لاہور۔30اگست (اے پی پی):سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ مریم نواز مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے ساتھ ہیں،متاثرین کی بحالی اور نقصانات کا ازالہ اولین ترجیح ہے، پنجاب میں تین دریائوں کے سیلابی پانی سے دو ہزار موضع جات اور15 لاکھ 16 ہزار 603 لوگ متاثر ہوئے ہیں، جاں بحق افراد کی تعداد 30 ہو گئی۔ہفتہ کے روز جاری اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ وزیراعلی ٰمریم نواز مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے ساتھ ہیں، عوام کی خدمت اور مدد کا تاریخی ریلیف آپریشن وزیراعلی ٰکی براہ راست نگرانی میں تیزی سے جاری ہے۔
مریم اورنگزیب نے کہا کہ تمام ادارے ایک مٹھی بن کر عوام کی مدد میں سرگرم عمل اور وزیراعلی کی ہدایت پر وزرا، ارکان اسمبلی، ضلعی انتظامیہ، ریسکیو 1122، پولیس، سول ڈیفنس سمیت تمام ادارے امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔انہوں نے بتایا کہ پنجاب کی تاریخ کے تباہ کن سیلاب میں عوام کی جان بچانے اور محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا گرینڈ ریسکیو آپریشن پوری رفتار، مشینری اور وسائل سے جاری ہے۔
مریم اورنگزیب نے کہا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز ریسکیو آپریشن کی نگرانی کر رہی ہیں اور امدادی کاموں کا مسلسل جائزہ لے رہی ہیں، پنجاب میں سیلاب سے جاں بحق افراد کی تعداد 30 ہو گئی، تین دریائوں کے سیلابی پانی سے دو ہزار38 موضع جات متاثر ہوئے ہیں ، دریائے چناب سے 1 ہزار 169، راوی سے 462 اور ستلج میں سیلاب سے 391 موضع جات متاثر اور 15 لاکھ 16 ہزار 603 لوگ متاثر ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سیلاب متاثرہ علاقوں سے 4 لاکھ 81 ہزار سے زائد لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ،511 ریلیف اور 351 میڈیکل کیمپس متاثرین کی چوبیس گھنٹے مدد اور دیکھ بھال کر رہے ہیں، 6 ہزار 373 متاثرین ریلیف کیمپس میں ہیں۔
سینئر صوبائی وزیر نے بتایا کہ 4 لاکھ 5 ہزار سے زائد مویشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا، مویشیوں کے علاج کے لئے 321 ویٹرنری کیمپ بھی کام کر رہے ہیں، سیلاب کی صورتحال کے پیش نظر کشتیوں کی تعداد 808 ہو گئی جو ریسکیو مشن میں شریک ہیں، 36 گھنٹوں میں 68 ہزار 477 لوگوں کو ریسکیو کیا گیا۔
مریم اورنگزیب نے کہا کہ وزیراعلی مریم نواز کے پیشگی حفاظتی انتظامات اور تجاوزات کے خلاف آپریشن کی وجہ سے تاریخ کے اتنے بڑے سیلاب میں بڑے جانی نقصان سے پنجاب بچ گیا، موسمیاتی تبدیلی تباہی میں بدل چکی ہے، پیشگی خبردار کرنے والے جدید ترین نظام پنجاب میں لائیں گے۔
سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ سیلاب سے بحالی کے بعد تجاوزات کے خاتمے کا آپریشن ہوگا،حالیہ سیلاب میں ہونے والے تجربات کی روشنی میں جامع حکمت عملی تیار کریں گے، ریسکیو اور ریلیف میں دن رات کام کرنے والے ہمارے ہیروز ہیں، متاثرین کی بحالی اور نقصانات کا ازالہ اولین ترجیح ہے۔