اسلام آباد۔30نومبر (اے پی پی):وفاقی حکومت نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی (ترمیمی ) آرڈیننس2023 ، پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (ترمیمی) آرڈیننس2023 ،پا کستان پوسٹل سروسز مینجمنٹ بورڈ (ترمیمی) آرڈیننس 2023اور پاکستان براڈ کاسٹنگ کارپوریشن (ترمیمی) آرڈیننس 2023 کا اجرا ء کردیا ہے ۔
متعلقہ وزارتوں کے سیکرٹریز نے ان آرڈیننسز کی فوری ضرورت پر صدر مملکت کو بریفنگ دی جیسا کہ ان چار ریاستی ملکیت انٹرپرائزز(ایس او ای) کےحوالے سے رواں سال جولائی میں آئی ایم ایف کے ساتھ اتفاق رائے ہوا تھا ۔ پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے جمعرات کو جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق ان اداروں کے قوانین میں ترامیم جن پر صدر مملکت نے دستخط کئے ہیں، انہیں جنوری 2023 میں نافذ کر دہ ریاستی ملکیتی اداروں( گورننس اینڈ آپریشن)ایکٹ 2023 کے مطابق لانے کے لئے کی گئی ہیں ۔ خدمات کی فراہمی کے معیار کو بڑھانے اور مالیاتی نظم و ضبط لاکر ایس او ایز کی گورننس اور آپریشنز کو بہتر بنانا ہے ۔
حکومت اب ایس او ای قانون کی دفعات کو ایسے اداروں تک توسیع دینے کے عمل میں ہے جو خصوصی قوانین کے تحت چلتی ہیں اس سے ان کے آپریشنز موثر اور شفاف ہوں گے ۔ یہ ترامیم ریاستی ملکیتی اداروں (ایس او ای) اصلاحات کا حصہ ہیں جن پر حکومت پاکستان نے بین الاقوامی شراکت داراروں کے ساتھ اتفاق کیا ہے اور آئی ایم ایف اور ایس بی اے میں ایک بنچ مارک کے طور پر شامل ہیں ۔نئی ترامیم کے ذریعے بورڈ کے چیئرمین اور چیف ایگزیکٹو کے دفاتر کو مذکورہ بالا تمام اداروں میں الگ کر دیا جائے گا تاکہ بین الاقوامی بہترین طریقوں کے مطابق بہترین گورننس کو یقینی بنایا جا سکے۔ ان اداروں کے بورڈز میں آزاد اراکین کو شامل کیا جائے گا جو فیصلہ سازی کے عمل میں نئے تصورات اور آزادانہ مہارت کا اضافہ کریں گے۔
آزاد ارکان کی مدت ملازمت کی حفاظت کو بھی یقینی بنایا گیا۔ یہ ترامیم ایس او ایز ایکٹ کی دیگر شقوں کے اطلاق کے علاوہ سینٹرل مانیٹرنگ یونٹ کی کارکردگی اور سالانہ بزنس پلان کی تیاری سمیت عوامی آگاہی کو بھی یقینی بنائیں گی ۔یہ یونٹ وزارت خزانہ میں قائم کیا گیا ہے جس کا مقصد ایس او ایز کی کارکردگی کا جائزہ لینا، سالانہ بزنس پلان کی تیاری اور عوام کو آگاہ کرنے کے لئے پبلک رپورٹس تیار کرنا ہے ۔
ان اقدامات سے ان ایس او ایز کی فعالیت ، نگرانی اور شفافیت کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی ۔ سی ایم یو کابینہ کمیٹی برائے سٹیٹ اونڈ انٹرپرائزز کی کارکردگی کے حوالے سے باقاعدگی سے رپورٹ پیش کرے گا ،اس طرح وفاقی حکومت کی ان ایس او ایز کی کمزوریوں اور خوبیوں کو واضح کیاجاسکے گا ۔ مجموعی طور پر ان سرکاری اداروں کے قوانین میں ترامیم سے بہتر طرز حکمرانی ،خدمات کی فراہمی اور عوام کو جوابدہی یقینی ہوسکے گی۔
Short Link: https://urdu.app.com.pk/urdu/?p=415457