وزیر اعظم کا آذربائیجان کے ساتھ برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ

وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے آذربائیجان کے ساتھ برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا ہے ۔

اسلام آباد۔31جولائی (اے پی پی):وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے آذربائیجان کے ساتھ برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا ہے ۔

وزیر اعظم محمد شہباز شریف سے جمعہ کو یہاں پاکستان میں جمہوریہ آذربائیجان کے سفیر خضر فرہادوف نے الوداعی ملاقات کی۔ وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور سیکرٹری خارجہ آمنہ بلوچ بھی اس موقع پر موجود تھے۔ ملاقات کے دوران وزیراعظم نے آذربائیجان کے سفیر خضر فرہادوف کی سفارتی ذمہ داریوں کے دوران پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان گہرےبرادرانہ تعلقات کے فروغ کے لیے ان کی مخلصانہ کاوشوں کو سراہا۔ وزیراعظم نے سیاسی، تجارتی، اقتصادی، دفاعی، ثقافتی اور عوامی روابط سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کے فروغ بالخصوص دونوں ممالک کے درمیان براہ راست پروازوں کے آغاز میں ان کی خدمات کو قابلِ تحسین قرار دیا۔

وزیراعظم نے آذربائیجان کے صدر الہام علیوف کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے گزشتہ اڑھائی برس کے دوران آذربائیجان کے اپنے متعدد دوروں اور جولائی 2024ء میں صدر الہام علیوف کے پاکستان کے دورے کو خوشگوار یادوں کو تازہ کیا۔ انہوں نے آذربائیجان کے ساتھ برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا اور اس اعتماد کا اظہار کیا کہ سفیر فرہادوف کے دورِ تعیناتی میں قائم ہونے والی مضبوط بنیاد مستقبل میں بھی دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید وسعت دینے میں رہنمائی فراہم کرتی رہے گی۔ وزیراعظم نے سفیر خضر فرہادوف کے لیے مستقبل کی ذمہ داریوں میں نیک تمناؤں اور کامیابی کی دعا بھی کی۔ خضر فرہادوف نے اپنی سفارتی ذمہ داریوں کے دوران حکومتِ پاکستان اور پاکستانی عوام کی جانب سے ملنے والی گرمجوشی، مہمان نوازی اور بھرپور تعاون پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے پاکستان میں اپنی تعیناتی کو اپنے سفارتی کیریئر کا ایک یادگار اور قابلِ فخر باب قرار دیتے ہوئے پاکستان کے ساتھ سٹرٹیجک شراکت داری کو مزید گہرا کرنے کے آذربائیجان کے عزم کا اعادہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے وزیراعظم کو اپنے خاندان کے پاکستان میں قیام کے تجربات پر مبنی ایک کتاب بھی پیش کی۔