ماسکو ۔ 9 ستمبر (اے پی پی) پاکستان اور تاجکستان نے تجارت، سرمایہ کاری، صنعت و حرفت، ٹرانسپورٹ، زراعت اور سیاحت کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کے فروغ پر اتفاق کیا ہے۔ یہ اتفاق رائے بدھ کو ماسکو میں شنگھائی تعاون تنظیم کی وزراء خارجہ کونسل کے اجلاس کے موقع پر وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی اور تاجکستان کے ان کے ہم منصب سراج الدین مہریدین کے ساتھ ملاقات …
وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی اور تاجکستان کے ان کے ہم منصب سراج الدین مہریدین کے درمیان ملاقات دونوں ملکوں کے مابین تجارت، سرمایہ کاری، صنعت و حرفت، ٹرانسپورٹ، زراعت اور سیاحت کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کے فروغ پر اتفاق، دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط اور مستحکم بنانے کے عزم کا اعادہ

مزید خبریں
ماسکو ۔ 9 ستمبر (اے پی پی) پاکستان اور تاجکستان نے تجارت، سرمایہ کاری، صنعت و حرفت، ٹرانسپورٹ، زراعت اور سیاحت کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کے فروغ پر اتفاق کیا ہے۔ یہ اتفاق رائے بدھ کو ماسکو میں شنگھائی تعاون تنظیم کی وزراء خارجہ کونسل کے اجلاس کے موقع پر وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی اور تاجکستان کے ان کے ہم منصب سراج الدین مہریدین کے ساتھ ملاقات میں طے پایا۔ ملاقات کے دوران دوطرفہ تعلقات، خطہ کی صورتحال سمیت اہم علاقائی و عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں وزراء خارجہ نے دوطرفہ تعلقات کی موجودہ نوعیت پر اظہار اطمینان کرتے ہوئے اسے مزید مضبوط اور مستحکم بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اہم علاقائی و عالمی امور پر ایس سی او سمیت دیگر بین الاقوامی فورمز پر پاکستان اور تاجکستان کے نکتہ نظر میں مماثلت کا پایا جانا خوش آئند ہے۔ پاکستان اور تاجکستان کے مابین مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کے فروغ اور مشترکہ اہداف کے حصول کیلئے مشترکہ وزارتی گروپ اور کثیر الجہتی جوائنٹ ورکنگ گروپس اہم فورمز ہیں۔ دونوں وزراء خارجہ نے تجارت، سرمایہ کاری، صنعت و حرفت، ٹرانسپورٹ، زراعت اور سیاحت کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کے فروغ پر اتفاق کیا۔ دونوں وزراء خارجہ کے مابین افغانستان میں قیام امن کے حوالہ سے کی جانے والی کاوشوں پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان افغان امن عمل سمیت خطہ میں قیام امن کیلئے اپنا مصالحانہ کردار خلوص نیت سے ادا کرتا رہے گا۔ وزیر خارجہ نے اپنے تاجک ہم منصب کو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قابض افواج کی طرف سے جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سے آگاہ کیا اور کہا کہ بھارت بین الاقوامی قوانین کی صریحاً خلاف ورزی کرتے ہوئے لائن آف کنٹرول کی مسلسل خلاف ورزیاں کر رہا ہے اور معصوم شہریوں کو نشانہ بنا رہا ہے، پاکستان عالمی برادری کو بھارتی عزائم سے مسلسل باخبر رکھے ہوئے ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارت اپنی ہندوتوا سوچ کے ذریعے پورے خطہ کے امن و استحکام کو داؤ پر لگانا چاہتا ہے۔ دونوں وزراء خارجہ کے مابین کورونا وبائی صورتحال اور اس وبائی عفریت پر قابو پانے کیلئے اپنائے گئے مؤثر اقدامات پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ دونوں وزراء خارجہ نے دوطرفہ تعاون کے فروغ اور باہمی دلچسپی کے امور پر مشترکہ لائحہ عمل اپنانے کیلئے مشاورتی سلسلہ کو جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ ماسکو میں پاکستان کے سفیر شفقت علی خان اور ایڈیشنل سیکرٹری وزارت خارجہ ظہور احمد بھی اس موقع پر موجود تھے۔








