اسلام آباد۔24اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ کم سے کم ضروریات پر مبنی منصوبے تیار کیے جائیں تاکہ فنڈز کی بروقت فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے، تمام منصوبوں کو موجودہ مالی مشکلات کے پیش نظر مضبوط اقتصادی اور مالی جواز فراہم کرنا ہوگا۔ انہوں نے مالی بوجھ کو کم کرنے اور عملی عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے ایک موثر نظام کی تشکیل پر بھی زور دیا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیراعظم کی کمیٹی برائے منصوبہ بندی اور غیر ملکی فنڈز سے چلنے والے ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔
اجلاس میں سیکرٹری منصوبہ بندی اویس منظور سمرا، سیکرٹری اقتصادی امور ڈویژن (ای اے ڈی)، ممبر انفراسٹرکچر وقاص انور اور وزارت منصوبہ بندی کے دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی جبکہ وفاقی وزیر برائے ای اے ڈی احد چیمہ نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔اجلاس میں غیر ملکی فنڈز سے چلنے والے منصوبوں کی منصوبہ بندی اور عملدرآمد سے متعلق امور اور پالیسی گائیڈ لائنز کو اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے فیصلوں کے مطابق بہتر بنانے کی ضرورت پر تفصیلی غور کیا گیا۔بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ مالی وسائل کی قلت اور ترقیاتی منصوبوں کی بڑھتی ہوئی طلب کے چیلنجز کو موجودہ مالی سال میں حل کرنے کی ضرورت ہے۔ مختلف وزارتوں نے 2,900 ارب روپے کے ترقیاتی بجٹ کا مطالبہ کیا تھا جبکہ منظور شدہ ترقیاتی بجٹ 1,100 ارب روپے کا ہے۔ پی ایس ڈی پی کا موجودہ حجم 1,100 ارب روپے ہے جس میں 220 ارب روپے کا غیر ملکی فنڈز بطور روپے کی سہولت شامل ہے۔ مالی وسائل کی کمی کی وجہ سے زیر التواء منصوبوں میں 10 گنا اضافہ ہوا ہے جس کے ساتھ ساتھ انتظامی اور عملدرآمد کے چیلنجز بھی درپیش ہیں۔اجلاس کے دوران وفاقی وزیر احسن اقبال نے اس بات پر زور دیا کہ کم سے کم ضروریات پر مبنی منصوبے تیار کیے جائیں تاکہ فنڈز کی بروقت فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔
انہوں نے زور دیا کہ تمام منصوبوں کو موجودہ مالی مشکلات کے پیش نظر مضبوط اقتصادی اور مالی جواز فراہم کرنا ہوگا۔ انہوں نے مالی بوجھ کو کم کرنے اور عملی عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے ایک موثر نظام کی تشکیل پر بھی زور دیا۔وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ پی ایس ڈی پی کے تمام منصوبے، بشمول غیر ملکی فنڈز سے چلنے والے منصوبے، مقررہ مدت کے اندر مکمل ہونے چاہئیں اور ان کی واضح ملکیت ہونی چاہیے تاکہ لاگت اور وقت کے ضیاع سے بچا جا سکے۔ انہوں نے غیر ملکی فنڈز سے چلنے والے منصوبوں سے وابستہ اقتصادی اور مالی خطرات کی موثر مینجمنٹ کی اہمیت پر زور دیا، کیونکہ زر مبادلہ کی شرح میں اتار چڑھائو قرضوں کی واپسی پر اثر انداز ہو سکتا ہے اور حکومتی مالیات پر اضافی بوجھ ڈال سکتا ہے۔وفاقی وزیر احسن اقبال نے ای اے ڈی کو ہدایت کی کہ وہ متعلقہ وزارتوں اور ڈویژنوں کے ساتھ مشاورت کے بعد بجٹ کی حقیقت پسندانہ طلب تیار کریں تاکہ وزارت خزانہ کے ساتھ مل کر ترقیاتی منصوبوں کے لیے درکار فنڈز کی دستیابی کا اہتمام کیا جا سکے۔
Short Link: https://urdu.app.com.pk/urdu/?p=516633