سپریم کورٹ نے نیب قانون میں ترامیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق اہم مقدمے کا محفوظ شدہ فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ نیب سے متعلق تمام مقدمات اب وفاقی آئینی عدالت میں سنے جائیں گے۔
نیب ترامیم کے بعد تمام نیب مقدمات وفاقی آئینی عدالت سنے گی، سپریم کورٹ کا فیصلہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔24جولائی (اے پی پی):سپریم کورٹ نے نیب قانون میں ترامیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق اہم مقدمے کا محفوظ شدہ فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ نیب سے متعلق تمام مقدمات اب وفاقی آئینی عدالت میں سنے جائیں گے۔جسٹس محمد علی مظہر نے جمعہ کو مختصر فیصلہ عدالت میں پڑھ کر سنایا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ نیب قانون میں ترامیم کے بعد سپریم کورٹ اب نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار نہیں رکھتی، لہٰذا نیب سے متعلق تمام مقدمات وفاقی آئینی عدالت کو منتقل ہو چکے ہیں۔عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ آئین کے آرٹیکل 175 اور قومی احتساب آرڈیننس کے سیکشن 32 اور 32 اے کے تحت وفاقی آئینی عدالت ہی ایسے مقدمات کی سماعت کی مجاز فورم ہے۔سپریم کورٹ نے اس معاملے میں قومی احتساب بیورو (نیب) اور وفاقی حکومت کا مؤقف درست قرار دیتے ہوئے درخواستوں کو وفاقی آئینی عدالت کے دائرہ اختیار میں قرار دیا۔واضح رہے کہ عدالت نے فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو جمعہ کو سنا دیا گیا۔








