وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا حافظ آباد پریس کلب میں نو منتخب عہدیداروں کی تقریب حلف برداری سے خطاب

حافظ آباد ۔ 15 دسمبر (اے پی پی) وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ بھٹو کو زندہ رکھنے کا دعویٰ کرنے والے لاڑکانہ اور تھر میں عوام کی بے بسی دیکھیں، نابالغ سیاستدانوں کو اپنی جماعت میں کٹھ پتلیاں نظر نہیں آتیں، سندھ کا وزیراعلیٰ اصل کٹھ پتلی ہے، بلاول بھٹو کو چار سال اسی طرح دکھی ہونا پڑے گا …

حافظ آباد ۔ 15 دسمبر (اے پی پی) وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ بھٹو کو زندہ رکھنے کا دعویٰ کرنے والے لاڑکانہ اور تھر میں عوام کی بے بسی دیکھیں، نابالغ سیاستدانوں کو اپنی جماعت میں کٹھ پتلیاں نظر نہیں آتیں، سندھ کا وزیراعلیٰ اصل کٹھ پتلی ہے، بلاول بھٹو کو چار سال اسی طرح دکھی ہونا پڑے گا اور چار سال بعد عوام دوبارہ ووٹ کی طاقت سے اقتدار میں لائیں گے،ایک خاندان بیماری کے نام پر ضمانت لے کر باہر چلا گیا، بیمار کے ساتھ سہولت کار بھی ملک سے چلا گیا ہے، سہولت کار کا اسمبلی میں چیمبر ان کا منتظر ہے،شہباز شریف نے بطور وزیراعلیٰ سابقہ دور میں کرپشن کا بازار گرم کیے رکھا، کراچی کو عمران خان کی قیادت میں ایک بار پھر روشنی کا شہر بنائیں گے، ملک بھر میں صحافیوں کے ہیلتھ کارڈ کے حوالے سے یکساں پالیسی بنانے جا رہے ہیں، وفاقی حکومت نے پہلی بار زراعت کو سی پیک میں شامل کیا، 10سال اقتدار میں رہنے والوں نے قرض لے کر بڑے منصوبے شروع کر کے ان میں کمیشن لیا۔ اتوار کو حافظ آباد پریس کلب میں نو منتخب عہدیداروں کی تقریب حلف برداری سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صحافت کا فروغ اور صحافیوں کے مسائل کا حل ہماری ذمہ داریوں میں شامل ہے، انصاف کی فراہمی یقینی بنانا تحریک انصاف کا منشور ہے، حافظ آباد کی ترقی میں رکن قومی اسمبلی شوکت علی بھٹی کے خاندان کا اہم کردار ہے۔ معاون خصوصی نے کہا کہ اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی وزیراعظم عمران خان کا مشن ہے، کچھ لوگ اقتدار سے محرومی کا درد کو عوام بنا کر پیش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے عناصر کو اقتدار سے باہر ہونے پر عوامی درد نظر آتا ہے، اپنی خواہشات کو عوام کا نام دے کر اقتدار سے محرومی کا ڈھنڈورا پیٹ رہے ہیں، بھٹو کا نام لے کر سیاست کرنے والے عوامی مسائل سے آگاہ نہیں، سندھ میں اگر بھٹو زندہ ہے تو غریب مر چکا ہے۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ عوام اصل ایمپائر ہیں جنہوں نے لاڑکانہ انتخاب میں اپنا فیصلہ سنایا، چار سال بعد یہی عوام ووٹ کی طاقت سے عمران خان کو دوبارہ منتخب کریں گے، وفاق کی زنجیر سمجھے جانے والی جماعت چند اضلاع تک محدود ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پورا سندھ موہنجو داڑو کا نقشہ پیش کر رہا ہے، نااہل صوبائی حکومت کے باعث کراچی شہر کچرا کنڈی میں بدل چکا ہے، وزیراعظم کی قیادت میں کراچی کو دوبارہ روشنیوں کا شہر بنائیں گے۔ معاون خصوصی نے کہا کہ اربوں کھربوں کی کرپشن والے شہباز شریف کیلئے ڈھیلے اور دمڑی کی بات مناسب نہیں، شہباز شریف اور ان کا خاندان ملک آ کر عدالتوں کا سامنا کرے۔ملک میں مہنگائی ہے، لیکن ماضی کی کرپشن اس کی ذمہ دار ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 10سال میں پنجاب اور وفاق کو ادھار لے کر چلا گیا، قرضے لے لے کر ملکی معیشت کو کھوکھلا کر دیا گیا، وزیراعظم عوام کو مہنگائی سے نجات دلانے اور ان کی مشکلات کے ازالے کیلئے پرعزم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زرعی شعبے کی ترقی کیلئے کاشتکاروں کو مراعات دی جا رہی ہیں، سستی کھاد اور بیج کی فراہمی کیلئے اقدامات کیے جا رہے ہیں، وزیراعظم کی ذاتی کوششوں سے سی پیک میں پہلی مرتبہ زرعی شعبہ شامل کیا گیا ہے، ملکی ترقی کیلئے زرعی انقلاب ناگزیر ہے۔ معاون خصوصی نے حافظ آباد پریس کلب کیلئے 10لاکھ گرانٹ کا اعلان بھی کیا جبکہ حافظ آباد پریس کلب کو نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے برابر لانے، حافظ آباد میں صحافی کالونی کے لئے بھرپور کوششیں کرنے اور اس ضمن میں ڈپٹی کمشنرکو اراضی کی نشاندہی کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں صحافیوں کو ہیلتھ کارڈ کی فراہمی کیلئے پالیسی بنائی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے پہلی بار صوبوں سے مل کر زراعت کو بہتر بنانے کی ذمہ داری لی ہے، گندم کی فی من قیمت 1365روپے مقرر کی، اس کے علاوہ سستا بیج ، کھاد اور بجلی کی فراہمی کے حوالے سے تیزی سے کام ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ٹنل فارمنگ فروغ پا رہی ہے اس میں پانی کم صرف ہوتا ہے جبکہ پیداوار بھی زیادہ ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کے پاس دو آپشن تھے یا تو ملک کو دیوالیہ ہونے دیتے یا پھر عوام کو مشکلات کا حصہ بناتے ہوئے پورے نظام کی سرجری کرتے، اس سے وقتی طور پر عوام کو تکلیف ہوئی، مہنگائی بڑھی تاہم اب مشکل سے نکل آئے ہیں، وزیراعظم ان مشکلات کے ازالے کے لئے کوشاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صحت کے نام پر بیرون ملک گئے ہوئے لیڈر آ کر عدالتوں کا سامنا کریں، پاکستان کا قانون انہیں پکار رہا ہے، اگر سابق وزیراعظم کی اولاد قانون کا احترام نہیں کرے گی تو عام آدمی کیسے قانون کا احترام کرے گا، قانون کی حکمرانی کو سب سے پہلے طاقتور طبقہ نے یقینی بنانا ہے اور قانون کا احترام کرنا ہے اگر قانون کو گھر کی لونڈی سمجھا جائے گا تو پاکستان کو مسائل کا سامنا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو گمراہ کرنے کا نظریہ دم توڑ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقتدار سے دور ہونے والا طبقہ اپنے بچوں کو عوام کا نام دے کر نڈھال ہے، اس کی اصل بے چینی لوٹی ہوئی دولت ہے، وہ منی لانڈرنگ سے پیسے لے کر باہر گئے اور ٹی ٹی کے ذریعے واپس لائے، ایک پارٹی کے نابالغ سیاستدان کوئٹہ میں بھٹو کے نظریے کی تعریف کر رہے تھے، وہ یہ کہہ رہے تھے کہ وہ بھٹو کے خون سے جڑا وارث اور بی بی کی نشانی ہیں، اگر بھٹو کے نظریے کا نام لے کر لاڑکانہ میں کتے کے کاٹنے سے مرنے والوں کی شرح دیکھ لیتے، ایڈز کا شکار مریضوں کو گن لیتے تو انہیں یہ پوچھنے کی ضرورت نہ پڑتی کہ بھٹو کا وارث کون ہے؟۔ بھٹو اگر زندہ ہے تو مریض مر چکا ہے، دولت کے پجاری اور عوام کو گدھ کی طرح نوچنے والے قانون کے شکنجے میں آتے ہی رونا شروع ہو جاتے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان میرٹ پر یقین رکھنے والی قیادت ہے۔ ضدی بچہ بار بار ایمپائر کی انگلی کی بات کرتا ہے، ایمپائر عوام ہیں جنہوں نے لاڑکانہ میں حال ہی میں انہیں دکھی کیا ہے۔ چار سال اسی طرح انہیں دکھ ہونا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ چھوٹے کاشتکاروں کو قرضے کے ذریعے خوشحال بنایا جا رہا ہے، چین کے ساتھ مل کر کسانوں کے لئے اچھے بیج اور جدید ٹیکنالوجی پر سرمایہ کاری کرنے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کے مشن اور عوام دوست پالیسیوں کو عوام تک پہنچاتے رہیں گے۔