26 C
Islamabad
اتوار, اگست 31, 2025
ہومتازہ ترینوزیرِاعظم چین کے شہر تیانجن کے دورہ کے دوران شنگھائی تعاون تنظیم...

وزیرِاعظم چین کے شہر تیانجن کے دورہ کے دوران شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہانِ مملکت کونسل اور سربراہانِ مملکت کونسل پلس اجلاس میں پاکستانی وفد کی قیادت کریں گے

- Advertisement -

اسلام آباد۔30اگست (اے پی پی):وزیرِاعظم محمد شہباز شریف چین کے صدرِ شی جن پنگ کی دعوت پر 31 اگست سے 1 ستمبر 2025 تک چین کے شہر تیانجن کے دورہ کے دوران شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہانِ مملکت کونسل (سی ایچ ایس) اور سربراہانِ مملکت کونسل پلس (سی ایچ ایس پلس ) اجلاس میں پاکستانی وفد کی قیادت کریں گے، وزیرِاعظم خطے اور دنیا کے اہم مسائل پر پاکستان کا نکتہ نظر پیش کریں گے۔

ایس سی او، سی ایچ ایس سربراہی اجلاس میں رکن ممالک کے سربراہانِ مملکت و حکومت شرکت کریں گے جن میں پاکستان، بیلاروس، چین، بھارت، ایران، قازقستان، کرغزستان، روس، تاجکستان اور ازبکستان شامل ہیں۔ ایس سی او، سی ایچ ایس اجلاس ایک توسیع شدہ فارمیٹ میں منعقد ہوگا جس میں منگولیا، آرمینیا، آذربائیجان، کمبوڈیا، نیپال، ترکیہ، مصر، مالدیپ، میانمار، ترکمانستان، ملائیشیا، لاؤس، ویتنام اور انڈونیشیا کے رہنما، اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور دیگر علاقائی و بین الاقوامی تنظیموں کے سربراہان شرکت کریں گے۔

- Advertisement -

ایس سی او، سی ایچ ایس اجلاس میں وزیرِاعظم شہباز شریف خطے اور دنیا کے اہم مسائل پر پاکستان کا نکتہ نظر پیش کریں گے، اور ایس سی او کے کردار کو علاقائی تعاون و استحکام کے فروغ میں مزید مؤثر بنانے کے لیے حکمتِ عملیوں پر روشنی ڈالیں گے۔ ایس سی او، سی ایچ ایس تنظیم کا اعلیٰ ترین فیصلہ ساز ادارہ ہے، جو سیاسی، سکیورٹی اور اسٹریٹجک رہنمائی فراہم کرتا ہے اور وہ اعلانات، بیانات اور اہم فیصلے منظور کرتا ہے جو تنظیم کے ایجنڈے کا تعین کرتے ہیں۔

ایس سی او، سی ایچ ایس اجلاس ایک تھیم پر مبنی سربراہی اجلاس ہے جو مدعو رہنماؤں کے ساتھ وسیع تر مکالمے کو فروغ دیتا ہے اور علاقائی و عالمی ترجیحات پر مرکوز ہوتا ہے۔ ایس سی او، سی ایچ ایس اجلاس کے دوران وزیرِ اعظم پاکستان کثیر الجہتی تعاون، علاقائی سکیورٹی کے فروغ اور پائیدار ترقی کے عزم کا اعادہ کریں گے۔ سربراہی اجلاس کے موقع پر وزیرِاعظم ایس سی او کے رکن ممالک اور دیگر مدعو رہنماؤں سے دو طرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے، جن کا مقصد باہمی سفارتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانا ہوگا۔

- Advertisement -
متعلقہ خبریں
- Advertisment -

مقبول خبریں