سکھر۔ 31 اگست (اے پی پی):وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے گدو بیراج کا دورہ کیا اور سیلابی صورتحال کا جائزہ لیا ۔ اتوار کو وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نیول ہیلی کاپٹر کے ذریعے گدو بیراج پہنچے ۔ سینئر منسٹر شرجیل میمن، وزیرآبپاشی جام خان شورو اور کمانڈر کوسٹ ریئر ایڈمرل فیصل بھی ان کے ہمراہ تھے ۔ ترجمان وزیر اعلیٰ کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ نے ہیلی کاپٹر میں سفر کے دوران اپنے وزرا اور کمانڈر کوسٹ کے ساتھ نقشوں کی مدد سے سیلابی صورتحال کا جائزہ لیا ۔
گدو بیراج پر ڈپٹی کمشنر کشمور اور آبپاشی حکام نے وزیر اعلیٰ سندھ کو دریائے سندھ میں پانی کی موجودہ صورتحال پر بریفنگ دی ۔وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے گڈو بیراج پر بریفنگ لینے کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ اس وقت راوی اور تریموں پر پانی بڑھا ہوا ہے، ہم سپر فلڈ کی تیاری کر رہے ہیں، سپر فلڈ 9 لاکھ کیوسکس کا ہوتا ہے، اگرچہ ہمیں امید ہے کہ اتنا پانی نہیں آئےگا ، سپر فلڈ کی وجہ سے کچہ پورا ڈوب جائےگا ۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہاکہ سندھ انتظامیہ نے پورے کچے کو خالی کرانے کی تیاری کرلی ہے، ہمارے پاس تمام آبادی کے نقشے، لوگوں کی تعداد اور مویشیوں کی تفصیلات موجود ہیں، یہ معلومات ضلع انتظامیہ کو دے کر انہیں پی ڈی ایم اے سے تعاون کی ہدایت کی گئی ہے ۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہاکہ پاک بحریہ نے بہت مدد کی ہے، کمانڈر کوسٹ اس وقت میرے ساتھ ہیں، پاک فوج اور ڈی جی رینجرز سے بھی رابطے میں ہیں ۔ سب سے پہلے ہماری کوشش انسانی جانوں اور مویشیوں کے نقصان سے بچنا ہے، ضلع انتظامیہ لوگوں کو انخلا کی تیاری کر رہی ہے ۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہاکہ پی ڈی ایم اے، پاک بحریہ اور پاک فوج کی 192 کشتیاں کچے کے علاقوں میں تعینات کردی گئی ہیں ۔ بند کو کسی جگہ سے ٹوٹنے سے بچانا ہے، دریائے سندھ پر رائٹ بینک پر 6 حساس مقامات ہیں ۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہاکہ کے کے بند کا حصہ زیادہ خطرناک ہے، دریائے سندھ کے لیفٹ بنک پر شاہین بند حساس مقام ہے، آٹھ یا نو لاکھ پانی آگیا تو شاہین بند نہیں بچ پائے گا اس کا اسٹرکچر ہی ایسا ہے، اس بند کو ہر حال میں بچانا ہماری اولین ترجیح ہوگی، ابھی ہمارے پاس وقت ہے ۔