھے جنہوں نے 7 اکتوبر کے بعد اسرائیل کی اندھا دھند فضائی اور زمینی بمباری کی وجہ سے غزہ میں 11,000 سے زیادہ اموات کے ساتھ موجودہ انسانی بحران کی بنیادی وجوہات کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا۔ سعودی عرب نے مشترکہ عرب اسلامی غیر معمولی سربراہی اجلاس کی میزبانی کی جس میں اسرائیل کے جارحانہ فوجی حملے سے فلسطینی علاقوں میں آنے والی انسانی تباہی پر غور کیا گیا۔

- Advertisement -

اس سربراہی اجلاس کی اہمیت اس لیے سامنے آئی جب اس نے دنیا بھر اور براعظموں کے مسلمانوں کے رہنمائوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا، جنہوں نے متحدہ موقف کا اظہار کیا اور غزہ کے مظلوم شہریوں کے لیے بھائی چارے اور وابستگی کے جذبے کو فروغ دیا جو عالمی سطح پر اسرائیلی قابض افواج کی جانب سے ممنوعہ اور دیگر ہتھیاروں کے استعمال کی ہولناکیوں سے گزر رہے ہیں۔

نگراں وزیر اعظم کاکڑ نے اپنے خطاب میں اس بات کا اعادہ کیا کہ تنازعہ کا مستقل حل القدس الشریف کے ساتھ جون 1967 سے پہلے کی سرحدوں کی بنیاد پر فلسطین کی ایک محفوظ، قابل عمل، متصل اور خودمختار ریاست کے قیام میں ہے جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اسرائیلی قابض افواج بین الاقوامی انسانی اور انسانی حقوق کے قوانین کی صریح خلاف ورزی کر رہی ہیں اور طاقت کا اندھا دھند اور غیر متناسب استعمال جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے مترادف ہے۔ انہوں نے فلسطینی عوام اور ان کے حق خود ارادیت کے لیے پاکستان کی یکجہتی اور حمایت کا بھی اعادہ کیا۔

وزیر اعظم نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ وہ غزہ میں ایک اور جنگ کا مشاہدہ کر رہے ہیں جونسل کشی کی جنگ ہے۔ انہوں نے اسرائیل کی طرف سے ہسپتالوں، مہاجرین کے کیمپوں اور ایمبولینسوں پر گرائے جانے والے بموں کے پس منظر میں خواتین اور بچوں کی تکلیف دہ اور دکھی تصویروں پر اپنے دکھ کا اظہار کیا۔ غزہ کو ایک زندہ جہنم میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے بین الاقوامی قوانین کی بے دریغ خلاف ورزی کی تاریخ میں بہت کم مثالیں ملتی ہیں، انہوں نے ان مظالم کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کو اس کے جرائم کا جوابدہ ٹھہرائے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اراکین پر زور دیا کہ وہ اپنے اختلافات سے بالاتر ہو کر خطے میں امن و سلامتی کو برقرار رکھنے کی اپنی بنیادی ذمہ داری کو فوری طور پر ادا کریں۔

وزیراعظم کاکڑ نے کہا کہ دنیا بھر میں اربوں لوگ امن، ترقی اور خوشحالی کے خواہاں ہیں اور دنیا ایک اور جنگ کے دہانے پر جانے کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے اسرائیل کے جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم پر بین الاقوامی عدالت انصاف (آئی سی جے) میں کارروائی شروع کرنے کے علاوہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی طرف سے ان جنگی جرائم کی تحقیقات کے لیے خصوصی کمیشن کے قیام کی تجویز بھی دی۔ اپنے تین روزہ دورے کے دوران وزیراعظم نے سربراہی اجلاس کے موقع پر عرب اور اسلامی ممالک کے رہنمائوں سے ملاقاتیں بھی کیں۔

وزیراعظم نے سربراہ اجلاس کے موقع پر سعودی ولی عہد اور سعودی عرب کے وزیراعظم محمد بن سلمان، کویتی ولی عہد شیخ مشعل الاحمد الجابر الصباح اور ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم سے ملاقات کی۔ اپنی ملاقات کے دوران، وزیراعظم اور سعودی ولی عہد نے اسرائیل کو محصور اور معصوم فلسطینیوں کے خلاف وحشیانہ اور اندھا دھند جارحیت سے روکنے کے لیے فوری بین الاقوامی تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے مقبوضہ غزہ کی ناکہ بندی ہٹانے کی فوری ضرورت پر زور دیا تاکہ متاثرہ آبادی کو اہم انسانی اور طبی امداد کی فراہمی میں آسانی ہو۔

کویت کے ولی عہد شیخ مشعل الاحمد الجابر الصباح سے ملاقات کے دوران انہوں نے غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت اور محاصرے کے دوران شہریوں کے بنیادی ڈھانچے کی ہولناک تباہی اور ہلاکتوں کی تعداد کے ساتھ تشویشناک صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ مشترکہ عرب اسلامی غیر معمولی سربراہی اجلاس کے موقع پر ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم سے ملاقات میں وزیراعظم نے اسرائیلی افواج کی جانب سے جاری وحشیانہ مہم کی پاکستان کی شدید مذمت کا اعادہ کیا۔

ان ملاقاتوں میں دو طرفہ تعلقات اور تعاون پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ مشترکہ سربراہی اجلاس میں فوری جنگ بندی، جاری اسرائیلی جارحیت اور غزہ کا محاصرہ ختم کرنے، ہلاکتوں اور تباہی، انسانی ہمدردی کی راہداری کے آغاز اور دو ریاستی حل کے فوری نفاذ پر زور دیا گیا۔

رہنمائوں نے غزہ کے رہائشیوں کی جبری نقل مکانی اور اسرائیلی مسلح افواج کی طرف سے علاقے پر قبضے کی مذمت کی۔ اسرائیلی جارحیت میں اب تک 11,000 سے زیادہ شہری جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ رہائشی عمارتوں اور سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے کو زمین بوس کرنے کے لیے اندھا دھند اور وحشیانہ فضائی اور زمینی حملوں میں ہسپتالوں، مہاجرین کے کیمپوں اور اسکولوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔

 

- Advertisement -
متعلقہ خبریں
- Advertisment -

مقبول خبریں