28.2 C
Islamabad
جمعہ, اپریل 4, 2025
ہومقومی خبریںنئے مالی سال کے وفاقی بجٹ میں معیشت کی سمت کو درست...

نئے مالی سال کے وفاقی بجٹ میں معیشت کی سمت کو درست کرنا اولین ترجیح ہے، وفاقی وزیر خزانہ کی پریس بریفنگ

- Advertisement -

اسلام آباد۔9جون (اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ و محصولات مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ نئے مالی سال کے وفاقی بجٹ میں معیشت کی سمت کو درست کرنا ہماری اولین ترجیح ہے، اللہ کی مہربانی سے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچا لیا، اب ہم استحکام کے راستے پر آ گئے ہیں اور انشاء اللہ جلد استحکام کی منزل پر پہنچ جائیں گے، پائیدار اور جامع اقتصادی نمو کیلئے کوششیں کی جائیں گی تاکہ اس کے نتیجے میں بار بار ادائیگیوں میں توازن اور حسابات جاریہ کے کھاتوں کے خساروں کے مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑے، عمران خان نے بارودی سرنگیں ہماری حکومت کے خلاف نہیں بلکہ ریاست پاکستان کے خلاف لگائی تھیں، ہمارے لئے سب سے بڑا چیلنج 2.4 فیصد کی شرح سے بڑھتی ہوئی آبادی کو روزگار اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی کیلئے جامع اور پائیدار ترقی کے اہداف کا حصول ہے۔

جمعرات کو جاری مالی سال 22-2021 کے اقتصادی جائزہ رپورٹ کے اجراء کے موقع پر وفاقی وزراء خرم دستگیر، احسن اقبال اور وزیر مملکت عائشہ غوث پاشا اور سیکرٹری خزانہ کے ہمراہ پریس بریفنگ میں وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ پاکستان کی معیشت میں جب بھی نمو کی شرح زیادہ آتی ہے تو حسابات جاریہ کے کھاتوں کا خسارہ بڑھنے لگتا ہے، اس وقت بھی گروتھ کی شرح 5.97 فیصد ہے، گروتھ کی شرح نئی بیسنگ کی بنیاد پر ہے، 06-2005 کی بیسنگ کی بنیاد پر گروتھ کی شرح اس سے کم ہے، اس کے نتیجے میں ادائیگیوں کے توازن کا بحران آیا ہے، جاری مالی سال میں درآمدات 70 سے 75 ارب ڈالر تک رہنے کا امکان ہے جو ملکی تاریخ کی بلند ترین شرح ہے، درآمدات میں جاری مالی سال کے دوران 48 فیصد نمو ہوئی ہے، برآمدات میں 28 فیصد کی شرح سے اضافہ ہوا ہے۔

- Advertisement -

وزیر خزانہ نے کہا کہ تجارتی خسارہ کا حجم 45 ارب ڈالر کے لگ بھگ ہے، ہماری برآمدات ہماری درآمدات کے تناسب سے 40 فیصد ہو گئی ہیں، اس صورتحال میں حکومتوں کو قرضے لینے پڑتے ہیں، کووڈ کے دور میں عالمی سطح پر پٹرول اور دیگر مصنوعات کی قیمتیں کم ہو گئی تھیں، اس زمانے میں حسابات جاریہ کے کھاتوں کا خسارہ کم ہوا تھا جبکہ ادائیگیوں میں توازن کا بحران بھی ختم ہوا تاہم جب کووڈ کے بعد دنیا کھل گئی تو حسابات جاریہ کے کھاتوں کا خسارہ بڑھا، اس کے ساتھ ساتھ ادائیگیوں میں توازن کے مسائل بھی سامنے آئے ہیں۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ چین سے رول اوور قرضے کی مد میں 2.5 ارب ڈالر کی معاونت پاکستان کو موصول ہو جائے گی جس کے بعد ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر 12 ارب ڈالر سے تجاوز کر جائیں گے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ نئے مالی سال کے وفاقی بجٹ میں معیشت کی سمت کو درست کرنا ہماری اولین ترجیح ہے، اس وقت عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت 123 ڈالر فی بیرل ہے، اس کی وجہ سے پٹرول اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بھی بہت زیادہ ہو گئی ہیں، اسی تناظر میں حکومت نے دو مرتبہ پٹرول کی قیمت میں 30، 30 روپے فی لیٹر اضافہ کیا، یہ المیہ ہے کہ عمران خان نے جانے سے پہلے پٹرول سستا کر دیا تھا، عمران خان نے لوگوں کو چیک دیئے تھے لیکن اس کیلئے ان کے پاس پیسے نہیں تھے، موجودہ حکومت کو یہ مشکل فیصلے کرنے پڑے، اللہ کی مہربانی سے ہم نے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچا لیا ہے، اب ہم استحکام کے راستے پر آ گئے ہیں اور انشاء اللہ جلد استحکام کی منزل پر پہنچ جائیں گے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ پائیدار اور جامع اقتصادی نمو کیلئے کوششیں کی جائیں گی تاکہ اس کے نتیجے میں بار بار ادائیگیوں میں توازن اور حسابات جاریہ کے کھاتوں کے خساروں کے مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑے، ماضی میں حکومتیں جو غلطیاں کرتی رہیں وہ یہ تھیں کہ وہ صاحب ثروت طبقات کو مراعات دیتی رہیں تاکہ معیشت آگے بڑھے لیکن اس کا نتیجہ یہ نکلتا کہ ہماری درآمدات بڑھ جاتیں کیونکہ امیر آدمی کے زیادہ تر مصارف درآمدی اشیاء پر خرچ ہو جاتے ہیں، ہم یہ سمجھتے ہیں کہ غریب اور متوسط طبقات کو مراعات دینے سے زرعی اور ملکی پیداوار میں اضافہ ہوگا۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ اس وقت ہماری 80 فیصد صنعتیں مقامی کھپت کیلئے مصنوعات تیار کرتی ہیں، نئے مالی سال کے وفاقی بجٹ میں ہماری یہ کوشش ہوگی کہ برآمدی صنعتوں کو زیادہ فروغ دیا جائے۔ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ توانائی کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اس لئے صنعتوں کو گیس کی فراہمی میں مشکلات پیش آ رہی ہیں تاہم یہ بات خوش آئند ہے کہ اس وقت ملک بھر میں صنعتوں کو گیس مل رہی ہے، سابق حکومت اگر بہتان تراشی اور لوگوں کو جیلوں میں ڈالنے کی بجائے کووڈ کے دنوں میں جب دنیا میں ایل این جی اور تیل سستا تھا، طویل المیعاد سودے کرتی تو ہمیں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ نہ کرنا پڑتا، سابق حکومت نے سی پیک کے ساتھ سوتیلے پن کا سلوک کیا ہے، سابق وزیر داخلہ شیخ رشید نے بھی اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ عمران خان نے نئی حکومت کیلئے بارودی سرنگیں بچھائی تھیں، درحقیقت یہ بارودی سرنگیں ہماری حکومت کے خلاف نہیں بلکہ ریاست پاکستان کے خلاف لگائی گئی تھیں، عمران خان نے اس ملک اور اس کی معیشت کو نقصان پہنچایا ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ کووڈ 19 صدی کی وبا ہے لیکن اس نے ہمارے لئے مواقع بھی پیدا کئے تھے جس سے سابق حکومت نے کوئی استفادہ نہیں کیا، پاکستان کو اس وبا سے جانی نقصان کے علاوہ مالی طور پر زیادہ نقصان نہیں پہنچا کیونکہ آئی ایم ایف اور دیگر ادارو ں سے پاکستان کو 4 ارب ڈالر سے زیادہ امداد ملی، اس کے علاوہ جی 20 ممالک کی جانب سے قرضوں کی ری شیڈولنگ اور دیگر مراعات بھی حاصل کی گئیں لیکن سابق حکومت نے اس سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا، اب صورتحال یہ ہو گئی ہے کہ ہم گندم بھی درآمد کر رہے ہیں، 30 لاکھ ٹن گندم کی درآمد کی منظوری دی جا چکی ہے اور اس ضمن میں روس سے حکومتی سطح پر گندم کی خریداری کیلئے کام ہو رہا ہے، 2017-18 میں ہم چینی اور گندم برآمد کر رہے تھے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ براہ راست بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ہماری اولین ترجیح ہے، اسی طرح محصولات کے حجم اور بنیاد میں وسعت کیلئے اقدامات کئے جائیں گے، 2017-18 میں جی ڈی پی کے لحاظ سے ٹیکسوں کی شرح 11.1 فیصد تھی، پی ٹی آئی کے تین سالوں میں یہ ہدف حاصل نہ ہو سکا، نئی ری بیسنگ کے تحت جی ڈی پی کے حساب سے ٹیکسوں کی شرح 8.5 فیصد ہے، ایک جوہری ملک کیلئے جی ڈی پی کے تناسب سے ٹیکسوں اور برآمدات کی شرح 15، 15 فیصد ہونا ضروری ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ ہماری برآمدات بہت کم ہے، وفاقی حکومت کا خسارہ 5100 ارب روپے سے زیادہ ہے، عمران خان کی حکومت نے 20 ہزار ارب روپے کا قرضہ چار برسوں میں لیا، ہمارے 19 وزراء اعظم اور صدور نے جتنا قرضہ لیا ہے اس کا 80 فیصد صرف عمران خان نے حاصل کیا ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ نئے مالی سال میں قرضوں کی مد میں 3100 ارب روپے جبکہ سود کی مد میں 3900 ارب روپے کی واپسی کرنا ہوگی، پی ٹی آئی کے پہلے سال میں مالیاتی خسارہ 9.1 فیصد تھا، دوسرے سال میں منفی گروتھ ہوئی جبکہ جی ڈی پی کے تناسب سے ٹیکسوں کی شرح بھی کم ہوئی۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ ہمارے لئے سب سے بڑا چیلنج 2.4 فیصد کی شرح سے بڑھتی ہوئی آبادی کو روزگار اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی کیلئے جامع اور پائیدار ترقی کے اہداف کا حصول ہے، نئے مالی سال کے وفاقی بجٹ میں ہماری کوشش ہوگی کہ گروتھ جامع اور پائیدار ہو تاکہ ہمیں حسابات جاریہ کے کھاتوں کے خسارہ اور ادائیگیوں میں توازن جیسے بحرانوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ایک سوال پر وزیر خزانہ نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ ہمارے مذاکرات چل رہے ہیں، بجٹ کے بعد آئی ایم ایف کے ساتھ سٹاف لیول کا معاہدہ ہو جائے گا، ہم بجٹ میں ملکی مفاد میں ایسی اصلاحات متعارف کرائیں گے جو آئی ایم ایف کو بھی پسند آئیں گی، ہم نے آئی ایم ایف کے ساتھ درست اعدادوشمار شیئر کئے ہیں۔ وزیر خزانہ نے آئی پی پیز کو ادائیگیاں روکنے کی خبروں کی بھی تردید کی۔ انہوں نے کہا کہ نئے مالی سال کے وفاقی بجٹ میں کفایت شعاری کو فروغ دیا جائے گا تاہم مہنگائی کے تناسب سے ان سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے گا جن کی تنخواہوں میں پہلے اضافہ نہیں ہوا ہے۔

وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی، اصلاحات و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے اس موقع پر کہا کہ اقتصادی جائزہ رپورٹ 2022 میں ہماری حکومت کے صرف دو ماہ ہیں، اس میں اہداف اور حقیقی اعدادوشمار کا آپس میں ملاپ نہیں ہے کیونکہ جب اہداف رکھے گئے تو اس کے بعد ری بیسنگ کی گئی، اگر جس بنیاد پر اہداف رکھے گئے ہیں اس کے مطابق تعین کیا جائے تو اعدادوشمار تبدیل ہو جائیں گے۔ وزیر منصوبہ بندی نے کہا کہ سرکاری شعبہ کی سرمایہ کاری اور مالیات کا کسی بھی ملک کی ترقی اور خوشحالی پر براہ راست اثر ہوتا ہے کیونکہ اس سے نجی شعبہ کی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جاری مالی سال کیلئے پی ایس ڈی پی کا حجم 900 ارب روپے رکھا گیا تھا جسے پہلے 700 ارب روپے کر دیا گیا اور جب سابق حکومت ختم ہوئی تو اس کا حجم 550 ارب روپے پر آ گیا حالانکہ 2018 میں مسلم لیگ (ن) نے ایک ہزار ارب روپے کا پی ایس ڈی پی چھوڑا تھا، ہم نے اس دور میں دفاع اور ترقیاتی بجٹ کو برابر رکھا تھا اور اس کیلئے وسائل بھی خود فراہم کئے تھے، آج پاکستان کے مستقبل کا انحصار ایک مضبوط دفاع کے ساتھ ساتھ مضبوط معیشت پر بھی ہے، اگر ہم نے اپنے نوجوانوں پر وسائل نہ لگائے تو اس کا انجام محرومیوں کی صورت میں نکلے گا اور ہمارے نوجوان انتہاپسندی کی جانب مائل ہوں گے، وژن 2025 میں متوازن نمو کی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔

احسن اقبال نے کہا کہ 2013 میں ملک میں بجلی نہیں تھی جبکہ امن و امان کی صورتحال بھی مخدوش تھی، 2017-18 میں لوڈشیڈنگ پر قابو پایا جا چکا تھا، ہمارے پاس فاضل بجلی تھی، اسی دور میں چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) پر عملی کام شروع ہوا، سی پیک ہماری پہچان بن گیا، کئی ممالک کے سفیر مجھ سے ملنے آتے اور کہتے کہ ہم کہاں سرمایہ کاری کر سکتے ہیں، بدقسمتی سے اس وقت نیا پاکستان کا ایگزٹ لیا گیا اور چار برسوں میں پاکستان کی معیشت کو برباد کر دیا گیا، اب ہم دوبارہ پٹڑی پر چڑھ رہے ہیں لیکن اس کی قیمت ادا کرنا پڑ رہی ہے، کوئی بھی حکومت یہ نہیں چاہتی کہ وہ تیل کی قیمت بڑھا کر عوام پر بوجھ ڈالے، ہم نے ایک ماہ تک انتظار کیا کہ ہم کس مد میں بچت کرکے لوگوں کو قیمتوں میں اضافے سے بچا سکتے ہیں لیکن پتہ چلا کہ لوگوں کے ساتھ سابق حکومت نے جو فراڈ کیا تھا اس میں وسائل ہی نہیں تھے۔

احسن اقبال نے کہا کہ جب ہمارا روپیہ کمزور ہونے لگا تو بالآخر ہم نے فیصلہ کیا کہ سیاسی فائدے کیلئے ملک کے مستقبل کے ساتھ نہیں کھیلا جا سکتا، پی ٹی آئی کی مس گورننس کی وجہ سے یہ مشکل فیصلہ لینا پڑا۔ احسن اقبال نے کہا کہ ترقیاتی عمل اور ترقیاتی بجٹ کو بڑھانا ہمارے لئے ایک بڑا چیلنج ہے، یہ ہم اس وقت کر سکتے ہیں جب ہماری معیشت پائیدار بنیادوں پر استوار ہو، بحیثیت قوم ہمیں سنجیدگی سے سوچنا ہے کہ ہمیں علاقائی ممالک کے برابر یا اس سے زیادہ ترقی کی شرح کو حاصل کرنا ہے، اسی مقصد کیلئے وزیراعظم نے میثاق معیشت کا تصور دیا ہے، وزات منصوبہ بندی کے زیراہتمام ایک کانفرنس بلائی جا رہی ہے جس میں تمام شعبوں کے ماہرین اور نجی شعبہ کے شراکتداروں کو بلایا جائے گا، سمندر پار ذہین اور کامیاب پاکستانیوں کو بھی مدعو کیا جائے گا اور انہیں چیمپئن آف ریفارمز کی حیثیت دی جائے گی، ہمیں پاکستانی بن کر سوچنا چاہئے، پاکستان منفی اور تخریبی سیاست کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

انہوں نے کہا کہ ہماری پہلی ترجیح انسانی وسائل کی ترقی ہے، اس مقصد کیلئے ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے بجٹ میں 67 فیصد اضافہ کر دیا گیا ہے، ایچ ای سی کے بجٹ کو 26.3 ارب روپے سے بڑھا کر 44.2 ارب روپے کر دیا گیا ہے، سی پیک کے منصوبوں کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے، گزشتہ حکومت نے گوادر کی بندرگاہ کی ڈریجنگ نہیں کی جس کی وجہ سے وہاں بڑا جہاز لنگر انداز نہیں ہو سکتا، اسی طرح ایم ایل ون منصوبہ پر چار سال تک سیاست ہوتی رہی، سی پیک کے تحت 9 اقتصادی زونز قائم کرنا تھے، 9 میں سے 5 زونز پر کام شروع نہیں ہوا، 4 زونز 2027 میں مکمل ہونے ہیں، وزیراعظم نے ایک سے دو سال کے عرصہ میں ان زونز کو مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔

احسن اقبال نے کہا کہ توانائی، پانی و آبی وسائل اور غذائی تحفظ نئے مالی سال کے بجٹ کے اہم ترجیحی شعبے ہیں، دیامیر بھاشا ڈیم، مہمند ڈیم اور اس طرح کے دیگر منصوبوں کیلئے بجٹ میں رقوم مختص کر دی گئی ہیں، چشمہ رائٹ کینال، لیفٹ کم گریویٹی منصوبے کی منظوری دی گئی ہے اور کوشش ہے کہ یہ منصوبہ رواں سال مکمل ہو، وزیراعظم نے پہلی بار کم ترقی یافتہ اضلاع کیلئے 40 ارب روپے کا فنڈ قائم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صنعتی ترقی کو فروغ دینے کیلئے اقدامات کئے جائیں گے، اسی طرح این ایچ اے اور ریلویز کیلئے فنڈنگ میں اضافہ کیا جا رہا ہے، ٹیکنالوجی اور اختراع پر توجہ دی جا رہی ہے، اس کیلئے خصوصی پیکج دیا گیا ہے، کاروبار کرنے والی خواتین کی حوصلہ افزائی کیلئے اقدامات کئے جائیں گے، نوجوان اور بلوچستان کی ترقی بجٹ کے اہم اہداف ہیں، پی ایس ڈی پی میں بلوچستان کو سب سے زیادہ حصہ دیا گیا ہے۔

احسن اقبال نے کہا کہ ہمیں پاکستان کو ایک سمت دینی ہے، برآمدات اور براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری میں اضافہ پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس ریونیو میں اضافہ کیلئے اقدامات کریں گے، ہم نجی شعبہ کے ساتھ مل کر ملک کیلئے ایک روڈ میپ دیں گے۔ ایک سوال پر احسن اقبال نے کہا کہ وزیراعظم نے ملک کو تیزی سے ترقی کرتی ہوئی نمو پر ڈالنے کی ہدایت کی ہے، معروضی حالات میں ہمیں دوراندیشی سے آگے بڑھنا ہے اور متوازن طریقے سے اہداف حاصل کرنا ہیں۔

احسن اقبال نے کہا کہ اگر ہم گزشتہ چار برسوں میں 6 فیصد کی گروتھ پر چلتے تو اس کے مطابق بجلی دستیاب تھی۔ اس موقع پر وفاقی وزیر توانائی خرم دستگیر نے کہا کہ توانائی کے شعبہ میں ہمیں کئی چیلنجز کا سامنا ہے، دسمبر میں سابق حکومت نے ایندھن کی خریداری بند کر دی تھی جس کی وجہ سے جب اپریل میں موجودہ حکومت حلف اٹھا رہی تھی تو 6000 میگاواٹ کے حامل پلانٹس بند تھے، پاور ڈویژن میں 2470 ارب روپے کا گردشی قرضہ ہے، 2018 میں ہماری حکومت کے خاتمے پر گردشی قرضہ 1100 ارب روپے تھا، گردشی قرضے میں چار برسوں میں 250 فیصد اضافہ ہوا ہے، اس سے گھمبیر صورتحال پیدا ہوئی ہے،

نالائقی اور بدانتظامی کے چار سالہ دور میں اس مسئلے کو حل کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی، مسلم لیگ (ن) کی گزشتہ حکومت کے دور میں 11600 میگاواٹ کی بجلی سسٹم میں شامل کر دی جبکہ 20000 کلومیٹر ٹرانسمیشن لائن کی توسیع بھی ہوئی، ہم نے طلب سے زیادہ بجلی پیدا کی، آج بھی یہ تخمینہ ہے کہ اگر ہم درست طریقے سے آگے بڑھتے تو ہر سال ایک سے لے کر 2 ہزار میگاواٹ تک بجلی سسٹم میں شامل ہونی تھی لیکن بدقسمتی سے گزشتہ چار برسوں میں قومی گرڈ میں ایک میگاواٹ بجلی بھی شامل نہیں کی گئی، گزشتہ چار برسوں میں بجلی اور توانائی کے جن منصوبوں کا افتتاح ہوا وہ سارے مسلم لیگ (ن) کے دور کے منصوبے تھے، ہماری حکومت نے آر ایل این جی کے تین پلانٹس لگائے، کے 2 اور کے 3 نیوکلیئر پاور پلانٹس لگائے گئے، پہلی مرتبہ کمرشل بنیادوں پر تھرکول منصوبے سے فائدہ اٹھایا گیا، اینگرو 650 میگاواٹ کی بجلی پیدا کر رہا ہے،

تریموں پر پاور پلانٹ بنا رہے تھے مگر اس کو نیب گردی کی نظر کر دیا گیا، اس وقت شنگھائی الیکٹرک، تریٹ اور کروٹ پاور پلانٹس بند ہیں جس کی وجہ سے لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے۔ خرم دستگیر نے کہا کہ بجلی کے شعبہ میں بہتری کیلئے کام کر رہے ہیں، ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ درآمدی ایندھن کے حامل پاور پلانٹس نہیں لگائے جائیں گے۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ 2013 میں کوئلے سے بجلی بنانے کے منصوبے اس لئے شروع کئے گئے کیونکہ اس وقت کوئلہ سب سے سستا ایندھن تھا۔ انہوں نے کہا کہ کووڈ میں آر ایل این جی اور پٹرول کی قیمت کم ترین سطح پر آ گئی تھی مگر اس وقت عالمی مارکیٹ میں اس کی قیمت بہت زیادہ ہے، توانائی کا پورا منظرنامہ تبدیل ہوا ہے، اب ہم سستے ایندھن سے بجلی پیدا کرنے کو ترجیح دیں گے، ہماری مستقل یہ کوشش ہے کہ عوام کیلئے بہترین فیصلے کئے جائیں۔

 

Short Link: https://urdu.app.com.pk/urdu/?p=311437

- Advertisement -
متعلقہ خبریں
- Advertisment -

مقبول خبریں