اسلام آباد۔29جولائی (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ انسانی سمگلنگ عالمی سطح پر ایک منظم جرم کی شکل اختیار کر گیا ہے،وفاقی حکومت نے انسانی سمگلنگ اور اس سے جڑے افسوسناک واقعات کی بروقت روک تھام کے لئے ایک خصوصی ٹاسک فورس بنائی ہے تاکہ مجرمان کو کیفر کردار تک پہنچایا جا سکے،آج کا دن تجدید عزم کا بہترین موقع ہے کہ وفاقی حکومت، صوبائی حکومتیں، …
وفاقی حکومت نے انسانی سمگلنگ اور اس سے جڑے افسوسناک واقعات کی بروقت روک تھام اور مجرما ن کو کیفر کردار تک پہنچانے کیلئے خصوصی ٹاسک فورس بنائی ہے، وزیراعظم محمد شہباز شریف کا انسانی سمگلنگ کے خلاف عالمی دن پر پیغام
اسلام آباد۔29جولائی (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ انسانی سمگلنگ عالمی سطح پر ایک منظم جرم کی شکل اختیار کر گیا ہے،وفاقی حکومت نے انسانی سمگلنگ اور اس سے جڑے افسوسناک واقعات کی بروقت روک تھام کے لئے ایک خصوصی ٹاسک فورس بنائی ہے تاکہ مجرمان کو کیفر کردار تک پہنچایا جا سکے،آج کا دن تجدید عزم کا بہترین موقع ہے کہ وفاقی حکومت، صوبائی حکومتیں، وزارت خارجہ، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور انٹیلی جنس ادارے باہمی اشتراک سے انسانی سمگلنگ کے مکروہ جرم کے تدارک میں اپنا مثالی کردار ادا کرتے رہیں گے۔منگل کو وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق انسانی سمگلنگ کے خلاف عالمی دن پر وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اپنے پیغام میں کہا کہ ہر سال انسانی سمگلنگ کے خلاف عالمی دن اس بھیانک جرم کی روک تھام کے ساتھ ساتھ اس کے محرکات اور مکروہ اثرات کو اجاگر کرنے اور عوامی آگہی کے لئے منایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسانی سمگلنگ کے خلاف عالمی دن اس سال "انسانی سمگلنگ ایک منظم گروہی جرم- استحصال کا خاتمہ”کے عنوان سے منایا جا رہا ہے،جرائم پیشہ افراد دنیا بھر میں فکر معاش میں مبتلا روزگار کے متلاشی شہریوں کو انسانی سمگلنگ کے ذریعے استحصال کا نشانہ بناتے ہیں،انسانی سمگلنگ عالمی سطح پر ایک منظم جرم کی شکل اختیار کر گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی برسوں میں پاکستان کے تارکین وطن کے غیر قانونی طور پر بیرون ملک جانے کی کوشش میں سمندر برد ہونے کے افسوسناک واقعات نے انسانی سمگلنگ کے خطرناک اور مکروہ چہرے کو مزید بے نقاب کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے انسانی سمگلنگ اور اس سے جڑے افسوسناک واقعات کی بروقت روک تھام کے لئے ایک خصوصی ٹاسک فورس بنائی تاکہ مجرمان کو کیفر کردار تک پہنچایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ یہ امر قابل اطمینان ہے کہ ٹاسک فورس نے نہایت تندہی اور حکمت سے انسانی سمگلنگ کے گھمبیرجرم کی وجوہات، محرکات اور اثرات کے سد باب کے لئے موثر طور پر کام کیا۔انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت اور بالخصوص قانون نافذ کرنے والے ادارے، ایف آئی اے اور انٹیلی جنس بیورو نے انسانی سمگلنگ کے گروہوں کی کاروائیوں کو قابل تحسین حد تک کم کیا ہے، ان واقعات میں ملوث سرکاری اہلکاروں کو بھی قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا گیا۔شہباز شریف نے کہا کہ حکومت عوام کو بیرون ملک روزگار کے مواقع اور ان کے قانونی طور پر حصول کے بارے میں آگہی پیدا کرنے کے حوالے سے اپنے فرائض سے غافل نہیں، حکومت پاکستان اپنے شہریوں کی معاشی ترقی کے لئے اندرون و بیرون ملک بہترین معاشی مواقع پیدا کرنے کے لئے بھرپور کام کر رہی ہے لیکن بہتر مستقبل کے حصول کی کوشش میں کسی بھی گمراہ کن راستے کو اختیار کرنا نہ صرف اپنی جان کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے بلکہ ملکی اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی بھی ہے۔
وزیراعظم نےکہا کہ پاکستان انسانی سمگلنگ روکنے کے حوالے سے تمام کلیدی فورمز میں فعال طور پر حصہ لیتا ہے جن میں بدا پسٹ پراسیس،سلک روٹ کے ممالک،بالی پراسیس،جنوب مشرقی ایشیا، آسٹریلیا، اور نیوزی لینڈ شامل ہیں اور سٹارسم پروجیکٹ جو افریقہ اور امریکہ تک پھیلا ہوا ہے۔ ان پلیٹ فارمز کے ذریعے ہم علاقائی تعاون بڑھانے کے ساتھ ساتھ سمگلنگ کو روکنے اور اپنے معاشرے کے معاشی طور پر کمزور طبقے کی حفاظت کے لئے اپنی اجتماعی کوششوں کو مضبوط کر رہے ہیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ آج کا دن تجدید عزم کا بہترین موقع ہے کہ وفاقی حکومت، صوبائی حکومتیں، وزارت خارجہ، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور انٹیلی جنس ادارے باہمی اشتراک سے انسانی اسمگلنگ کے مکروہ جرم کے تدارک میں اپنا مثالی کردار ادا کرتے رہیں گے، پاکستان عالمی سطح پر بھی اس قبیح جرم کے تدارک کے حوالے سے اپنا موثر کردار ادا کرنے کے لئے پرعزم ہے









