اسلام آباد ۔ 2 جولائی (اے پی پی) وفاقی وزیر اطلاعات،نشریات ،قانون ،انصاف و پارلیمانی امور بیرسٹر سید علی ظفر نے فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کو صدی کا سب سے بڑا فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ فاٹا کے کے پی کے میں انضمام کے دوران کسی قسم کی آئینی یا قانونی خلاف ورزی نہیں ہوئی، نگران وزیراعظم کی جانب سے فاٹا کے انضمام کے بعد سہولیات …
وفاقی وزیر اطلاعات،نشریات ،قانون ،انصاف و پارلیمانی امور بیرسٹر سید علی ظفر کی فاٹا انضمام کے بعد سہولیات سے متعلق پیش رفت کے حوالے سے میڈیا کو بریفنگ

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 2 جولائی (اے پی پی) وفاقی وزیر اطلاعات،نشریات ،قانون ،انصاف و پارلیمانی امور بیرسٹر سید علی ظفر نے فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کو صدی کا سب سے بڑا فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ فاٹا کے کے پی کے میں انضمام کے دوران کسی قسم کی آئینی یا قانونی خلاف ورزی نہیں ہوئی، نگران وزیراعظم کی جانب سے فاٹا کے انضمام کے بعد سہولیات کی فراہمی کے لئے میری قیادت میں بنائی گئی کمیٹی اور صوبائی کمیٹی کا مشترکہ اجلاس (بدھ) کو پشاور میں ہوگاجس میں فاٹا کے انضمام کے بعد سہولیات کی فراہمی کے ایجنڈے کو حتمی شکل دی جائے گی ،فاٹا کے عوام کو سہولیات فراہم کرنے کے لئے صوبائی حکومت آرڈیننس کا اجراءکریگی، دونوں کمیٹیاں آرڈیننس کے ڈرافٹ کو مشاورت سے حتمی شکل دیں گی ،فاٹا میں ضلعی عدالتوں ،انتظامی یونٹس کے قیام ،لیویز فورس کو مرحل وار پولیس میں منتقلی اور انفراسٹرکچر کو مکمل کیا جائے گا ،نگران حکومت 25جولائی کو صاف اور شفاف الیکشن کا انعقاد یقینی بنائے گی ،صاف شفاف الیکشن نظر بھی آئے گا ،وفاق یا صوبائی حکومت میں شامل کابینہ کے اراکین میں کوئی بھی فیورٹ ازم نہیں کر رہا، نگران حکومت کسی بھی تحقیقاتی ایجنسی کی کارروائی یا عدالتی ٹرائل میں مداخلت نہیں کریگی اور نہ ہی اسکا کوئی جواز بنتا ہے ،نواز شریف اور مریم نواز کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کے لئے نیب کی درخواست کابینہ کی سب کمیٹی کے پاس ہے اس پر غور جاری ہے ،حتمی فیصلہ نواز شریف اور مریم نواز کی وطن واپسی کے بعد کیا جائے گا ،کسی بھی ملک سے ملزمان کے تبادلہ کا معاہدہ ہونے پر کسی بھی تحقیقاتی ایجنسی کی درخواست پر انٹرپول کے ذریعے ملزمان پاکستان لائے جاسکتے ہیں ،برطانیہ کے ساتھ پاکستان کا ملزمان کے تبادلے کا کوئی معاہدہ نہیں ہے،ایمنسٹی سکیم کے ذریعے 100 ارب روپے جمع ہوئے ہیں ۔وہ پیر کو وزارت پارلیمانی امور میں فاٹا انضمام کے بعد سہولیات سے متعلق پیش رفت کے حوالے سے میڈیا کو بریفنگ دے رہے تھے ۔







