اسلام آباد ۔ 13 ستمبر (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ایک ہی نوعیت کے جرم میں ملوث امیر اور غریب کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا جانا عدل و انصاف کے اصولوں کی نفی ہے، عوام الناس کی خون پسینے کی کمائی اور ملکی دولت لوٹنے والوں سے یہ رقم واپس نکلوانا قوم کی آواز ہے اور حکومت اس مشن میں پرعزم ہے، متعلقہ قوانین …
وزیراعظم عمران خان کا قانونی اصلاحات سے متعلق اجلاس سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 13 ستمبر (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ایک ہی نوعیت کے جرم میں ملوث امیر اور غریب کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا جانا عدل و انصاف کے اصولوں کی نفی ہے، عوام الناس کی خون پسینے کی کمائی اور ملکی دولت لوٹنے والوں سے یہ رقم واپس نکلوانا قوم کی آواز ہے اور حکومت اس مشن میں پرعزم ہے، متعلقہ قوانین میں ترمیم کرکے اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ سالہا سال اور نسل در نسل چلنے والے مقدمات کا ایک مقررہ مدت میں فیصلہ ہو سکے، انصاف کی فراہمی میں تاخیر بھی انصاف نہ ملنے کے مترادف ہے، بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں بعض مقامات پر اب بھی خواتین کو ان کے قانونی حق سے محروم رکھا جاتا ہے۔وہ جمعہ کو قانونی اصلاحات سے متعلق اجلاس کے دوران خطاب کر رہے تھے ۔ اجلاس میں وزیرِ قانون ڈاکٹر فروغ نسیم، وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان، معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، معاون خصوصی یوسف بیگ مرزا، وزیرِ قانون پنجاب محمد بشارت راجا، وزیرِ قانون خیبر پختونخوا سلطان محمد خان، چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی و دیگر سینئر افسران شریک تھے ۔ وزیرِ قانون ڈاکٹر فروغ نسیم نے معاشرے کے کمزور طبقوں خصوصاً عورتوں، بچوں اور غریب و نادار افراد کے حقوق کے تحفظ اور ان کو ریاست کی جانب سے قانونی معاونت فراہم کرنے، عوام الناس کی خون پسینے کی کمائی اور ملکی دولت چرانے والے وائٹ کالر جرائم میں ملوث افراد کو جیلوں میں مراعات دینے کی روش کے خاتمے، مختلف جرائم خصوصاً بے نامی جائیدادوں کی نشاندہی میں ریاست کی معاونت کرنے والے افراد کی حوصلہ افزائی (وسل بلوئر)، مقدمات کے جلد نمٹائے جانے اور عوامی مفاد کے دیگرمعاملات کے حوالے سے کی جانے والی قانون سازی پر اب تک کی پیش رفت سے وزیرِ اعظم کو آگاہ کیا۔ وزیرِ اعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو انصاف کی فراہمی پی ٹی آئی حکومت کے منشور کا سب سے اہم جزو ہے۔ انہوں نے کہا کہ سستے اور فوری انصاف کی فراہمی نہ صرف شہریوں کا حق ہے بلکہ اس سے ایک عام آدمی کی زندگی پر براہ راست اثر پڑتا ہے۔








