کراچی۔ 29 جولائی (اے پی پی):وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ وہ اپنے اساتذہ کی اسی طرح عزت کرتے ہیں جیسے وہ اپنے والدین کی کرتے ہیں کیونکہ ان اساتذہ نے ان کے مستقبل کو سنوارا اور انہیں اپنے شعبے میں موثر انداز میں مقابلہ کرنے کے قابل بنایا۔وزیر اعلی ہائوس سے جاری اعلامیہ کے مطابق انہوں نے یہ بات منگل کے روز وزیر اعلی …
وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے 646کامیاب امیدواروں کو تدریسی لائسنس دئیے
کراچی۔ 29 جولائی (اے پی پی):وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ وہ اپنے اساتذہ کی اسی طرح عزت کرتے ہیں جیسے وہ اپنے والدین کی کرتے ہیں کیونکہ ان اساتذہ نے ان کے مستقبل کو سنوارا اور انہیں اپنے شعبے میں موثر انداز میں مقابلہ کرنے کے قابل بنایا۔وزیر اعلی ہائوس سے جاری اعلامیہ کے مطابق انہوں نے یہ بات منگل کے روز وزیر اعلی ہائوس میں محکمہ تعلیم کے زیر اہتمام کامیاب امیدواروں کو تدریسی لائسنس دینے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ تقریب کے دوران وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے 646کامیاب امیدواروں کو تدریسی لائسنس دیے جن میں 297جے ای ایس ٹی(جونیئر ایلیمینٹری اسکول ٹیچر)اور 195پری سروس لائسنس شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ تقریبا 4000امیدواروں میں سے صرف 646ہی امتحان میں کامیاب ہو سکے جس سے کامیابی کی شرح صرف 16فیصد ظاہر ہوتی ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اساتذہ کو چاہیے کہ وہ اپنے طلبہ کو معیاری تعلیم دے کر اس قسم کے احترام کے مستحق بنیں۔وزیر اعلی سندھ نے تمام اسٹیک ہولڈرز، بشمول اساتذہ، افسران اور ترقیاتی شراکت داروں کا خطے میں تعلیمی معیار کے لیے ان کی پائیدار وابستگی پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے حکومت سندھ کی معیاری تعلیم کے لیے وابستگی کا اعادہ کیا اور اس بات پر زور دیا کہ معیاری تعلیم کا آغاز باصلاحیت اساتذہ سے ہوتا ہے۔انہوںنے یاد دلایا کہ تین سال قبل تدریسی لائسنس جاری کرنے کا خیال سردار شاہ کی جانب سے پیش کیا گیا اور کہا گیا تھا کہ لائسنس ان افراد کو دیے جائیں جو ہمارے مستقبل کو تشکیل دے رہے ہیں۔
انہوں نے اس اقدام کو تدریسی شعبے میں اہلیت اور جوابدہی یقینی بنانے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔وزیر اعلی سندھ نے حکومت کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سندھ ٹیچر ایجوکیشن ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سٹیڈا)کے ذریعے انتہائی قابل اساتذہ متعارف کرائے جائیں گے۔ انہوں نے اس امر پر تشویش کا اظہار کیا کہ لاکھوں بچے اسکول سے باہر ہیں اور اس بات پر زور دیا کہ جو بچے اسکولوں میں داخل ہیں ان کو دی جانے والی تعلیم کے معیار کا بھی جائزہ لیا جائے۔ انہوں نے تعلیمی بھرتیوں سے متعلق مقامی سطح پر پائے جانے والے تحفظات کا بھی ذکر کیا اور تعلیمی مواقع میں شفافیت کی ضرورت پر زور دیا،مستقبل کی حکمتِ عملی کے حوالے سے مراد علی شاہ نے تدریسی لائسنس کے دائرہ کار کو نجی تعلیمی اداروں اور ابتدائی بچپن کی تعلیم (ارلی چائلڈ ہوڈ ایجوکیشن)تک بڑھانے کی خواہش کا اظہار کیا۔ انہوں نے تمام اسٹیک ہولڈرز کو یقین دلایا کہ حکومت اس پالیسی کے نفاذ میں درپیش انتظامی رکاوٹوں کو دور کرے گی اور اس کا دائرہ وسیع کرے گی۔انہوںنے اس کامیابی کو سندھ کے لیے ایک قابلِ فخر لمحہ قرار دیا اور تمام تعلیمی شراکت داروں پر زور دیا کہ وہ اس اقدام کو ایک اختتام نہیں بلکہ تدریسی پیشہ ورانہ معیار کے ایک نئے دور کا آغاز سمجھیں۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ لائسنس یافتہ اساتذہ نئی نسل کے لیے مشعلِ راہ ثابت ہوں گے اور سندھ کے روشن مستقبل میں اپنا کردار ادا کریں گے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر تعلیم سردار شاہ نے کہا کہ آج کا دن ان کے لیے خوشی کا لمحہ ہے کیونکہ تین سال قبل دیکھا گیا خواب آج حقیقت بن چکا ہے۔وزیر تعلیم نے تصدیق کی کہ آئندہ تمام نئے بھرتی ہونے والے اساتذہ کو لائسنس جاری کرنے سے قبل تربیت دی جائے گی اور صرف لائسنس یافتہ اساتذہ کو ہی آئندہ تعینات کیا جائے گا۔انہوںکہا کہ تدریس کو صرف ایک ملازمت نہیں بلکہ ایک خدمت اور ذمہ داری سمجھا جانا چاہیے۔تقریب میں وزیر تعلیم سید سردار شاہ، صوبائی وزیر محمد علی ملکانی، سیکریٹری اسکول ایجوکیشن زاہد عباسی، سفارتکاروں، اراکین صوبائی اسمبلی، ماہرین تعلیم زندگی ٹرسٹ کے شہزاد رائے اور سول سوسائٹی کے ارکان نے شرکت کی۔









