اسلام آباد ۔ 23 اکتوبر (اے پی پی) وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ پاکستان میڈیکل کمیشن بنیادی طور پر تین حصوںمشتمل ہوگا، پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل، نیشنل میڈیکل اینڈ اکیڈیمک بورڈ اور نیشنل میڈیکل اتھارٹی قائم کی جارہی ہے، نئے نظام کے تحت میڈیکل داخلوں کے لئے ٹیسٹ ملک بھر میں ایک ہی دن ہوں گے۔ ان خیالات کا اظہارانہوں …
وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کی پریس کانفرنس
اسلام آباد ۔ 23 اکتوبر (اے پی پی) وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ پاکستان میڈیکل کمیشن بنیادی طور پر تین حصوںمشتمل ہوگا، پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل، نیشنل میڈیکل اینڈ اکیڈیمک بورڈ اور نیشنل میڈیکل اتھارٹی قائم کی جارہی ہے، نئے نظام کے تحت میڈیکل داخلوں کے لئے ٹیسٹ ملک بھر میں ایک ہی دن ہوں گے۔ ان خیالات کا اظہارانہوں نے بدھ کو یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ معاون خصوصی نے کہا کہ میڈیکل کمیشن کے ذریعے طب کے شعبہ میں بہتری لائیں گے۔ اس وقت ملک بھر میں 168 میڈیکل کالجز ہیں، پچھلے 15 سال میں بہت سے میڈیکل کالجز بنے۔ پی ایم ڈی سی کے بارے میں بہت سی شکایات ملی رہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ایم ڈی سی اپنا فعال کردار ادا نہیں کر سکا۔ اس پر کرپشن کے الزامات بھی سامنے آتے رہے۔ اس سارے نظام میں موجودہ حکومتی اداروں کو مضبوط کرنے کے حوالے سے جو ایجنڈا ہے اس کو مد نظر رکھ کر نیا لیگل فریم ورک دینے کی ضرورت ہے۔ اس حوالے سے پاکستان میڈیکل کمیشن 2019 ہم نے متعارف کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کمیشن تین حصوں پر مشتمل ہو گا۔ کمیشن کا کام پالیسی مرتب کرنا ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ اس کے ذریعے میڈیکل داخلوں کے لئے ٹیسٹ ملک بھر میں ایک ہی دن ہو گا۔ میڈیکل کی تعلیم میں بہتری کے لئے میڈیکل کی ایجوکیشن اور ٹریننگ کرکے ایک امتحان نیشنل لائسنسنگ ایگزامینیشن پاس کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم انٹری ٹیسٹ اور نیشنل لائسنسنگ ایگزامینیشن ٹیسٹ میں بہتری لے آئیں تو ہمیں باقی چیزوں کو زیادہ ریگولیٹ کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ انہوں نے کہا کہ آرڈیننس بل کی صورت میں سینیٹ اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی میں بھی پیش کیا جائے گا تاکہ تمام پارلیمنٹیرین اس پر اپنی رائے بھی دے سکیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پی ایم ڈی سی کے ملازمین کو 6 ماہ کی تنخواہیں دی جائیں گی اور ایک سے 4 درجہ کے ملازمین کو ترجیحی بنیادوں پر دوبارہ ادارے میں ملازمت کا موقع دیا جائے گا۔









